کوئٹہ کا سرینا ہوٹل ہی بم دھماکوں کا نشانہ کیوں ہے؟


کوئٹہ کا فائیو سٹار سرینا ہوٹل اور اسکے آس پاس کے علاقے کچھ عرصے سے دہشت گردوں کا نیا ہدف بن چکے ہیں چونکہ پاکستان میں تعینات چین کے سفیر کے علاوہ گوادر پروجیکٹ سے متعلقہ اہم ترین شخصیات بھی اکثر یہیں قیام کرتی ہیں۔ چنانچہ دہشت گردوں کے خیال میں جب سرینا ہوٹل اور اس کے اردگرد دھماکے ہوں گے تو لوگ سو مرتبہ یہ سوچیں گے کہ کوئٹہ جائیں یا نہ جائیں۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 8 اگست 2021 کو جو دو بم دھماکے ہوئے ان میں سے ایک نہ صرف نقصان کے حوالے سے بہت بڑا تھا بلکہ اس کا ہدف بھی سکیورٹی اور محل وقوع کے لحاظ سے ایک اہم علاقہ تھا۔
یہ دھماکہ یونیٹی چوک کے قریب حالی روڈ پر سرینا ہوٹل کے پاس ہوا۔ سرینا نہ صرف کوئٹہ کا واحد فائیو سٹار ہوٹل ہے بلکہ اس کے چاروں اطراف میں اہم سرکاری عمارتیں بھی ہیں۔ یہ حال ہی میں اس علاقے میں ہونے والا دوسرا دھماکہ ہے جبکہ اس سے قبل اپریل کے آخر میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکہ ہوا تھا۔
کوئٹہ میں طویل عرصے تک سکیورٹی کی ذمہ داری سرانجام دینے والے سابق ڈی آئی جی پولیس عبد الرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں حالیہ بم دھماکے ہوئے وہ کوئٹہ کا حساس ترین علاقہ ہے۔ کوئٹہ کی زیادہ تر وی آئی پی موومنٹ بھی اسی علاقے سے ہوتی ہے۔
گذشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان کے متعدد علاقے بد امنی کی لپیٹ میں رہے ہیں اور کوئٹہ شہر ان بم دھماکوں سے سب سے زیادہ متاثر رہا مگر یہ بم دھماکے زیادہ تر دیگر علاقوں میں ہوتے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چار ماہ سے کم عرصے میں اس علاقے کو دوسری مرتبہ نشانہ بنانے کے کیا محرکات ہوسکتے ہیں؟
8 اگست کا دھماکہ کوئٹہ کے معروف یونٹی چوک کے قریب حالی روڈ پر سرینا ہوٹل کے جنوبی دیوار کے ساتھ ہوا۔ سرینا ہوٹل اس روڈ کے شمال میں واقع ہے۔
اس ہوٹل میں نہ صرف غیر ملکی مہمان آتے ہیں بلکہ مقامی مہمانوں اور باہر سے آنے والے سرکاری اہلکاروں کی رہائش کے لیے پہلی ترجیح یہی ہوٹل ہوتی ہے۔ حالی روڈ پر ہی سرینا ہوٹل کے جنوب میں بلوچستان ہائیکورٹ کی عمارت ہے۔ سرینا ہوٹل اور بلوچستان ہائی کورٹ کے بالمقابل مغرب میں بلوچستان اسمبلی کی عمارت ہے جبکہ مشرق میں تھوڑے سے فاصلے پر ایرانی قونصل خانہ ہے۔ ان اہم عمارتوں کے علاوہ اس کے قریب ہی فرنٹیئر کور (نارتھ) کا ہیڈکوارٹر اور پی آئی اے کا دفتر بھی ہے۔ سرینا ہوٹل کے ساتھ ہی کوئٹہ چھاﺅنی ہے جو کہ ہوٹل اور حالی روڈ کے شمال میں واقع ہے۔ ان اہم دفاتر کی وجہ سے اس علاقے کا شمار کوئٹہ کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ انتہائی حساس ہیں۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں سنہ 2000 کے بعد بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد بم دھماکوں اور اس نوعیت کی بدامنی کے دیگر واقعات سب سے زیادہ کوئٹہ میں ہوئے ہیں۔تاہم یونٹی چوک کے اس حساس علاقے سے پہلے یہ زیادہ تر سریاب، شہر کے مرکزی علاقوں اور ریڈ زون کے علاوہ دیگر نواحی علاقوں میں ہوتے رہے۔اگرچہ بڑے پیمانے پر سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے سرکاری حکام کے بقول ماضی کے مقابلے میں کوئٹہ میں حالات میں بہتری آئی ہے تاہم یہ واقعات اب بھی رونما ہو رہے ہیں۔ رواں سال زیادہ نقصانات کے حوالے سے کوئٹہ میں جو تین بڑے دھماکے ہوئے ان میں سے دو دھماکے اپریل سے لے کر اب تک اسی علاقے میں ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دھماکہ 21 اپریل کو سرینا ہوٹل کے اندر ہوا۔ یہ دھماکہ خود کش تھا جو کہ ہوٹل کے اندر پارکنگ میں ہوا جس میں پانچ افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے تھے۔جس دن یہ دھماکہ ہوا اس روز چینی سفیر کوئٹہ میں تھے اور وہ اہم ملاقاتوں اور اجلاسوں میں شرکت کے لیے سرینا ہوٹل میں رہائش پزیر تھے لیکن حکام کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا وہ ہوٹل میں موجود نہیں تھے۔
