کشمیر پر نقشے بازی: حکومت شدید تنقید کی زد میں


کپتان حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو سرکاری نقشے میں شامل کرنے پر سنجیدہ حلقوں اور سوشل میڈیا کے محاذ پر اسے ڈرامہ بازی قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس رہا ہے۔ کشمیر سے متعلق 5 اگست کے حوالے سے ISPR کے بنائے گے نغمے کی ریلیز، حکومت کی جانب سے ایک منٹ کی خاموشی اور پھر جموں کشمیر کو پاکستان کے نئے سیاسی نقشے میں شامل کرنے جیسے سطحی ڈرامے گویا عوام میں لطیفے بن گئے ہیں اور ان حکومتی اقدامات پر طرح طرح کے طنز کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے ملک کے سرکاری نقشے میں تبدیلی کرتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر اورسرکریک کے علاقے پر قبضہ کرتے ہوئے اسے بطور پاکستان کا حصہ دکھایا ہے۔ نئے سیاسی نقشے میں خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا کو بھی صوبے کے حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس نئے نقشے کی منظوری 4اگست کو اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔اجلاس کے بعد وزیر اعظم نے خطاب میں کہا کہ نیا نقشہ اب سے پاکستان کا سرکاری نقشہ ہو گا اور اسے اقوام متحدہ میں بھی پیش کیا جائے گا۔ ‘یہی نقشہ اب سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی نصابی کتب اور دوسری سرکاری دستاویزات میں بھی استعمال کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ حکومت پاکستان نے پہلی مرتبہ ملک کا سیاسی نقشہ پیش کیا ہے۔ اس سے قبل 1949 اور 1976 میں ملک کے انتظامی نقشے جاری کیے گئے تھے۔ یاد رہے کہ اس سے ایک برس پہلے وزیر اعظم نریندرا مودی کی حکومت نے گذشتہ سال 5 اگست 2019کو ملکی آئین میں متنازع تبدیلی کرتے ہوئے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے نقشے میں تبدیلی کی اور جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا تھا۔ بھارت میں جو نقشہ سرکاری طور پر منظور شدہ ہے اس میں جغرافیائی طور پر بھارت کے سر سے مراد ریاست جموں و کشمیر ہے، جس کا ایک حصہ بھارت کے زیر انتظام ہے، دوسرا یعنی آزاد جموں و کشمیر پاکستان کے کنٹرول میں ہے اور ایک تیسرے چھوٹے سے حصے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ چین بھی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قومی نقشوں کو حکومتی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کی مثالیں ایشیا میں صرف بھارت اور پاکستان ہی میں نظر نہیں آتیں۔ دیگر ایشیائی ممالک کی حکومتیں بھی اپنے اپنے ملکوں کے ایسے نقشے تیار کراتی ہیں، جن میں دکھائے گئے ایسے ممالک کے جملہ ریاستی علاقے ویسے نہیں دکھائے جاتے، جیسے وہ حقیقت میں ہوتے ہیں۔اسی لیے اقوام متحدہ کی کارٹوگرافی کے ماہرین کی انتظامی کمیٹی کی طرف سے جتنے بھی نقشے شائع کیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ واضح طور پر یہ عبارت بھی لکھی ہوتی ہے: ’’اس نقشے میں دکھائی گئی سرحدیں اور لکھے گئے نام اور ان کے لیے استعمال کردہ اصطلاحات کا مطلب یہ نہیں کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ان کی باقاعدہ طور پر منظوری بھی دی گئی ہے یا انہیں تسلیم کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کا پہلا سیاسی نقشہ ماضی کے نقشوں کے مقابلے میں اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھاتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سرحد بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش کے ساتھ لگے گی۔ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان واقع لائن آف کنٹرول پوائنٹ 9842 پر اختتام پذیر ہوتی تھی۔ اب نئے نقشے میں اس کو چین کی سرحد سے ملا دیا گیا ہے۔ یوں نئے نقشے کی حد تک سیاچن پاکستان کا حصہ بن گیا ہے۔پاکستان کے جنوب میں واقع متنازع سر کریک کو نئے نقشے میں پاکستان میں شامل کر دیا گیا ہے، جس میں پاکستانی بین الاقوامی سرحد سر کریک کے مشرقی کنارے پر دکھائی گئی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کی سرحد سر کریک کے مغربی کنارے تک ہے۔نئے نقشے میں سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو بھی صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ فاٹا کا انتظام صوبے میں ضم ہونے سے پہلے مخصوص قوانین کے تحت چلایا جاتا تھا۔
تاہم سنجیدہ حلقوں نے تحریک انصاف حکومت کے اس اقدام کو ناپسند کرتے ہوئے کہا کہ نیا سیاسی نقشہ اسلام آباد کا سب سے آخری قدم ہونا چاہیے تھا۔ حکومت سے جلد بازی ہو گئی ہے، ابھی فیصلے اس کا وقت نہیں تھا۔ بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اٹھا کر اسلام آباد نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ سجمھتا ہے اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت اس کا حل چاہتا ہے، تو ایسے میں ایک متنازع علاقے کو نقشے کی حد تک اپنا حصہ دکھانے سے فائدہ نہیں ہو سکتا۔ سکیورٹی کونسل بھی اس سلسلے میں پاکستان پر اعتراض بھی اٹھا سکتی ہے کہ آپ نے متنازع علاقے کو کیوں اپنا حصہ ظاہر کیا۔ بھارت کے گذشتہ سال کے ایک غلط اقدام کے جواب میں ویسا ہی غلط قدم اٹھانا کوئی عقل مندی نہیں۔
پاکستانی حکومت نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر ایک منٹ کی خاموشی کا اعلان کیا تھا جس پر بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی اس کے علاوہ آئی ایس پی آر کی جانب سے کشمیر سے متعلق نغموں اور سرکاری ٹی وی پر اکا دکا پروگراموں پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ ایک دل جلے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ گانوں سے تو محبوبہ نہیں ملتی ، کشمیر کیسے ملے گا۔
ماہ زالہ خان نامی ایک صارف نے ٹویٹر پر لکھا کہ ‘کیا یہ پاکستان کا نیا نقشہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم یا استعمال کیا جائے گا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اسی طرح ایک صارف ولید طارق نے نقشے کی تصویر کے ساتھ صرف اتنا لکھا ‘نقشہ نگاری کا فریب نظر۔ بعیمان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘اور ایسے کرائیں گے ہم کشمیر آزاد، گانے بنا کر اور اسے نقشے میں شامل کر کے اور امید کریں گے کہ ایک دن یہ سچ ہو جائے گا۔ کسی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا نئے نقشے کے حساب سے انڈیا کی نو لاکھ فوج پاکستان میں بیٹھی ہے۔ اب اس کا کیا کرنا ہے؟ کسی نے لکھا کہ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب پورا ہوا، آپ بھی فوٹو شاپ سیکھیں اور کسی بھی ملک کو اپنے نقشے میں شامل کریں۔ کسی نے حکومتی اقدام کو گلی کی نکڑ پر کھڑے ان لونڈے لپاڈوں سے تشبیہہ دی جو آنے جانے والی لڑکیوں کو دیکھ کر اپنے دوستوں کو کہتے ہیں وہ دیکھ تیری بھابھی جا رہی ہے اور لڑکی بیچاری کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی ہو چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں شامل کرنے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button