کشمیر پریمیئر لیگ کو متنازعہ بنانے کی بھارتی سازش

انڈیا کی جانب سے آزاد کشمیر میں منعقدہ کشمیر پریمیئر لیگ میں غیر ملکی کرکٹرز کی شرکت روکنے کی کوشش انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کی نئی وجہ بن گئی ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ چونکہ یہ لیگ ایک متنازع علاقے میں ہو رہی ہے لہذا اس کی منظوری نہ دی جائے ۔
بھارت کی انتہا پسند مودی سرکار کی جانب سے جغرافیائی مسئلے کی بنیاد پر کشمیر پریمیئر لیگ کو ناکام بنانے کے لئے لیگ کا حصہ بننے والےانٹرنیشنل کرکٹرز کو اپنے ملک میں کھیلنے کی اجازت نہ دینے کی دھمکیاں دینے اور پیسوں کا لالچ دینے سے متعلق سابق جنوبی افریقن سٹار کرکٹر ہرشل گبز کے سننسی خیز انکشافات کے بعد یہ معاملہ پاکستان اور انڈیا کے مابین تنازعے کا نیا سبب بن گیا ہے۔ تاہم چوری پکڑے جانے پر بھارت نے آزاد کشمیر کو متنازع خطہ قرار دیتے ہوئے یہاں بی سی سی آئی کی مرضی کے بغیر کسی کرکٹ ایونٹ کے انعقاد کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت سرکار روایتی ہٹ دھرمی اور ضد کی بنیاد پر حال ہی میں آزاد کشمیر میں ہونے والے عام انتخابات کو بھی مسترد کرچکی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر میں اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والی کشمیر پریمیئر لیگ اب پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع کی وجہ بن چکی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعد اب پاکستانی دفتر خارجہ کا بھی مذمتی بیان سامنے آ گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایسی خبروں پر ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جن کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا یا بی سی سی آئی نے متعدد ممالک کے سفیروں کو بلا کر انھیں اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ نہ لینے پر مجبور کیا ہے۔ پی سی بی کا کہنا یے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے آئی سی سی کے ممبران کو وارننگ دیتے ہوئے اپنے کرکٹرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک کر کھیل کو بدنام کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا یے کہ بھارتی بورڈ نے ایک بار پھر نہ صرف آئی سی سی ممبران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے بلکہ بی سی سی آئی کے رویے سے کھیل کے سپرٹ کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ پی سی بی کشمیر پریمیئر لیگ کی منظوری دے چکا ہے۔ پی سی بی کا کہنا یے کہ وہ نہ صرف اس معاملے کو آئی سی سی کے مناسب فورم پر اٹھائے گا بلکہ آئی سی سی چارٹر کے مطابق مزید کارروائی کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔
ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان انڈیا کی جانب سے کرکٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے اور نوجوان کشمیریوں سے کرکٹ کے بڑے ناموں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا موقع چھیننا افسوسناک ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان سنہ 2012/13 میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے بعد سے اب تک کوئی سیریز نہیں ہوئی اور دونوں بورڈز کرکٹ سے متعلق فیصلوں میں حکومتی پالیسیوں کے مطابق فیصلے کرتے آئے ہیں۔ یہ تنازع دراصل چند روز قبل اس وقت شروع ہوا جب سابق پاکستانی وکٹ کیپر راشد لطیف نے ایک ٹویٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بی سی سی آئی نہ صرف مختلف ممالک کے بورڈز سے رابطہ کر کے کچھ کھلاڑیوں کو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ لینے روک رہا ہے بلکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں آئندہ انھیں انڈیا میں داخلے اور وہاں کام کرنے سے بھی روکنے کی بھی دھمکی دے رہا ہے۔ اگلے ہی روز ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے سابق جنوبی افریقی کرکٹر ہرشل گبز جو کشمیر پریمیئر لیگ میں اوورسیز واریئرز کی ٹیم کا حصہ ہیں نے ایک ٹویٹ میں یہ انکشاف کیا کہ بی سی سی آئی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اپنا سیاسی ایجنڈا درمیان میں لاتے ہوئے مجھے کے پی ایل میں کھیلنے سے روکنے کا اقدام انتہائی غیر ضروری عمل ہے۔ مجھے دھمکایا جا رہا ہے کہ انڈیا میں کرکٹ سے متعلق کسی بھی کام کے سلسلے میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔
ہرشل گبز کی ٹویٹ کے بعد سے پاکستان میں نہ صرف کشمیر پریمیئر لیگ اور ہرشل گبز ٹرینڈ کر رہے ہیں بلکہ سابق کرکٹرز اور سیاست دانوں کی جانب سے بی سی سی آئی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ چھ فرنچائز ٹیموں پر مشتمل ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے جسے کاروباری شخصیات کی جانب سے چلایا جا رہا ہے تاہم اسے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مشروط منظوری دی جا چکی ہے۔اس لیگ میں چھ ایسے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے جو اب کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں جن میں ٹورنامنٹ انتظامیہ کے مطابق مونٹی پنیسار، میٹ پرائر، فل مسٹرڈ، ٹینو بیسٹ، تلاکارتنے دلشان اور ہرشل گبز شامل تھے۔اس لیگ کو منظوری دینے سے متعلق پاکستان میں پہلے سے کھیلی جانے والی لیگ پاکستان سپر لیگ کے فرنچائز مالکان کی جانب سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے سی ای او نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ پاکستان سپر لیگ کی اہمیت میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ پی سی بی کے ترجمان سمیع برنی کے مطابق اس ٹورنامنٹ میں صرف کئی سال پہلے ریٹائر ہونے والے کھلاڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے اور سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑی اس لیگ کا حصہ نہیں ہوں گے کیونکہ ابھی وہ ویسٹ انڈیز میں ہیں جس کے بعد افغانستان اور انگلینڈ کی سیریز بھی ہیں جس کے لیے کھلاڑیوں کا ورک لوڈ بھی دیکھنا ہو گا۔
سنیئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کرکٹ کے کھیل کو نریندر مودی کی پاکستان مخالف سیاست کا یرغمال نہیں بننا چاہیے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ انڈین کرکٹ بورڈ کے حکام کو بین الاقوامی کھلاڑیوں کو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ لینے سے نہیں روکنا چاہیے۔ یہ کرکٹ کی روح کے منافی ہے۔
