کشمیر کا سودا کرنے کے الزام میں کتنی صداقت ہے؟

پاکستانی قوم بھی بڑی معصوم اور سادہ واقع ہوئی ہے، حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے مابین پر امن تعلقات کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان، نریندر مودی اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے بیانات سامنے آنے کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ جلد دونوں ممالک میں اچھے تعلقات قائم ہونے والے ہیں کیوںکہ پچھلے 73 برس سے کشمیر کا چورن بیچنے والی پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے امریکہ اور سعودی عرب کے دباؤ پر کشمیر کا سودا کر دیا ہے۔ جہاں عوام کی اکثریت کپتان حکومت کی جانب سے مودی کے ساتھ یاری ڈالنے کی کوششوں پر تنقید کرتی نظر آرہی ہیں وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انڈیا اور پاکستان کشمیر کا مسئلہ حل کرکے آپس میں دوستی کر لیں تو اس کا فائدہ دونوں ملکوں کے عوام کو ہوگا اور دفاعی اخراجات پر خرچ ہونے والے کھربوں روپے عوام کی فلاح و بہبود پر لگیں گے۔
چنانچہ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور عمران خان کی جانب سے ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات کے اظہار کے بعد کشمیر کے سودے اور انڈیا پاکستان دوستی کی امیدیں اتنی زیادہ بڑھیں کہ اڑھائی سال بعد دہلی میں بھارت اور پاکستان کے انڈس واٹر کمشنرز کی ملاقات کو بھی مذاکرات کی پہلی کڑی کے طور پر دیکھا جانے لگا، حالانکہ سچ یہ یے کہ انڈس واٹر کمیشن کے اجلاس کا پاک بھارت تعلقات کی بہتری سے کوئی تعلق نہیں۔ دراصل سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ مشترکہ پانی کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے سال میں کم سے کم ایک مرتبہ ایسی میٹنگ ضرور منعقد کریں۔ بھارتی راجدھانی نئی دہلی میں 23 اور 24 مارچ کو بھارت اور پاکستان کے مستقل واٹر کمشنروں کے مابین معمول کی میٹنگ تقریباً اڑھائی سال بعد منعقد ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کی آخری میٹنگ اگست 2018 میں لاہور میں ہوئی تھی لیکن دونوں ممالک میں تعلقات کی خرابی کے باعث ڈھائی برس دوبارہ ایسی ملاقات نہ ہو سکی۔ یہ میٹنگ کیا ہوئی، کچھ تجزیہ کاروں نے اسے بھارت۔پاکستان تعلقات سے جوڑ دیا حالانکہ یہ ایک روٹین کا معاملہ تھا۔ اس سے پہلے یہ میٹنگ 2020 میں ہونی تھی جو کرونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئی۔ 2019 میں پاکستانی ماہرین کی ٹیم نے جموں و کشمیر میں پانی کے ان بھارتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا تھا جن پر انہیں خدشات تھے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حالیہ میٹنگ بھلے ہی دونوں ممالک کے درمیان جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد پہلی بیٹھک ہے لیکن اس کو ہر گز سیاسی بیٹھک نہیں کہا جا سکتا۔ 1960 سے آج تک ایسی 115 بیٹھکیں ہو چکی ہیں جو دونوں کے درمیان سیاسی کشیدگیوں سے ماورا تھیں۔ 1947 سے آج تک بہت سارے معاہدے اور میٹنگز بھارت۔ پاک سیاسی کشیدگی کی نذر ہوتی دیکھی گئی ہیں۔ سارک اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کبھی بھی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھا اور یہی اس کی انفرادیت ہے۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ہندی میں ’سندھو جل سمجھوتہ‘ اور انگریزی میں ’انڈس واٹر ٹریٹی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے کامیاب ترین معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو عالمی بنک کی ثالثی میں پاکستان کی اقتصادی راجدھانی کراچی میں معرض وجود میں آیا۔ اس سمجھوتے کی نگرانی ورلڈ بنک کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے کیا تھا۔
