کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے او آئی سی کا وفد پاکستان پہنچ گیا

سیکریٹری جنرل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے خصوصی سفیر برائے جموں و کشمیر یوسف محمد الدوبے 6 رکنی وفد کے ہمراہ 5 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔
دفتر خارجہ کے مطابق لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے ہونے والے نقصانات کا مشاہدہ کرنے کےلیے پاکستان پہنچنے والا وفد اپنے دورے میں آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کرے گا اور وہاں سینئر پاکستانی حکام سے ملاقات بھی کرے گا۔
ملاقات میں پاکستانی حکام انہیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر بریفنگ بھی دیں گے۔
اس حوالے سے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا کہ ‘خصوصی سفیر اور ان کی ٹیم کے اراکین لائن آف کنٹرول کا دورہ کریں گے تاکہ وہ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان سے متعلق براہ راست معلومات حاصل کرسکیں’۔
واضح رہے کہ یوسف محمد الدوبے سعودی شہری ہیں اور وہ جون 2019 میں مکہ میں ہونے والی او آئی سی سمٹ میں سیکریٹری جنرل او آئی سی کے خصوصی سفیر برائے جموں کشمیر تعینات ہوئے تھے۔
اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام کے خلاف سفیر یوسف محمد الدوبے کے دورے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کی خاص اہمیت ہے اور یہ او آئی سی وزرائے خارجہ اور سمٹ اجلاسوں میں پیش کی گئی قراردادوں میں شامل مسئلہ کشمیر پر ایک واضح پیغام کی توثیق ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کشمیر پر او آئی سی کی حمایت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا گیا کہ 1994 سے جموں کشمیر کے لیے مسلم ممالک کے 57 اراکین کا ایک رابطہ گروپ وقف ہے۔
5 اگست کو مقبوضہ وادی کے الحاق اور بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد او آئی سی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ او آئی سی اور اس کی انسانی حقوق کی تنظیم انڈیپینڈنٹ پرمننٹ ہیومن رائٹس کمیشن (آئی پی ایس آر سی) نے بھارت کے اقدامات کی مذمت پر کئی بیانات جاری کیے جب کہ ان کے رابطہ گروپ نے 2 مرتبہ ملاقات کی۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ آئی پی ایچ آر سی نے کشمیر کی صورتح ال پر اوپن ڈسکشن بھی منعقد کیا تھا۔
بیان کے مطابق ‘کشمیری اور پاکستان کے عوام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کے مقصد کی حمایت میں او آئی سی کے کردار کی قدر کرتے ہیں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button