کورونا آئسولیشن وارڈ: پمز کے آئی سی یو میں سانس لینی مشکل لیکن ٹوٹنی آسان ہے

دروازے کی دوسری طرف سب سے مشکل کام سانس لینا اور سب سے آسان اس کا ٹوٹنا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہاں آنے والوں کی تکلیف اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ منتیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں زہر کی گولی دی جائے کہ یہ اذیت ختم ہو۔
یہ کورونا وائرس کے مریضوں کےلیے بنا انتہائی نگہداشت کا یونٹ یعنی آئی سی یو ہے۔ یہاں آنے والوں کی حالت اس قدر تشویشناک ہے کہ ان کی سانس کی ڈوری مشینوں سے وابستہ ہے۔ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آئسولیشن سینٹر کی عمارت الگ تھلگ ہے۔ شروع میں تو لوگ اس عمارت کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے۔‘ اب بھی اس کے گرد ربن لگے ہیں اور ہر وقت سکیورٹی کا عملہ ڈیوٹی پر تعینات رہتا ہے تاکہ کوئی اندر نہ جا سکے۔ اس عمارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کو ہر وقت نگہداشت کی ضرورت ہے۔ ان میں سے بیشتر کی پھیپھڑے ختم ہو چکے ہیں، انہیں دیگر کئی بیماریاں ہیں جو کورونا وائرس نے مزید بگاڑ دی ہیں۔ ان سب کی زندگی کی ڈور زندگی بچانے والی مشینوں سے جڑی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں سے بیشتر میں ایک اور بات بھی مشترک ہے۔۔۔ وہ یہ کہ انہیں گمان تھا کہ ’کورونا وائرس سازش ہے‘، ’محض فلو ہے‘ یا بس ’ہمیں نہیں ہو گا۔‘
آئسولیشن سینٹر میں داخل ہوتے ہی آئی سی یو کا دروازہ نہیں آتا۔ بلکہ استقبالیہ ہے۔ اسے دیکھ کر دل میں خیال آتا ہے کہ یہ سنہ 2020 میں دنیا کے خطرناک ترین استقبالیوں میں سے ایک ہے۔ آپ پر اسپرے کیے جاتے ہیں، نام پتہ درج کیا جاتا ہے اور آمد کا مقصد بھی کیوں کہ یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں آنا کسی کو پسند بھی نہیں ہے۔ آئی سی یو اور استقبالیے کے درمیان دو دفاتر ہیں۔ ان میں سے ایک ‘ڈوننگ ایریا’ ہے یعنی وہ دفتر جہاں لباس تبدیل کیا جاتا ہے۔
آئی سی یو کے اندر جانے والا ہر ڈاکٹر، نرس یا امدادی عملہ ایک ذاتی تحفظ کی کِٹ پہنتا ہے، جو اس وقت دروازے کے دوسری جانب موجود ان دیکھے دشمن کے مدمقابل واحد ہتھیار ہے۔
یہ لباس، جسے پی پی ای کٹ یا پرسنل پروٹیکشن اِکوپمنٹ کِٹ کہا جاتا ہے، میں دو گاؤن، ایک اوور آل، ایک این 95 اور دو، یا اپنے اپنے ڈر کے مطابق، سرجیکل ماسک، ہوا میں موجود ذرات سے آنکھوں کے بچاؤ کےلیے عینک، اور پھر اس سب کے اوپر ایک وائزر، یعنی ایک موٹی شیلڈ جو پورے چہرے کو کور کرے اور دستانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طبی عملہ آپ کے دستانوں اور لباس، سر پر موجود دو ٹوپیوں اور اوور آل کے کور کے ساتھ موجود کسی بھی ممکنہ ایکسپوژر کو ختم کرنے کےلیے ان تمام جگہوں پر ٹیپ چسپاں کرتا ہے جہاں سے وائرس کے انسانی جلد کے ساتھ رابطے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
لیکن جیسا کہ گیم آف تھرونز کے تخلیق کار جارج آر آر مارٹن نے اپنے مشہور ناول ‘اے کلیش آف کنگز’ میں کہا تھا کہ سب سے زیادہ خوفناک وہ دشمن ہے جو نظر نہیں آتا۔ کورونا وائرس کا خوف بھی ایسا ہی ہے، یہ ڈاکٹروں کو بھی ہے، نیم طبی عملے کو بھی اورآئی سی یو تک پہنچنے والے مریضوں کو بھی۔
