کشمیر میں بھارتی فوج حزب المجاہدین پر بھاری کیوں پڑنے لگی؟

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے خلاف برسر پیکار تنظیم حزب المجاہدین کو اوپر تلے بڑے نقصانات سہنے پڑے ہیں جسکی بنیادی وجہ علاقے میں دشمن کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت ہے۔ 2017 سے اب تک بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں حزب کے دو چیف آپریشنل کمانڈر برہان وانی اور ریاض نائیکو شہید ہو چکے ہیں لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں کمی نہیں آئی۔ پچھلے ہفتے ریاض نائیکو کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد 26 سالہ سیف اللہ میر عرف ڈاکٹر غازی حیدر کو تنظیم کا نیا چیف آپریشنل کمانڈر مقرر کیا گیا یے جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ سے ہے، اسی ضلع کے رہنے والے سابق آپریشنل چیف کمانڈر ریاض نائیکو کو 6 مئی 2020 کو بھارتی فوج اور کشمیر پولیس نے انکے آبائی گاؤں بیگ پورہ میں ایک مسلح تصادم کے دوران شہید کردیا تھا۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں حزب المجاہدین کے ترجمان سلیم ہاشمی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق تنظیم کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین احمد کی صدارت میں ہونے والے حزب کمانڈ کونسل کے ایک اجلاس میں سیف اللہ میر عرف ‘غازی حیدر’ کی نئے آپریشنل چیف کمانڈر کی حیثیت سے تقرری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حزب کمانڈ کونسل کے اجلاس میں ظفر الاسلام کو ڈپٹی چیف آپریشنل کمانڈر اور ابو طارق کو چیف ملٹری ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع پلوامہ کے ملنگ پورہ سے تعلق رکھنے والے سیف اللہ میر عرف غازی حیدر نے 2014 میں ریاض نائیکو کے مشورے پر ہی حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 2018 میں جب بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے کشمیر میں سرگرم 17 شدت پسندوں کی ‘ہٹ لسٹ’ مرتب کی تو اس میں ریاض نائیکو پہلے جب کہ سیف اللہ میر دوسرے نمبر پر رکھے گئے تھے۔
ریاض نائیکو کی طرح سیف اللہ میر کو بھی بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے اے پلس یعنی انتہائی مطلوب عسکریت پسندوں کے زمرے میں رکھا ہے۔ سیف اللہ حزب المجاہدین کے چئف آپریشنل کمانڈر بنائے جانے سے قبل پلوامہ کے ضلع کمانڈر تھے۔
سیف اللہ میر عرف غازی حیدر نے بارہویں جماعت کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پلوامہ میں قائم گورنمنٹ انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے بائیو میڈیکل انجینئرنگ کا کورس مکمل کیا۔ بعد ازاں سری نگر میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تین سال تک بحیثیت ٹیکنیشن کام کیا۔
اسی دوران وہ ریاض نائیکو کے رابطے میں آگئے اور بالآخر 2014 میں نوکری چھوڑ کر حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس دوران اپنے بیمار اور زخمی ساتھیوں کا علاج کرنے کی وجہ سے ہی سیف اللہ میر ‘ڈاکٹر سیف’ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ سیف کو حزب چیف کا نیا آپریشنل چیف کمانڈر بنائے جانے کی ایک وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ انہوں نے دونوں سابق کمانڈروں ریاض نائیکو اور برہان مظفر وانی کے ساتھ کام کیا ہے اور حزب کے نیٹ ورک سے بخوبی واقف ہیں۔
کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز گزشتہ چھ ماہ سے ریاض نائیکو کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور اب ان کا نیا ہدف ‘غازی حیدر’ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاض نائیکو کی جنوبی کشمیر میں کافی ہائیڈ آوٹس تھے۔ ہم اُن کے چھ ہائیڈ آوٹس کا پتہ لگا چکے تھے اور یہ ساتواں ہائیڈ آوٹ تھا جہاں ہم نے انہیں ایک اور ساتھی سمیت مار دیا۔
وجے کمار کے مطابق ریاض نائیکو ایک ‘بااثر’ شخص تھے جو ویڈیو اور آڈیو پیغامات کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں جب سے انڈین افواج نے مسلح عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن شروع کیا ہے، کسی بھی عسکریت پسندی کی کامیابی کا دارومدار فورسز کیے گئے حملے پر نہیں بلکہ بندوق اُٹھانے کے بعد زندہ رہنے کی مدت پر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے 40 سالہ ریاض نائیکو پچھلے چند سالوں کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سب سے کامیاب مسلح کمانڈر گزرے ہیں کیونکہ وہ آٹھ سال سے فوج، پولیس اور ایجنسیوں کو چکمہ دیتے ہوئے مسلح گروپ حزب المجاہدین کو منظم کرتے رہے۔
ان کی زندگی کا قصہ چھ مئی کی صبح ختم ہوا جب وہ اپنے ساتھی جُنید صحرائی کے ہمراہ اپنے آبائی گاوٴں بیگ پورہ اونتی پورہ میں فورسز کی ایک کارروائی میں شہید ہو گئے۔
قتل، اغوا اور فورسز پر حملوں کے کئی معاملوں میں نائیکو پولیس کو طویل عرصے سے مطلوب تھے لیکن اُن پر نمایاں الزام یہ تھا کہ اُنہوں نے 30 سال سے کشمیر میں سرگرم حزب المجاہدین کو ازسرنو منظم کیا۔ دراصل ریاض نائیکو نے ہی برہان وانی، ذاکر موسیٰ اور دوسرے نوجوانوں کو حزب المجاہدین کی صفوں میں شامل کیا اور خود قیادت کرنے کی بجائے برہان وانی کو آگے کیا۔ سنہ 2016 میں جب برہانی وانی کی ایک جھڑپ میں ہلاکت ہوئی تو سیکورٹی ایجنسیوں کے اندیشوں اور عوامی قیاس کے برعکس ریاض نے سبزار احمد کو کمانڈر تسلیم کرلیا۔ سبزار کی بھی چند ماہ بعد ہلاکت کے بعد انھوں نے ذاکر موسیٰ کو کمانڈر بننے کاموقع دیا، لیکن تھوڑے عرصے بعد ذاکر موسیٰ نے القاعدہ اور داعش کے نظریات اپنا کر حزب المجاہدین سے علیحدگی اختیار کرلی جسکے بعد نائیکو کو 2017 میں خود میدان میں کودنا پڑا۔
جس وقت ریاض نائیکو نے حزب کو ازسرنو منظم کرنے کا بیڑا اُٹھایا تو اُسوقت کشمیر کی سب سے پُرانی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کی مقبولیت کا گراف نیچے کی جانب تھا جو کہ نایئکو کی زیر قیادت تیزی دے اوپر گیا۔ حزب المجاہدین کشمیر کے بارےمیں الحاق پاکستان کا موقف رکھتی ہے اور 1990 کے عشرے میں کشمیر میں بڑی مسلح کارروائیاں کرچکی ہے۔
پاکستان میں مقیم محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین تنظیم کے سپریم کمانڈر ہیں۔ حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ نوجوانوں کی اکثریت جماعت اسلامی کے نظریات سے متاثر ہیں اور سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اعلی کمانڈروں کی اکثریت دراصل ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو جماعت اسلامی کے حامی ہیں۔ کہ ماضی کی طرح اب پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ سرحد پار مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین یا کسی اور جہادی تنظیم کی کھل کر مدد کر سکے۔