سرینا ہوٹل کے اندر اس دھماکے کے ہدف اور محرکات کے بارے میں تحقیقات کے حوالے سے اگر کوئی پیش رفت ہوئی بھی ہے تو اس سے میڈیا کو تاحال آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرا دھماکہ 8 اگست کو ہوٹل کے باہر اس کی دیوار کے ساتھ ہوا۔ لیکن ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس اظہر اکرام نے بتایا کہ اس کا ہدف سرینا ہوٹل نہیں بلکہ پولیس اہلکار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تناظر میں سکیورٹی خطرات موجود تھے جس کے پیش نظر سکیورٹی کو نہ صرف اس علاقے میں بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بڑھایا گیا ہے۔اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔
چار ماہ سے کم عرصے میں اس علاقے کو ٹارگٹ کرنے کے رحجان سے متعلق پولیس حکام اور سکیورٹی کے امور کے ماہرین نے مختلف وجوہات بتائی ہیں۔ ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس اظہر اکرام نے بتایا کہ جس روز یہ واقعہ پیش آیا وہاں پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ یہاں ڈیوٹی دینے کے بعد یہ اہلکار واپس جانے کے لیے اپنی گاڑی کی جانب جا رہے تھے کہ ان کو نشانہ بنایا گیا۔
سابق ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ حساس علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں پولیس کی بھاری نفری ہر وقت موجود ہوتی ہے بلکہ سکیورٹی فورسز کی موومنٹ بھی یہاں زیادہ ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی اور شدت پسندی کے جو واقعات ہو رہے ہیں ان میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہدف رہے ہیں چونکہ اس علاقے میں ان کی موجودگی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس علاقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘جو لوگ اس وقت کوئٹہ میں سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں انھوں نے سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے ہوں گے لیکن جو عناصر ان واقعات کے پیچھے ہیں وہ بھی مسلسل کچھ نہ کچھ سوچ رہے ہوتے ہیں اور کبھی کبھار وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔’انھوں نے بتایا کہ ‘اس علاقے میں بہت سارے خفیہ کیمرے لگے ہوئے ہیں جن کے ذریعے اس واقعے میں ملوث شخص کا پتا لگانے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے۔’ سابق ڈی آئی جی کے مطابق ان واقعات کو میڈیا پر بھی اس وقت زیادہ توجہ ملتی ہے جب وہ کسی حساس اور اہم علاقے میں ہوں اس لیے ایسی سرگرمیوں میں ملوث تنظیمیں اور عناصر ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی حساس اور محل وقوع کے لحاظ سے اہم علاقوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
سکیورٹی کے امور کے ماہر عامر رانا کا کہنا تھا کہ ‘جہاں یہ دھماکہ ہوا ہے یہ کوئٹہ شہر کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ سرینا ہوٹل وہاں واقع ہے۔ بیرونی ممالک سے آنے والے لوگ اسی ہوٹل میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔ اندرون ملک سے اہم شخصیات کے علاوہ اہم سرکاری حکام بھی اسی ہوٹل میں قیام کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ‘اس وقت افغانستان میں صورتحال بدل رہی ہے، اس کی وجہ سے بھی اس ہوٹل میں رش بڑھے گا۔ ‘اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کو بھی کوئٹہ میں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ حساس علاقہ ہونے اور وہاں سے وی آئی پی موومنٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ انھوں نے بھی اس سے اتفاق کیا کہ موجودگی زیادہ ہونے کے باعث سکیورٹی اہلکار ان کا ہدف ہوسکتے ہیں۔’
عامر رانا کا کہنا تھا کہ ‘سرینا ہوٹل اور اس کے گردونواح میں پہلے جو واقعات ہوتے رہے ہیں ان کی ذمہ داری مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں تاہم اگر حالیہ واقعے کی ذمہ داری کسی بلوچ عسکریت پسند تنظیم نے قبول کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ واقعات بڑھ گئے ہیں اور ان کو اس تناظر میں دیکھنا ہوگا۔’انھوں نے کہا کہ ‘اس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ ایک حساس علاقے میں یہ واقعات کیسے پیش آئے۔’ حکام کی جانب سے بہتری کے دعووں کے باوجود ایسے واقعات کے رونما ہونے سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جہاں دیرپا امن نہ ہو وہاں اتار چڑھاﺅ ہوتا رہتا ہے۔’اگر کچھ وقت کے لیے ایسے واقعات میں کمی آتی ہے اور پھر ان میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پائیدار امن نہیں ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی حکمت عملی کو دیکھنا چاہیے۔

Back to top button