کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

قومی اسمبلی سے 10 جون کو اپوزیشن کی غیر موجودگی میں نہایت پھرتی سے منظور کروائے گے عالمی عدالت انصاف حقِ نظرثانی بل 2020 کا بنیادی مقصد گرفتار شدہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق فراہم کرنا ہے، جس پر وفاقی حکومت اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کو مودی کا یار اور کلبھوشن کا ساتھی قرار دینے والی کپتان سرکار نے درجنوں پاکستانیوں کے قاتل کمانڈر کلبھوشن کی جان بچانے کے لیے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں قومی اسمبلی میں خصوصی طور پر دیگر معاملات کو منسوخ کرنے کے بعد اس بِل کی منظوری دلائی جس سے نظر اتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری ختم کرنے والی بھارتی سرکار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کس حد تک جھکے جا رہے ہیں۔یہ بل پاس ہونے کے اگلے روز قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جانب سے شور شرابے کے دوران یہ سوالات بھی کیے گئے کہ آخر انڈین جاسوس کے معاملے میں الگ سے اپیل دائر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس بِل کو خصوصی طور پر دیگر اہم بِلوں سمیت منظور کرنے کے پیچھے حکومت نے ایک وجہ یہ بتائی کہ چونکہ 11 جون سے بجٹ سیشن کا آغاز ہو جانا تھا اس لیے تمام بِلوں کو جلد از جلد پاس کرنا لازمی تھا۔ واضح رہے کہ بجٹ سیشن 20 روز جاری رہتا ہے جس کے دوران اسمبلی میں پیش ہونے والے تمام بِل، خاص طور سے وہ جن پر بحث کرنا لازمی ہو، وہ بعد کے لیے رکھ لیے جاتے ہیں لیکن اگر ہنگامی بنیادوں پر کسی بِل پر بات کرنی ہو ان کے لیے پہلے سیشن رکھ لیا جاتا ہے۔ لیکن کلبھوشن سے متعلق اپیل کے بِل کو منظور کرنے کے پیچھے یہ وجہ بتائی جارہی ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے کلبھوشن کو عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کے تحت اپیل کرنے کی اجازت دینا چاہتا ہے۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں کپتان سرکار کا حصہ بننے والے وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے ایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر پاکستان یہ بِل منطور نہ کرتا تو انڈیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پہنچ جاتا۔‘ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد جادھو کی اپیل کا بِل سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش ہوگا، جو بجٹ سیشن کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ اس پر اب حزبِ اختلاف کی جماعتیں اعتراض کر رہی ہیں کہ اگر 20 دن انتظار ہی کرنا تھا تو جلدی سے بِل کیوں منظور کرایا گیا؟ بیرسٹر اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ جادھو کی اپیل اور ریویو کا بِل منظور کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ عالمی عدالتِ انصاف یعنی آئی سی جے کے مشاہدے کے مطابق پاکستان کے مقامی قوانین میں اپیل اور ریویو کی شِق ہونی چاہیے جو فوجی عدالت کے فیصلے کو دیکھنے کے طور پر کام آ سکے۔
یاد رہے کہ پاکستانی فوجی عدالتیں 2015 میں آرمی پبلک سکول میں دہشت گرد حملے کے بعد بنائی گئی تھیں۔ ان عدالتوں سے منسلک جو ایکٹ بنایا گیا تھا اس پر تشویش اور اعتراض یہ تھا کہ فوجی عدالتیں آئین کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔ اس دوران پاکستان کی حکومت نے بتایا تھا کہ اس وقت ملک میں قانون نافذ کرنے اور دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت ہے جس کے تحت یہ عدالتیں بنائی جارہی ہیں۔ اسی لیے ساتھ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عدالتیں صرف دو سال کے لیے فعال رہیں گی۔ اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ پھر سپریم کورٹ نے اس بارے میں کہا تھا کہ فوجی عدالتوں سے جو بھی فیصلہ یا آرڈر دیا جائے گا، اس فیصلے اور آرڈر کا عدالتی جائزہ یا ریویو کیا جائے گا اور رِٹ پٹیشن جمع کی جا سکے گی۔ جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس (مرحوم) وقار احمد سیٹھ نے کئی رِٹ پٹیشن سن کر لوگوں کو رہائی دلوائی۔‘ اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ’اسی لیے اپوزیشن کا بھی یہی کہنا ہے کہ جادھو کے لیے بھی حکومت کو نئے سِرے سے قوانین بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پہلے سے موجود ہیں جن میں اس طرح کے حالات میں طریقہ کار خاصے واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جادھو کو اگر سزا ہوتی ہے تو ان کو یہ حق ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن جمع کریں جس کے بعد ان کی اپیل کی درخواست ہائیکورٹ میں سنی جا سکتی ہے لیکن ان تمام باتوں پر بحث نہیں ہو سکی کیونکہ حکومت کی جانب سے جادھو کا معاملہ قومی سلامتی کے زمرے میں دیکھا جارہا ہے۔‘
یاد رہے کہ مارچ 2016 میں پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد اپریل 2017 میں پاکستان کی فوجی عدالت نے انڈین کمانڈر کلبھوشن جادھو کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔ انڈیا نے 8 مئی 2017 کو عالمی عدالتِ انصاف میں پاکستان کے خلاف جمع کرائی گئی درخواست میں دعویٰ کیا کہ پاکستان نے 1963 کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس کی شِق 36 کے تحت کلبھوشن جادھو کو نہ ہی قونصلر رسائی دی گئی اور نہ ہی انھیں ان کے حقوق بتائے گئے۔ اسی روز انڈیا نے ایک اور درخواست میں یہ استدعا بھی کی تھی کہ جادھو کو اس کیس کے تمام نکات پر دلائل دیے بغیر سزائے موت نہ دی جائے اور اس ضمن میں لیے گئے تمام اقدامات کے بارے میں عدالت کو بتایا جائے۔ 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کہا تھا کہ وہ مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظرثانی کرے اور انھیں قونصلر رسائی دے۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے بعد جولائی 2020 میں پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے کہا تھا کہ پاکستان میں زیر حراست مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو نے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے بجائے وہ اپنی رحم کی اپیل کے پیروی جاری رکھیں گے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ میں نیوز کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’کمانڈر جادھو کو والد سے ملاقات کروانے کی پیشکش کی ہے۔ انڈین حکومت کو مراسلہ بھجوا دیا گیا جبکہ کمانڈر جادھو کو دوبارہ قونصلر رسائی کی پیشکش پر انڈین حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔‘ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حالانکہ پاکستان کا قانون نظرِثانی کا حق فراہم کرتا ہے لیکن عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر صحیح طور سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے 28 مئی کو ’انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ریویو اینڈ ری کنسڈریشن آرڈینسس 2020 نافذ کیا۔‘ اس آرڈیننس کے تحت 60 روز میں ایک درخواست کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرِثانی اور دوبارہ غور کی اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ یہ اپیل کمانڈر جادھو خود، ان کا قانونی نمائندہ یا انڈین ہائی کمیشن دائر کر سکتے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف میں جو کیس پاکستان نے جیتا تھا اس کے فیصلے کے اہم نکات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ویانا کنونشن برائے قونصلر روابط کی شِق 36 کے تحت کلبھوشن جادھو کو ان کے حقوق کے بارے میں بتایا جائے۔ اس کے علاوہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن کیس پر مؤثر نظرثانی کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں جس میں اگر ضرورت پڑے تو قانون سازی کا نفاذ بھی شامل کیا جائے۔
