کشمالہ جھوٹی ہیں، گاڑی اذلان ہی چلارہا تھا

اسلام آباد جی الیون سگنل پر ہونے والے ٹریفک حادثے میں بچ جانے والے عینی شاہد مجیب الرحمان نے مزید انکشافات کیے اور کشمالہ طارق کو جھوٹا قرار دے دیا ۔
اسلام آباد میں ہونے والے ٹریفک حادثےمیں بچ جانے والے اور مقدمہ کے مدعی مجیب الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پانچوں دوست ٹیسٹ دینے اسلام آباد جارہے تھے ، سری نگرہائی وے پر سگنل بند تھا، پراڈو گاڑی نے ہماری گاڑی کو ٹکر ماری اور میں گاڑی سے نیچے گرگیا۔مجیب الرحمان نے آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ جب میں نے دیکھا تو گاڑی کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان چلارہا تھا۔ مجیب الرحمان نے کہا کہ کشمالہ طارق کی طرف سے جو باتیں کی جارہی ہیں وہ سب جھوٹی ہیں ، گاڑی اُن کا بیٹا اذلان ہی چلارہا تھا اور میں نے اسے گاڑی چلاتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔
اس حادثے میں میرے ساتھ موجود میرے 4 دوست جاں بحق ہو گئے۔
مجیب الرحمان نے اپنے بیان میں انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔ عینی شاہد مجیب الرحمان کا بیان سامنے آنے پر کشمالہ طارق اور ان کے ڈرائیور کے اعترافی بیان کو پول کُھل گیا ہے۔ پولیس نے کشمالہ طارق کے ڈرائیور کو حراست میں لے رکھا ہے جس نے پولیس کو دئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ حادثے کا سبب بننے والی گاڑی کو میں چلا رہا تھا، ڈارئیور نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ گاڑی کی رفتار 100 سے زائد تھی اور اشارہ سرخ نہیں ہوا تھا۔
میرا خیال تھا کہ گاڑی نکل جائے گی لیکن گاڑی اور موٹرسائیکل اچانک سامنے آ گئے اور حادثہ ہو گیا۔ ڈرائیور اور عینی شاہد کے بیان میں تضادات کو دیکھ کر ایک بات صاف ظاہر ہے کہ ڈارئیور بھی نمک حلال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈرائیور نے حادثے کا سارا الزام اپنے اوپر لے لیا اور مبینہ دباؤ کے باعث پولیس کو اعترافی بیان بھی دے دیا۔
تاہم عینی شاہد مجیب الرحمان کا بیان سامنے آنے کے بعد جھوٹ کی قلعی کُھل گئی۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر تیز رفتارگاڑی نے 6 افراد کوکچل دیا تھا، حادثے میں 4 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے جبکہ کار سوار فرار ہو گیا تھا۔ حادثے کا باعث بننے والی گاڑی وفاقی محتسب کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان چلا رہا تھا۔ جبکہ گاڑی میں وفاقی محتسب کشمالہ طارق اور ان کے شوہربھی موجود تھے۔
پولیس کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کی گرفتاری کے لیے تاحال کوئی کارروائی نہیں کر سکی۔ تیز رفتارگاڑی کی ٹکر سے 4 افراد کی موت کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا ، ایف آئی آر میں کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اذلان خان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔
