کوارنٹین اور آئسولیشن میں فرق نہ کرنے سے کرونا پھیلا

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئیسولیشن وارڈ اور قرنطینہ مراکز میں فرق نہ کرنے اور کرونا کے مشتبہ اور ممکنہ مریضوں کو ایک ساتھ رکھنے کے باعث یہ مہلک وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد ایک عام آدمی کے ذہن میں بھی یہ خیال آ رہا ہے کہ آخر یہ تعداد اتنی تیزی سے بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ اور آخر کیوں اس وائرس سے نجات کا کوئی سرا نہیں مل رہا ہے؟ طبی ماہرین کے مطابق کرونا کے معاملے میں بعض اہم نکات کی طرف توجہ نہ دینے سے یہ کیسز بڑھتے جا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر ضیاالحق کہتے ہیں کہ موجودہ وقت میں سب سے بڑی غلطی آئیسولیشن وارڈ اور قرنطینہ مراکز میں فرق نہ کرنا ہے، اور اس حوالے سے بڑی کنفیوژن پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی غلطی کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔
کوارنٹین اور آئسولیشن کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے قطعی مختلف مفہوم رکھتے ہیں۔ اگر آئیسولیشن کا مریض کوارنٹین میں ڈال دیا جائے تو یہ ایک فاش غلطی ہوگی۔دراصل کوارنٹین میں آئیسولیشن وارڈ سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوارنٹین وہ جگہ ہوتی ہے جہاں بیماری کے مشتبہ مریضوں کو علیحدگی میں رکھا جاتا ہے۔ مشتبہ سے مراد وہ مریض ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹروں کا خیال ہو کہ شائد یہ شخص کرونا وائرس سے متاثر ہوا ہو۔ یعنی اس کے بارے میں یقنی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دوسری جانب ممکنہ مریض سے مراد وہ مریض ہوتے ہیں جن کے متعلق ایک ڈاکٹر کافی حد تک قائل ہو چکا ہو کہ یہ کرونا وائرس کا مریض ہے۔ لہٰذا مشتبہ اور ممکنہ دونوں کورزلٹ آنے تک کوارنٹین کر دیا جاتا ہے۔ تاہم اسی نکتے پر بڑی غلطی کا امکان اور خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں قرنطینہ مرکز میں دونوں کو ایک ساتھ رکھ کر اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو ہو سکتا ہے منفی اور مثبت مریضوں کے مل جلنے کا خطرہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاک ایران سرحد تفتان بارڈر پر بھی یہی ہوا۔ ایران سے آئے زائرین کا قرنطینہ مرکز میں ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ نتیجتاً آدھے سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ اسی طرح جن علاقوں میں مثبت کیس نکلتے ہیں ان کو کوارنٹین قرار دیا جاتا ہے۔ باہر سے تو تمام احتیاط مکمل ہو جاتی ہیں لیکن اندر کے علاقے میں معمولات زندگی جاری رہتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے میل جول تعلقات برقرار رکھے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹرز سمجھتے ہیں کہ اول تو ایک علاقہ صحیح معنوں میں کوارنٹین تب ہی کہلائے گا کہ جب علیحدگی میں رہنے کی مدت پوری ہونے تک علاقے کے اندر بھی لوگوں کے گھروں کے باہر نکلنے پر پابندی ہو ورنہ یہ کیسز بڑھتے ہی جاتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق آئیسولیشن وارڈ میں صرف ان مریضوں کو رکھا جاتا ہے جن کے رزلٹ مثبت آئے ہوں یا پھر ان میں بیماری کی شدید علامات پائی جاتی ہوں۔ ایسے مریضوں کو دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ ان کے کھانے پینے کے برتن، تولیہ، بستر، اور دیگر استعمال کا سامان استعمال علیحدہ کر دیا جاتا ہے تاکہ اس سے اور لوگ متاثر نہ ہوں۔ ان کا باتھ روم اور کمرہ الگ ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دوسرے پازیٹیو مریضوں کے ساتھ ملتے جلتے ہوں تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
ڈاکٹرز کے مطابق کرونا وائرس کے پازیٹیو مریضوں کے لیے بہترین جگہ آئیسولیشن وارڈ ہوتا ہے کیونکہ گھر میں ایسے مریض کی تیمارداری مشکل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مریض گھر پر رہ کر اپنی بیماری کا تعین نہیں کر سکتا کہ آیا وہ بہتری کی طرف جارہا ہے یا بگڑ رہا ہے۔ آئیسولیشن وارڈ میں ڈاکٹرز کی نگرانی میں ایسے مریضوں کا رہنا زیادہ بہتر ہوتا ہے تاکہ مرض بڑھنے کی صورت میں ان کو فوری طور پر آئی سی یو میں شفٹ کیا جا سکے۔
اگر ڈاکٹرز کی وضاحت کے تناظر میں پاکستان بھر میں قائم زیادہ تر قرنطینہ مراکز کا جائزہ لیا جائے تو ان میں مشتبہ اور ممکنہ دونوں قسم کے مریضوں کو ایک ساتھ رکھا جارہا ہے جو ڈاکٹروں کے مطابق وائرس پھیلنے کا باعث بن رہا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کیسز ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button