کلبھوشن یادیو سے متعلق آرڈیننس ایوان میں پیش، اپوزیشن کی پراسرار خاموشی

حکومت نے آخر کار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت قونصلر رسائی دینے سے متعلق متنازع آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔
اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے پراسرا خاموشی دیکھنے کو ملی جو پہلے اس پر سخت احتجاج اور اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اسے روکنے کی کوشش کررہی تھی۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے مئی میں نافذ کردہ آئی سی جے (ریویو اینڈ ریکنسڈریشن) آرڈیننس 2020 سمیت 5 آرڈیننس ایوان میں پیش کیے اور اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔
تاہم اجلاس ملتوی ہونے سے چند لمحے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے متنازع آرڈیننس پر بات کی اور حکومت کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے ایک سال مکمل ہونے سے چند روز قبل بھارتی جاسوس کو سہولت فراہم کر نے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ ہفتے ایوان میں آرڈیننس پیش کرنے کے حکومتی اقدام کی مخالفت کی تھی اور آرڈیننس پیش ہونے سے روکنے کے لیے ایوان کی کارروائی سے بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز وہ ایوان میں اس وقت داخل ہوئے جب تمام پانچوں آرڈیننس ایجنڈے کے مطابق پیش کیے جاچکے تھے، اجلاس میں انہیں فوراً بات کرنے کا موقع بھی ملا لیکن انہوں نے صرف ایجنڈے پر موجود بلز کے حوالے سے بات کی۔
خیال رہے کہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا ضمیر انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اجلاس کو ایجنڈے پر موجود آرڈیننس کے حوالے سے کاروائی کرنے دیں اور اسپیکر اسمبلی اسد قیصر سے درخواست کی تھی کہ قانون سازی کی کارروائی مؤخر کریں اور ان بلز کا ایوان میں پیش کریں۔
