کشمیری عوام کی حمایت کیلئے آج یوم یکجہتیِ کشمیر منایا جارہا ہے

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جارہا ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ان کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی حمایت کا اظہار کرنا ہے۔
اس دن مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر بھارت اور اس کی افواج کی جانب سے ڈھائے جانے والے سنگین مظالم کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان آزاد جموں وکشمیر میں کوٹلی کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ جب کہ اسلام آباد، مظفر آباد، گلگت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں یکجہتی واکس کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے کوہالہ پل اور دوسرے اہم مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی اور ملک کے مختلف حصوں میں ریلیوں، جلسوں، سیمینارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد اور بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن اور نجی ٹی وی چینلز مقبوضہ میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلیے خصوصی پروگرام نشر کریں گے۔
واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا تھا جب کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرتے ہوئے اسے 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا جس کا اطلاق گزشتہ سال 31 اکتوبر سے ہوگیا تھا۔ آج کے دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملنے تک کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے 5 اگست 2019 کے بعد سے مسلسل مواصلاتی بندشوں اور غیر انسانی فوجی محاصروں کا سامنا کرنے والے کشمیری بہن بھائیوں کی حمایت کے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تفتیش کےلیے بین الاقوامی اداروں اور میڈیا کو رسائی دی جائے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے تحت حل جنوبی ایشیا میں امن کےلیے ضروری ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اقوام ِ متحدہ کے چارٹر میں حقِ خود ارادیات کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے اور اس حق کا نا ملنا اور کشمیری عوام کو سبوتاژ کرنا انسانی وقار کی نفی ہے۔ عارف علوی نے مزید کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے آبادیاتی امتیاز بین الاقوامی قوانین کی مزید خلاف ورزی ہے جب کہ کشمیریوں کی اکثریت کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر اقلیت بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانے تنازعات میں سے ہے، یہ تنازع بھارتی ہٹ دھرمی ، وعدوں کی پاسداری سے انکار، بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بے توقیری کی وجہ سے حل نہیں ہوسکا۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر اسکا محاسبہ کرے۔ بھارت خطے کی سلامتی کے لیے نقصان دہ یک طر فہ اور غیر قانونی کارروائیوں اورمقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کے ”ہندوتوا“ ایجنڈے کے نفاذ سے باز رہے ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو ظلم و جبر سےمزید قید نہیں رکھا جا سکتام آج کا کشمیری نوجوان اپنی آزادی کےلیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے،ان شااللہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیری اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں گے۔ اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان سے آزادی مظلوم کشمیریوں کا مقدر ہے، آج پوری قوم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے، پاکستان نے ہمیشہ ہر فورم پر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمشہ ہندوستان کے فاشسٹ چہرے کو بے نقاب کیا ہے، لیکن سات دہائیوں سے ایک کروڑ مظلوم کشمیری دنیا کا ضمیر جاگنے کے منتظر ہیں، آج غاصب ہندوستان کے خلاف عملی اقدامات کا وقت آ چکا ہے۔