پی پی ای کٹ جس میں سانس لینا بھی دشوار ہے تاہم اس کے بغیر کوئی بھی اس یونٹ میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس حفاظتی لباس میں ڈاکٹر کم از کم چھ گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔ اسے پہننے کے بعد کچھ کھایا پیا جا سکتا ہے نہ ہی آئی سی یو سے باہر آ سکتے ہیں۔ آئی سی یو کے اندر کسی سطح کو ہاتھ لگانے، کسی شے کو فرش پر رکھنے یا مخصوص جگہوں کے علاوہ کہیں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں ایک پراسرار خاموشی ہے، خوف ہے، مشینوں کی بِیپ پر کانپتے جسم اور مکمل تنہائی ہے۔ کبھی کسی کمرے میں کوئی مریض کھانستا ہے تو پتا چلتا ہے کہ کہیں کوئی اور بھی ہے، ورنہ یہاں صرف تنہائی ہے۔
مریض جب تک یہاں ہے وہ کسی انسان کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اپنے کمرے میں بند صحت مند ہونے کا انتظار کرتا ہے یا پھر موت کا۔ اس دوران کیا ہوتا ہے، اکثریت کو یاد نہیں رہتا، ان کا حال صرف وہاں موجود طبی عملہ بتا سکتا ہے۔ یہاں موجود زیادہ تر مریض یا تو بے ہوش ہیں یا دوائیوں کے زیرِ اثر گہری نیند میں اور اس نیند میں بھی سانس لینے کی مشقت جاری ہے۔ آئی سی یو میں داخل ہوئے تو میں نے یہ ہرگز نہیں سوچا تھا کہ مجھے اقبال (فرضی نام) جیسے مریض ملیں گے۔
دوسرے کمرے میں کورونا کے مریض اقبال سو رہے تھے مگر وہ اچانک جاگ گئے۔ ان کے چہرے پر خوف سے زیادہ تھکن اور مایوسی تھی۔ ’ڈاکٹر مجھے کھانا لا دیں۔ میں نے کئی دن سے کچھ نہیں کھایا، مجھے طاقت کی دوا دیں، میں کمزور ہو گیا ہوں۔ خدا کےلیے کوئی مجھے کھانا لا دیں۔ میں نے کچھ نہیں کھایا۔‘
میں نے انہیں بتایا کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں مگر وہ کھانا مانگتے رہے۔ اس دوران نرس اور پھر ڈاکٹر بھی وہاں آ گئے۔ اقبال کےلیے کھانا منگوایا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق کورونا وائرس کے بعد ان کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ ان کی ڈاکٹر نے بتایا کہ ’اقبال دو ماہ سے آئی سی یو میں ہیں۔ وہ اس وقت کورونا وائرس کا شکار ہوئے جب وہ اسی اسپتال میں ڈائیلاسز کےلیے آئے۔ ان کے گردے ناکارہ ہوچکے ہیں۔ وہ اس حد تک ڈپریشن میں ہیں کہ اب ہم انہیں اینٹی ڈیپریسنٹس دے رہے ہیں۔‘ اقبال نے دو لقمے کھانا کھایا اورایک بار پھر نیم بے ہوشی کی حالت میں چلے گئے۔
یہاں موجود زیادہ تر مریض بے ہوش تھے اور جن کی آنکھیں کھلی تھیں وہ پریشان تھے۔ کئی مریض ہم سے بات کرتے ہوئے رو پڑے، کئی ایسے ہیں جنہیں یہ یقین نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے پیاروں سے مل پائیں گے۔ تاہم ان میں الگ تھلگ چہرہ امان خان کا ہے۔ وہ ایسے تیار ہوئے بیٹھے ہیں جیسے آج عید ہے۔ اور شاید ان کےلیے آج کا دن سب سے بڑا دن ہے۔ انہیں ایک نئی زندگی ملی ہے۔ وہ یہ تو نہیں بتا سکے کہ وہ کورونا وائرس کا شکار کیسے ہوئے مگر کہتے ہیں کہ ’میں تو پورا پاکستان گھومتا ہوں۔ آخری بار پاڑا چنار گیا تھا، شاید وہیں سے وائرس لگا ہو۔ اس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ چین سے کوئی بیماری آئی ہے۔‘