یوں مختصر لفظوں میں کہا جائے تو انڈس واٹر ٹریٹی سندھ ریور سسٹم کی دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کی بانٹ کا نام ہے۔ انڈس ریور سسٹم میں چھ دریا ہیں۔ 1960 کے معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا یعنی ستلج، بیاز اور راوی بھارت کے حصے میں آئے۔ بھارت ان تین دریاؤں کا پانی جو 3.3 کروڑ ایکڑ فیٹ بنتا ہے بغیر کسی جھجک کے استعمال کر سکتا ہے۔جبکہ تین مغربی دریا یعنی سندھ، چناب اور جہلم جن میں لگ بھگ ساڑھے 13 کروڑ ایکڑ فیٹ پانی ہے پاکستان کو ملے۔ بھارت مغرب کی جانب بہنے والے ان تین دریاؤں کا 20 فی صد پانی استعمال کر سکتا ہے۔ وہ ان دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کر سکتا ہے اور نہ ہی آبپاشی کے لیے استعمال۔ 1960 کے بعد تین ہندو۔پاک جنگیں ہو چکی ہیں اور کشیدگی کا ماحول تو زیادہ تر رہتا ہی ہے۔ اس سب کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر کبھی فرق نہیں پڑا۔
معاہدے کا آرٹیکل 09 تنازع کی صورت میں اس کے پرامن حل پر روشنی ڈالتا ہے۔ اگر کسی بات پر کوئی تنازع ہو جاتا ہے تو اسے حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے کمشنروں کے پاس جاتا ہے۔ مزید کنفیوزن کی صورت پر نیوٹرل ٹیم کو بھیجا جاتا ہے جو معاملے کو دیکھتی ہے۔ پھر بھی پارٹیاں یا پارٹی راضی نہیں ہوتے تو اس کے لیے انٹرنیشنل آربیٹریشن کورٹ کا راستہ کھلا ہے۔
1970 میں بھارت نے جموں و کشمیر میں پن بجلی منصوبے بنانے شروع کیے۔ یہیں سے پاکستان کی جانب سے تحفظات کا آغاز ہوا۔ نئی دہلی کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ ڈیمز ایسے ڈیزائن کیے گئے جو بجلی پیدا کرتے ہیں لیکن پانی ذخیرہ نہیں ہوتا بلکہ دوبارہ دریاؤں میں چلا جاتا ہے۔ اس خاص ڈیزائن کو رن آف ریور کہا جاتا ہے۔ سندھ کے تین مغربی دریا جو سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستانی دریا کہلاتے ہیں جموں و کشمیر سے ہو کر پاکستان جاتے ہیں۔ سال 1984 میں حکومت ہند نے دریائے جہلم پر تلبل باراج سے ایک پروجیکٹ کو منظوری دی لیکن پاکستان کی جانب سے احتجاج پر نئی دہلی نے اس منصوبے کو یک طرفہ واپس لے لیا۔ جموں و کشمیر سے بہنے والے دریاؤں پر کافی پن بجلی ڈیمز بن چکے ہیں جن میں باگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ، چھینانی، دول ہستی، سالال، اری، کشن گنگا اور ریتلے وغیرہ شامل ہیں۔
330 میگاواٹ کشن گنگا پروجیکٹ پہلا با ضابطہ سٹوریج ڈیم ہے۔ یہ ڈیم کشن گنگا ندی، جس کو پاکستان میں دریائے نیلم کہا جاتا ہے، پر 2007 میں بننا شروع ہوا اور2018 میں مکمل ہوا۔
باہمی طور پر بات چیت سے معاملہ نہ سلجھنے کے بعد پاکستان 2010 میں اس ایشو کو بین الاقوامی ثالثی عدالت ہیگ لے کر گیا۔ ثالثی کورٹ نے 2011 میں بھارت کو منصوبے پر کام کرنے سے روک دیا۔ 2013 میں ثالثی عدالت نے ہندوستان کو اس ڈیم پر کام کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔ ریتلے ڈیم بھی متنازع رہا۔ 2018 میں ثالثی عدالت سے ریلیف کے بعد جنوری 2021 میں مودی حکومت نے اس منصوبے کو حتمی منظوری دے دی ہے۔
ریتلے پروجیکٹ 850 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق حالیہ میٹنگ میں مہر علی شاہ کی سربراہی میں سات رکنی پاکستانی وفد نے پکل دول اور لور کالنائی پر اپنے اعتراضات رکھے۔ ہندوستانی ٹیم کی سربراہی پردیپ کمار سکسینا کر رہے تھے۔2016 میں اری اٹیک کے بعد سندھ طاس معاہدہ کافی سرخیوں میں رہا۔ اس سے پہلے ایسی باتیں کبھی نہیں ہوئیں کہ اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے وغیرہ۔ لیکن اڑی حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے وزیراعظم ہند نریندر مودی نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ ’خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘
