کشمیر الیکشن PTI اور PMLN کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ کیوں؟

25 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے الیکشن کے نتائج وہاں کی حکمران جماعت نواز لیگ کے علاوہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے لئے بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکے ہیں چونکہ اس الیکشن کے نتائج یہ تائثر بھی بنائیں گے کہ پاکستان میں اگلے انتخابات میں کونسی جماعت حکومت بنائے گی۔
آزاد کشمیر کے الیکشن سے پہلے وہاں جس طرح کی پر جوش انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں وہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئیں۔ اسکی ایک وجہ پاکستان کا موجودہ سیاسی ماحول بھی ہے۔ پچھلے چھ ماہ کے دوران پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا بننا، کپتان حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مہم چلنا اور پھر پی ڈی ایم کا ٹوٹنا، اسکے بعد پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کا آپس میں بھِڑنا، ان تمام تر واقعات کا اثر اور گہری چھاپ اس بار آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی نظر آرہی ہے۔‘
اگر مسلم لیگ نواز کی بات کریں تو اس وقت اس کی جانب سے کشمیر میں سیاسی تحریک مریم نواز کی سربراہی میں چل رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت کشمیر میں مسلم لیگ نواز کی حکومت ہے۔ اس وقت کشمیر میں کئی مظبوط سیاسی دھڑے موجود ہیں جو اپنی سیاسی طاقت انتخابات کے ذریعے دکھانا چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں جاری نواز لیگ کی الیکشن مہم میں اس وقت شہباز شریف والا گروپ نظر نہیں آرہا لیکن مریم نواز اس وقت پیش پیش ہیں اور یہ باور کرانا چاہ رہی ہیں کہ مسلم لیگ نواز اب بھی سیاسی طور پر زندہ ہے اور اگر پاکستان تحریکِ انصاف کو اس خطے میں کوئی ٹکر دے سکتا ہے تو وہ اپوزیشن مسلم لیگ نواز کی شکل میں موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی طرح مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بچا جاتی ہے، تو یہ 2023 کے انتخابات کی طرف ان کا پہلا قدم ہوگا۔‘ تحریکِ انصاف کی جب بات آتی ہے تو اس بارے میں سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی یہ دیکھا گیا کہ یہ جماعت مسلم لیگ نواز سے سیالکوٹ کی نشست اور کراچی میں پیپلز پارٹی سے چند حلقے ہار گئی۔
ان واقعات کے پیشِ نظر ایک بیانیہ بنا کہ پی ٹی آئی اگلا الیکشن شاید نہ جیت پائے۔اس لیے اس وقت کِنگز پارٹی ہونے کے ناطے پی ٹی آئی کی اولین خواہش ہے کہ وہ انتخابات جیت جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جہاں دیگر دو جماعتیں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، وہیں پیپلز پارٹی بارہا دہرائے جانے والے اس بیانیے کو پیچھے چھوڑنا چاہتی ہے کہ پی پی پی کی سیاست صرف صوبہ سندھ تک محدود ہے۔ پی پی پی والوں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو صرف سندھ کی جماعت کہنا غلط ہوگا۔ انکا اصرار ہے کہ پی پی پی ایک قومی جماعت ہے جو پچھلے پچاس سال سے سیاست میں ہے۔ آزاد کشمیر میں ان کی حکومت بنتی رہی ہے۔ ہاں، اس وقت اسکے کمزور ہونے کا تاثر ضرور ہے جس کو پہ پی پی کہلی قیادت پیچھے چھوڑنا چاہتی ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شاید آزاد کشمیر کا پہلا الیکشن ہے جس میں کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ کوئی سیاسی جماعت نہیں لگا رہی جس کی بنیادی وجہ شاید کشمیر کے حوالے سے بدلتے ہوئے حالات اور پالیسیاں ہیں۔ اس وقت پاکستانی جماعتوں کے انفرادی مقاصد اس الیکشن میں نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں۔ جس کا براہِ راست کشمیر کی سیاست سے لینا دینا کم ہے۔
روایتی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسلام آباد کی حکمران جماعت ہی انتخابات جیتتی آئی ہے اور سیاسی پنڈت اس بار بھی ایسی ہی قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ اگر کوئی غیر معمولی اپ سیٹ نہ ہوا تو تحریک انصاف کی فتح کا امکان زیادہ ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اسٹیبلشمینٹ پر الیکشن انجینئرنگ کا الزام ضرور عائد ہو گا جیسا کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی ہوا تھا۔ الیکشن سے کچھ ہفتوں قبل ہی کچھ با اثر سیاستدانوں کی جانب سے اپنی پارٹیوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت سے اس رائے کو مزید فوقیت مل رہی ہے۔