’بس خدا پر یقین ہے اور آج دیکھیں میں بالکل ٹھیک ہو گیا ہوں، یہاں ڈاکٹروں نے میرا بہت خیال رکھا۔‘ امان خان نے بتایا کہ انہیں تو کورونا بیماری کا پتا ہی نہیں چلا، نہ ہی انہیں کوئی تکلیف ہوئی۔ ’میں کہتا ہوں میرے جیسا خوش قسمت تو دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔ میرے ساتھ تو دعائیں ہیں۔‘ لیکن ان کی ڈاکٹر نے کہا کہ امان خان کو بچانا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ ’ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ یہ تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ یہ موت کے منہ سے واپس آئے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں اندازہ نہیں کہ ان کی حالت کس قدر تشویشناک تھی۔ یہ اپنی نماز باقاعدگی سے مسجد میں ادا کرتے تھے، انہیں اب بھی اس سب پر یقین نہیں۔‘
پاکستان میں ڈاکٹرز صرف کورونا وائرس کے خلاف ہی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ ان کےلیے دوہرے محاذ کھلے ہیں۔ انہیں اُن افواہوں، غلط معلومات، جھوٹی خبروں اور توہم پرست لوگوں کا بھی سامنا ہے جو اس وائرس کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک شخص سمجهتا ہے کہ کورونا وائرس بین الاقوامی طاقتوں نے پھیلایا ہے۔سروے میں شامل نصف افراد کا خیال ہے کہ اس وائرس کے خطرے کو بڑها چڑها کر پیش کیا جاتا ہے۔
پمز اسپتال کے آئی سی یو کی انچارج ڈاکٹر انیزہ جلیل نے بتایا کہ جب یہ وائرس پاکستان آیا تو اسپتال آنے والے زیادہ تر مریض یہی سمجھتے تھے کہ یہ وائرس ’بین الاقوامی قوتوں کی سازش ہے۔ یہ یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف سازش ہے تاکہ وہ مسلمانوں کی آبادی کم کر سکیں۔ ڈاکٹر ان ممالک کے ایجنٹس ہیں اور ان سے پیسے لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں آنے والوں کو یہ بھی یقین تھا کہ ڈاکٹر کورونا کے مریضوں کو زہر کا ٹیکہ لگاتے ہیں۔
’لوگ کہتے کہ یہ مسلمانوں کی آبادی کنٹرول کرنے کا طریقہ ہے۔ ڈاکٹروں نے ایجنسیوں سے پیسے لیے ہیں۔ یہ لوگوں کو جھوٹا کورونا کا مریض قرار دیتے ہیں، اسے قرنطینہ کرتے ہیں اور زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں۔ ان کی میت بھی اسی لیے بند کر دی جاتی ہے اور ورثا کے حوالے نہیں کی جاتی کیونکہ تابوت کھولیں گے تو پتا چل جائے گا کہ انھوں نے ہمارے بندے کے ساتھ کچھ تو کیا ہے۔‘ ڈاکٹر انیزہ کہتی ہیں کہ ’جب ہم مریض کے رشتہ دار کو کوئی دوا لکھ کر دیتے کہ یہ منگوائیں تو ان کا یہ سوال انتہائی تکلیف دہ ہوتا کہ کیا یہ وہی زہر کا ٹیکہ یا گولی ہے جس سے آپ نے ہمارے مریض کو مارنا ہے؟ کیا یہ اسی کمپنی کا ہے جس سے آپ نے کمیشن لیا ہوا ہے اور وہ یہ دوا تین تین لاکھ کی بیچ رہی ہے؟ یہ سب بہت بُرا لگتا تھا کہ ہمارا اس قدر نیک اور قابلِ احترام شعبہ ہے مگر ہم چپ ہو جاتے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے۔‘
کورونا کے اس آئی سی یو میں بطور ہیڈ نرس اپنی ذمہ داری سرانجام دینے والے خلیل احمد کہتے ہیں کہ ’جب مریض آتا تو اس کی حالت بہت خراب ہو چکی ہوتی تھی۔ چند گھنٹوں بعد اگر اس کی موت واقع ہو جاتی تو ان کے لواحقین کو یقین ہو جاتا کہ ان کے مریض کو مار دیا گیا ہے اور وہ جو افواہیں سنتے تھے، وہ سچ تھیں۔‘
