کنٹینر تلے آنے والی خاتون صحافی کو گارڈ نے دھکا دیا

عمران خان کے لانگ مارچ کے قافلے میں موصوف کے کنٹینر کے نیچے آ کر اپنی جان سے ہاتھ دھونے والی خاتون صحافی صدف نعیم کے بارے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے کپتان کے چلتے ہوئے کنٹینر پر چڑھنے کے لیے پائیدان پر ہاتھ ڈالا تو ایک سیکیورٹی گارڈ نے انہیں دھکا دے کر نیچے گرا دیا جس دوران کنٹینر کا ایک ٹائر ان کے سر کے اوپر سے گزر گیا۔
صدف کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے پولیس کے ذریعے دباؤ ڈلوا کر اسکی موت کے ذمہ داران کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کروانے کا فیصلہ کروایا، بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال خاتون رپورٹر کے شوہر کو جنازے سے پہلے خود پولیس سٹیشن لے کر گئے جہاں اس سے قانونی کاروائی نہ کرنے کی تحریر پر دستخط کروائے گئے۔ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف صدف کے لواحقین کیلئے 50 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کر چکے تھے چنانچہ چوہدری پرویز الہی نے بھی حکومت پنجاب کی جانب سے 25 لاکھ کی امداد کو دوگنا کر کے 50 لاکھ کر دیا۔
صدف کے ساتھ لانگ مارچ کور کرنے والے صحافی افضل سیال نے بتایا کہ وہ اس المناک سانحے کے چشم دید گواہ ہیں اور یہ کہ خاتون رپورٹر کو کنٹینر پر موجود عمران کے سکیورٹی گارڈ نے دھکا دے کر نیچے گرایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر عمران خان کے خطاب کے بعد مختلف چینلز کے تین رپورٹرز اپنے کیمرہ مینوں کے ساتھ کنٹینر کے دروازے والی سائیڈ پر ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے تاکہ خان صاحب کا ساٹ کیا جا سکے۔ دھیمی رفتار پر چلنے والے کنٹینر کے ساتھ بھاگتے ہوئے اس پر چڑھنے کی کوشش کرنے والوں میں صدف نعیم بھی شامل تھی جس نے ایک روز پہلے اسی کنٹینر پر چینل فائیو کے لیے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ عینی شاہد کے مطابق دو سے تین کلومیٹر بھاگنے کے باوجود جب کنٹینر پر چڑھنے کی اجازت نہیں ملی تو اخلاق باجوہ سمیت باقی صحافی تھک کر سائیڈ پر ہوگئے لیکن صدف نے کوشش جاری رکھی۔ پھر وہ موقع آیا جب صدف صرف بھاگتے ہوئے کنٹینر کے دروازے تک پہنچیں اور اس کے پائیدان پر ہاتھ ڈال دیا، لیکن اسی لمحے کنٹینر کے دروازے پر موجود سکیورٹی گارڈ نے صدف کو دھکا دیا جس کے بعد وہ سڑک کے درمیان میں موجود ڈیوائڈر سے ٹکرا گئیں اور کنٹینر کا ٹائر ان کے سر کے اوپر سے گزر گیا۔
کپتان کے کنٹینر کو صدف کا سر کچلتے ہوئے دیکھ کر دنیا نیوز کے کیمرہ مین آصف پرویز نے شور مچا دیا۔ جب کنٹینر رکا تو وہاں موجود صحافیوں نے اس المناک حادثے کی ویڈیوز بنانے کی کوشش کی لیکن عمران کے گارڈز نے انہیں روکنے کے لیے کنٹینر کے اوپر سے پانی کی بوتلیں مارنا شروع کر دیں۔ اس کے بعد وہ ٹرک سے نیچے اتر آئے ویڈیو بنانے والوں کو زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران کئی صحافیوں سے موبائل بھی چھین لیے گے۔ یہ سب ہو جانے کے بعد عمران خان کنٹینر سے چند منٹ کے لئے نیچے اترے اور پھر واپس اوپر جا کر لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
یاد رہے کہ صدف نعیم خبریں گروپ کے ساتھ گذشتہ 15 سال سے منسلک تھیں اور ایک انتہائی محنتی خاتون تھیں۔ انکے دو بچے ہیں، بڑی بیٹی نمرہ نعیم ہے جبکہ بیٹا اذان نعیم ہے۔ ان کے شوہر کیمرہ مین ہیں اور شادیوں کی فلمیں بناتے ہیں۔ صدف کے ساتھ کام کرنے والے میڈیا ورکرز کے مطابق وہ ایک انتہائی محنتی اور پروفیشنل صحافی تھیں جو کسی بھی قسم کی مشکل کو اپنے کام کے آڑے نہیں آنے دیتی تھیں۔
اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔ موت سے چند لمحے پہلے اپنی ایک خاتون صحافی ساتھی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے صدف نے کہا تھا کہ میں بہت زیادہ تھک چکی ہوں، اور چاہتی ہوں کہ کچھ عرصے کے لیے صحافت چھوڑ دوں۔ صدف نے کہا کہ ابھی تو لانگ مارچ چل رہا ہے، بس جیسے ہی یہ مارچ ختم ہوگا تو میں بریک پر چلی جاؤں گی۔ اس نے آخری فقرہ یہ کہا کہ اب نہیں ہوتا یہ مجھ سے، تم یقین کرو کہ میں بہت زیادہ تھک گئی ہوں۔ صدف کی موت کس طرح ہوئی، کیا اس کا اپنا پیر پھسلا یا اسے دھکا دے کر گرایا گیا؟ یہ تو ابھی کنفرم نہیں مگر ایک بات طے ہے کہ صدف ہمیشہ کے لیے بریک پر جا چکی ہے۔
