کشمیر اور سیالکوٹ میں نواز لیگ کو شکست کیوں ہوئی؟


آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے حکومت نکل جانے کے اور پھر سیالکوٹ ضمنی انتخاب میں اپنی سیٹ ہارنے کے بعد یوں لگتا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت صدمے کا شکار ہے اور اسکی مرکزی قیادت نے چپ سادھ لی ہے۔ جہاں پارٹی کی نائب صدر مریم نواز نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں پارٹی کے صدر شہباز شریف اور قائد نواز شریف کی طرف سے مکمل خاموشی نظر آرہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں مریم نواز نے متاثر کن انتخابی مہم چلائی اور بڑے بڑے جلسے کیے جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ وہ مجمع اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ان کے کامیاب جلسے ان کی انتخابی کامیابی میں نہ بدل سکے اور پارٹی کو مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نواز لیگ پیپلز پارٹی سے بھی کم سیٹیں لے کر آزاد کشمیر الیکشن میں تیسرے نمبر پر آئی۔ تاہم لیگی قیادت کا موقف ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن میں خاموش دھاندلی ہوئی اور نواز لیگ کو تیسرے نمبر پر رکھنے کا بنیادی مقصد اسکی قیادت کو مزاحمتی بیانیہ ترک نہ کرنے کی سزا دینا تھا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر نواز لیگ مخالف عناصر آزاد کشمیر کی شکست کو شہباز شریف کے مفاہمتی بیانیے کی جیت اور نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کی ہار قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر کی پوری انتخابی مہم میں پارٹی کے صدر اور مریم نواز کے چچا شہباز شریف مکمل طور پر منظر سے غائب نظر آئے اور تمام انتخابی جلسوں سے مریم نواز نے ہی خطاب کیا۔ شہباز شریف نے سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا اور وہاں بھی مریم نواز ہی نے ہی جا کر جلسہ کیا۔ لیکن اس مرتبہ نتائج ڈسکہ الیکشن رزلٹ کے برعکس آئے اور لیگی امیدوار پی ٹی آئی امیدوار کے ہاتھوں چھ ہزار ووٹوں سے شکست کھا گیا۔ لیکن چونکہ سیالکوٹ الیکشن کے دوران ماضی کی طرح دھند اور دھاندلی والا کوئی برا واقعہ سامنے نہیں آیا لہازا اس مرتبہ نواز لیگ کے ردعمل میں وہ شدت نظر نہیں آتی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔
اس معاملے پر سینئر صحافی وسیم عباسی کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن مہم کے دوران یہ واضح ہو چکا تھا کہ یہاں ہار اور جیت کی ذمہ دار مریم نواز ہوں گی۔ چنانچہ شہباز شریف نا صرف کسی جلسے میں شریک نہ ہوئے بلکہ ٹوئٹر تک پر بھی کشمیر یا سیالکوٹ الیکشن اور دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔ ہاں انہوں نے وفاقی کابینہ کے رکن علی امین گنڈاپور کی طرف سے مریم نواز کو تھپڑ مارنے اور نامناسب زبان استعمال کرنے کی مذمت ضرور کی۔ وسیم عباسی کےمطابق ناصرف شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر نہیں گئے بلکہ پنجاب کے اندر قائم کشمیری حلقوں میں بھی انہوں نے کسی الیکشن سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔ نتیجتاً پارٹی اپنے گڑھ پنجاب کی نشستوں پر بھی توقع کے مطابق کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ اسی طرح پارٹی کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف بھی کشمیر الیکشن سے قبل تو ضرور بولے مگر نتائج آنے کے بعد سے خاموش ہیں۔ وسیم عباسی کا کہنا یے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے ضمنی الیکشنز میں مریم نواز کو فری ہینڈ دے کر اور ان کو انتخابی مہم کا انچارج بنا کر انکی انتخابی معرکہ لڑنے کی صلاحتیوں کا ٹیسٹ لیا گیا تھا لیکن نتائج توقع کے مطابق نہیں آئے۔