اسی وارڈ میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر اظہر کہتے ہیں کہ لوگوں کو سمجھانا بہت مشکل تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک طرف یہ وبا چیلنج تھی تو دوسری جانب لوگوں کا رویہ۔ کبھی کبھی بہت مایوسی ہوتی تھی۔ ہمارے ساتھی دن رات کام کر رہے تھے، ہم اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے مگر لوگ اس وائرس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔‘ ’میں کئی ایسے ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جن کے کلینک پر لوگوں نے آنا چھوڑ دیا کیوں کہ وہ ان غلط معلومات پر یقین کرتے تھے کہ یہ ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا رہے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں ’لوگ کہتے کہ ایک بندہ مارنے کے سات ہزار ڈالر ملتے ہیں اور فلاں ڈاکٹر نے 35 انجیکشن لے کر رکھے ہیں۔ لوگوں نے اس بیماری کے باوجود ڈاکٹروں کے پاس جانا چھوڑ دیا تھا۔‘
ایسے مریض بھی ان ڈاکٹروں کے پاس آتے رہے ہیں جو اس بیماری کی خطرناک حد تک پہنچ چکے تھے مگر انہیں پھر بھی اس وائرس کی حقیقت پر یقین نہیں تھا۔
ڈاکٹر انیزہ کے مطابق بعض اوقات مریض کی حالت درست ہونے کے قابل نہیں ہوتی تھی۔ ’مریض کے رشتہ داروں کو سمجھانا اس قدر مشکل مرحلہ تھا، وہ کہتے،اچھا اب تو اس کا کوئی علاج نہیں، مرنے والا ہے، تو کیوں نا ہم اپنے مریض کو گھر لے جائیں، یہ آخری وقت اپنے پیاروں کے ساتھ گزار لے؟ انہیں قائل کرنا مشکل تھا کہ یہ بیماری دوسروں کو لگ سکتی ہے۔ کسی کو بھی لگ سکتی ہے۔‘پھر کئی افراد ایسے بھی تھے جنھیں یہ وائرس موجودہ حکومت کی سازش لگتا۔
ڈاکٹر اظہر جو کئی ماہ سے کورونا وارڈ میں ڈیوٹی دے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ لوگ سمجھتے تھے کہ حکومت اس وائرس کے ذریعے اپنے قرضے معاف کرانا چاہتی ہے۔
’وہ کہتے کہ حکومت نے بین الاقوامی امدادی اداروں اور امیر ممالک سے پیسہ لینا ہے، کچھ سے اپنا قرضہ معاف کروانا ہے اور آپ لوگ حکومت کے ایجنٹ ہو۔ اس لیے ہمیں جھوٹ موٹ کا کورونا وائرس لکھ رہے ہو تاکہ پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر بتائی جا سکے۔ اصل میں تو ہمارے مریض کو کورونا نہیں ہے، یہ تو موسمی کھانسی بخار ہے۔‘ ڈاکٹروں کے مطابق بعض مریض کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود نہیں بتاتے تھے کہ ان کا ٹیسٹ مثبت ہے۔
جبکہ لوگ یہ بھی کہتے کہ اگر انھوں نے ٹیسٹ کروایا تو ان کا نام حکومت کے پاس چلا جائے گا، ایک گاڑی آئے گی ان کے سارے خاندان کو مختلف جگہوں پر قرنطینہ کیا جائے گا اور یوں ان کی بدنامی ہو گی۔ اس لیے لوگ ٹیسٹ ہی نہیں کراتے۔ طبی عملے کو صرف افواہوں کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ ان چند ماہ میں انہیں بدترین دھمکیاں بھی سننے کو ملیں۔
