کوئی ویرانی سی ویرانی ہے: ایم کیو ایم کا نائن زیرو مرکز


کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع دہائیوں تک دہشت کی علا مت سمجھا جا نے وا لا نائن زیرو ہیڈکوارٹر جہاں سے الطاف حسین ماضی میں اپنی سلطنت چلاتے تھے آج مہاجر جماعت کے زوال اور عبرت کی زندہ مثال نظر آتا ہے۔ نائن زیرو کے زوال کی یہ کہانی اگست 2016 میں شروع ہوئی۔ جس نائن زیرو میں پارٹی ترانے اور نعرے گونجتے آج وہاں پر خاموشی اور تاریکی ڈیرے ڈال چکی ہے۔ نائن زیرو کے تین داخلی دروازے مکمل سیل ہیں اور دروازوں پر رینجرز اہلکار تعینات ہیں۔ نائن زیرو پر سیاسی سرگرمیوں پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے اور اور کسی بھی بھی عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔ یہاں تک کہ سیکیورٹی اداروں کی طرف سے عمارت کی میڈیا کوریج کی بھی اجازت نہیں۔
نائن زیرو کے مرکزی دروازے پر لگی الطاف حسین کی تصویر اور پارٹی نشان پتنگ ہٹایا جا چکا ہے جبکہ لوہے کے سفید رنگ کے مرکزی دروازے پر سے بھی جماعت کے سیاسی نشان پاکستان کے نقشے کے نیچے موجود پانچ ستاروں کو بھی کھرچ دیا گیا ہے۔
3 MQM
22 اگست2016کے روز لندن میں مقیم بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے کراچی میں منعقدہ ایک جلسے سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور تین نجی ٹی وی چینلز پر حملوں کا منصوبہ بنایا۔ بعد ازاں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جب ایم کیو ایم رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تو اُس وقت کے ڈپٹی کنوینر فارق ستار سمیت پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے الطاف حسین اور ان کی پاکستان مخالف تقریر سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے میڈیا پر الطاف حسین کا بیان نشر کرنے پر پابندی لگا دی ۔ جس کے بعد حکومتِ پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت کو ریفرنس بھی بھیجا گیا، جس میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ 23اگست 2016 کو پاکستان رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو میں واقع تمام دفاتر کو سیل کر دیا گیا۔
4 MQM
تین سال قبل ایم کیو ایم کے "دورعروج” میں کراچی کے علاقے عزیزآباد میں لیاقت علی خان چوک کے نام سے جانے جانی والی مشہورچورنگی ’مُکا چوک‘ سے لے کر نائن زیرو اسٹریٹ تک تقریباً تین سو میٹر کاعلاقہ غیر قانونی طور پر لوگوں کے داخلے کے لیے ممنوع قراردیا جاتا تھا۔ نائن زیرو کی جانب آنے والی ہر گلی پر نہ صرف رکاوٹیں لگی ہوتی تھیں بلکہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کی نفری بھی موجود ہوتی تھی جو آپ کی اور آپ کے سامان کی تلاشی لیے بغیر اندر جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے لیکن اب وہاں زندگی کی گہما گہمی جاری ہے اور سڑکیں عام ٹریفک کے لئے کھلی ہیں جبکہ دوسری طرف نائن زیرو ویران پڑا ہے۔ نائن زیرو کی ویرانی رونق میں بدلتی نظر نہیں آتی۔ نائن زیروکی حالت دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے پاکستان مخالف سوچ رکھنے والوں کے لیے اسے عبرت کا نشان بنا کر غیرمعینہ مدت کے لیے محفوظ کردیا گیا ہو۔
اگست 2016 کے بعدسے اب تک نہ تو متحدہ قومی موومنٹ سیاسی طور پر مستحکم ہو پائی ہے اور نہ ہی اس کے سیاسی قلعےکی روشنیاں بحال ہوسکی ہیں
2 MQM

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button