عام طور پر پاکستان میں عوام اور میڈیا کشمیری سیاست سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں لیکن بلاول بھٹو، مریم نواز اور کئی وفاقی وزرا کی الیکشن مہم میں شرکت سے انتخابات میں وقتی طور پر دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ اگست 2019 میں انڈیا کی جانب سے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد یہ پہلے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں ووٹرز کے لیے ذات، برادری، شہری مسائل اور ترقیاتی امور کافی اہمیت رکھتے ہیں۔ کشمیر کے تنازعہ اور انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ بھی ہوتا ہے اور انڈیا مخالف تقاریر بھی سننے کو ملتی ہیں لیکن کافی حد تک یہ جذبات الیکشن مہم کی بیان بازی گردانے جاتے ہیں۔
اس الیکشن میں آزاد کشمیر کی عوام کی رائے کس سمت جارہی ہے یہ حقیقت بھی اس بار سامنے آجائے گی۔ اس بارے میں پلڈیٹ کے صدر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’اس بار دیگر جماعتوں کے مقابلے میں ایک نئی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف وفاقی سطح پر برسرِ اقتدار ہے اور سوال یہ ہے کہ وہاں کی موجودہ رولنگ پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز، کیا اقتدار قائم رکھ پائے گی؟ بلال کہتے ہیں کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتی ہے، تو فیڈریشن کے ساتھ ان کا میل جول، تال میل کیسے ہو گا میرے خیال میں اس بار کے انتخابات میں یہ ایک نئی بات ہو گی۔‘
احمد بلال محبوب کے خیال میں آزسد کشمیر میں عوام کی رائے پاکستان کے دیگر علاقوں سے خاصی مماثلت رکھتی ہے۔ ’اس وقت پی ٹی آئی کو اس لیے بھی برتری حاصل ہے کیونکہ جو بھی سیاسی جماعت وہاں جیت جاتی ہے، اسے وفاق میں قائم حکومت سے تعاون کی بہت ضرورت ہو گی اور اس وقت پی ٹی آئی کا وفاق میں حکومت میں ہونا ان کے حق میں جا سکتا ہے۔‘
اب ذرا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا انتظامی ڈھانچہ بھی سمجھ لیتے ہیں۔ یوں تو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا اپنا جھنڈا، قومی ترانہ، قانون ساز اسمبلی، صدر، وزیراعظم، ہائی کورٹ، یہاں تک کہ اپنا الیکشن کمیشن اور ٹیکس وصولی کا نظام بھی ہے لیکن سیاسی اور انتظامی طور پر یہ پاکستان سے منسلک اوراس کے کنٹرول میں ہے۔
ماضی میں مقامی پارٹی مسلم کانفرنس سیاسی اثرورسوخ رکھتی تھی لیکن آہستہ آہستہ کشمیر کی سیاست میں مرکزی دھارے میں شامل پاکستانی جماعتوں کی چھاپ خاصی نمایاں ہے۔
یہاں کا سیاسی نظام ایک پارلیمانی جمہوریت ہے جس کے دو ایوان ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کونسل ایوان بالا ہے جس کے پندرہ رکن ہیں۔ کونسل کے آٹھ ممبرز کشمیر جبکہ چھ پاکستان سے نامزد کیے جاتے ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے صدور اور اے جے کے کے وزیراعظم اس کے ممبر ہیں جبکہ اس کی صدارت پاکستان کے وزیر اعظم کے پاس ہے۔
ایوان زیریں، قانون ساز اسمبلی اٹھارہ سال سے زائد عمر کے رجسٹرڈ ووٹرز کے ذریعے براہ راست منتخب ہوتی ہے۔ قانون ساز اسمبلی کے 53 منتخب ارکان ہیں جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹ، علما اور بیرون ملک رہنے والے کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں۔ 53 منتخب ارکان میں بارہ پناہ گزین شامل ہیں جو پاکستان میں ہی کشمیر سے باہر مقیم ہیں۔
پچیس جولائی کو ہی پناہ گزین کی نشستوں کے لیے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کے پی میں ایک ساتھ ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جس کے نتیجے میں یہ الیکشن خاصی اہمیت کے حامل بن چکے ہیں۔ یہ انتخابات کشمیر کے 33 اور بارہ پناہ گزین حلقوں میں کرائیں جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں اٹھایئس لاکھ ووٹر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کیا آزاد کشمیر اور جموں کشمیر میں ہونے والے انتخابات کا انڈیا اور۔پاکستان کے آپسی تعلقات پر کچھ اثر پڑے گا؟ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اسکا خوئی گہرا اثر نہیں پڑے گا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ انڈیا کی جانب اس کے اثرات زیادہ پڑیں کیونکہ وہاں بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جو انڈیا سے علیحدگی چاہتی ہیں۔ اگر ایسی جماعتوں کو الیکشن جیتنے کا موقع مل جائے تو عوام کی رائے سامنے آجائے گی۔‘
لیکن کیا ایسا ممکن ہو گا؟ اس کے جواب میں احمد بلال نے کہا کہ ’یہاں دو باتیں اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ انڈیا ایسا ہونے نہیں دے گا۔ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات پر پاکستان کی وفاقی حکومت اور اس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور ان سے منسلک پالیسیوں کی گہری چھاپ ہے۔ یہی حال انڈیا کی یونین لیول حکومت کا بھی ہے۔ دونوں جانب ان عناصر کو جو موجودہ حکومت اور ریاست سے بیزار ہیں انھیں جیتنے یا سامنے آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