اس حوالے سے سینیئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کی سینیئر ترین قیادت کشمیر الیکشن کے بعد شاید اس لیے خاموش ہے کہ وہ سوچ رہے ہوں گے کہ کہاں غلطی ہوئی کہاں ٹھیک ہوا اور مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہو گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ نہیں سمجھتے کہ شہباز شریف کی خاموشی کوئی پیغام ہے بلکہ واضح ہے کہ پارٹی کی سیاست مریم نواز کرتی ہیں اور شہباز شریف پارلیمانی سیاست کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے صرف ایک ہی جلسہ کیا اور وہ پی ڈی ایم کا جلسہ تھا۔‘ سہیل وڑائچ کے مطابق ’مسلم لیگ ن میں بیانیے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ احتجاجی بیانیے کو انتخابی بیانیے میں بدلنا ہوتا ہے۔ احتجاجی بیانیے سے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت پارٹی کو احتجاجی موڈ سے انتخابی موڈ میں نہیں لے جا سکی۔ جلسے بڑے بڑے ہوئے مگر نتائج درست نہیں آئے۔‘ سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق ’مسلم لیگ ن میں اختلاف رائے تو ہوسکتا ہے۔ مریم نواز کشمیر میں مہم چلا رہی تھیں اس لیے شہباز شریف نے جانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ اس سے کنفیوژن پیدا ہوتی۔‘ مریم نواز کا اپنا نکتہ نظر ہے شہباز شریف کا اپنا، اور جب پارٹی نے فیصلہ کیا کہ مریم نواز مہم چلائیں گی تو شہباز شریف نے کنارہ کشی اختیار کرلی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر میں مسلم لیگ ن کو 25 فیصد سے زائد ووٹ پڑے اس لیے پارٹی کا ووٹ بینک تو موجود ہے وہ نشتوں میں منتقل نہیں ہوا۔‘ ’پاکستان پیپلز پارٹی نے کم ووٹ لیے مگر زیادہ نشتیں اسے ملیں۔ برطانوی نظام جمہوریت میں ایسا ہو جاتا ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کی الیکشن مہم شہباز شریف کے مزاج کے مطابق نہ تھی کیونکہ اس میں اسلام آباد مرکزی ہدف تھا اور زیادہ تر گفتگو پاکستانی سیاست کے بارے میں ہی کی گئی۔ اس مہم میں یہ خیال نہ رکھا گیا کہ یہ کشمیر کا الیکشن ہے اور پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود ازاد کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو کشمیر میں اپنی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی پر ووٹ مانگنا چاہیے تھا۔ مگر وہاں وہی معاملات زیر بحث آئے جو پاکستان کی سیاست میں موضوع ہوتے ہیں۔ ویسے بھی آزاد کشمیر الیکشن میں ہمیشہ وفاق میں برسر اقتدار جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔
سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور شہباز شریف کا مزاج الگ الگ ہے اور جس ٹیمپو پر مریم انتخابی مہم کو لے جا سکتی ہیں اس پر شہباز شریف نہیں لے جا سکتے اس لیے مہم کو مریم نواز کے ہی حوالے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں رہنما ساتھ ساتھ جلسوں میں جاتے تو پارٹی کو سیاسی فائدہ ہوتا۔ شہباز شریف کی غیر موجودگی سے مسلم لیگ ن کو نقصان ہوا اور اس بیانیے کو تقویت ملی کہ پارٹی اختلافات کا شکار ہے۔ مظہر عباس کے مطابق سیالکوٹ میں اپنی سیٹ پر شکست پارٹی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے کیونکہ نواز لیگ پنجاب میں اب تک اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی اور سیالکوٹ ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ شاید سیالکوٹ پر بھی کشمیر میں ہار کا اثر پڑا ہے۔ لہازا اب مسلم لیگ ن کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کا ووٹر کنفیوزڈ رہے گا۔ پارٹی کو مشترکہ حکمت عملی بنانا ہو گی ورنہ 2023 کے انتخابات میں اس سے بھی ذیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔

Back to top button