ڈاکٹر انیزہ بتاتی ہیں کہ ایک دن وارڈ میں کلینیکل راؤنڈ کے دوران ایک مریض نے ان سمیت سب ڈاکٹروں پر چلانا شروع کر دیا۔ ’یہ مریض اب صحتیاب ہو رہے تھے، ان کا ایک ٹیسٹ منفی آ گیا تھا مگر ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ وارڈ سے باہر نارمل آکسیجن پر سانس لے سکیں۔ وہ ایک ماہ سے اپنے بچوں سے نہیں ملے تھے اور بار بار مطالبہ کرتے کہ ہم ان کے اہلخانہ کو ان سے ملنے دیں جو ممکن نہیں تھا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ میں یہاں سے جس دن نکلا اسی دن تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔‘ ’مگر مجھے ان کی گالیوں پر غصہ نہیں آیا۔ میں نے سوچا کہ کورونا وائرس کی یہ بیماری انسان کو کس قدر کمزور کر دیتی ہے۔‘
ڈاکٹروں کو ایسے مریض بھی ملے جو ان کا حوصلہ بڑھانے کا سبب بنے۔ ڈاکٹر اظہر کہتے ہیں کہ ایک مریض نے اسپتال سے ڈسچارج ہوتے وقت ایک خط لکھا جس میں انھوں نے ہم سب کے نام لکھے اور سب کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر انیزہ کےلیے گذشتہ چند ماہ انتہائی جذباتی رہے اور اس دوران انھوں نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔
’کسی مریض کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہوتی کہ ہمیں لگتا یہ نہیں بچے گا مگر اگلے دن جب وہ ہمیں بیٹھا ہوا، باتیں کرتا نظر آتا تو ہماری ہمت بندھ جاتی۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ مریض کی حالت بد سے بدتر ہوجاتی اور ان کے بے بس رشتہ دار ہاتھ جوڑتے نظٌر آتے۔‘
’ایک بار ایک نوجوان میرے سامنے سر جھکائے ہاتھ جوڑے رو رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ خدا کےلیے میرے والد کو بچا لیں۔ میری ماں کورونا سے مر گئی ہیں، میرے باپ کو کچھ ہو گیا تو میرا سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اس وقت تو میں نے انہیں حوصلہ دیا مگر گھر جا کر میں روتی رہی۔‘ آئی سی یو میں ہماری ملاقات ایک اور مریضہ سے ہوئی۔ وہ رو رہی تھیں اور انتہائی تکلیف میں تھیں۔ انہیں سانس لینے میں دشواری تھی مگر وہ ہم سے بات کرنا چاہتی تھیں۔ عمر لگ بھگ پچاس برس ہو گی۔ ان کے سر کے بال ایسے اجڑے تھے جیسے نجانے کب سے اسی بستر پر ہیں۔ نرس نے بتایا کہ یہ ایک مہینے سے زیرِ علاج ہیں۔
وہ کہنے لگیں: ’ہم نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ میں اپنی نواسی کےلیے شاپنگ کرنے بازار گئی تھی۔ میری بیٹی فوت ہوئی اور پھر عید تھی۔ میں نے سوچا بچیوں کےلیے کچھ خرید لوں مگر وائرس لگ گیا۔‘ ’ایک ہفتے بعد سانس آنا بند ہو گئی۔ ایسا لگتا تھا سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور پھر یہاں آئی سی یو آ گئی۔ تب سے یہیں ہوں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ لوگ اس بیماری کو سمجھ نہیں رہے کہ یہ کس قدر خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ’خدارا باہر مت نکلیں۔ ضرورت نہیں تو بازار نہ جائیں۔‘
ڈاکٹر کہتے ہیں یہ مریضہ بتدریج بہتر ہو رہی ہیں مگر ابھی انہیں سنبھلنے میں وقت لگے گا۔ورونا وائرس کی اس وبا کے دوران طبی عملے کو ایک بڑا دھچکہ اس وقت پیش آتا ہے جب اس وائرس سے کسی کی موت ہو جائے۔ دھمکیاں، گالم گلوچ اور مارپیٹ، اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کووڈ 19 سے فوت ہونے والے مریضوں کے لواحقین میتوں کی فوری حوالگی چاہتے ہیں مگر کورونا وائرس سے فوت ہونے والے افراد کی میتوں کے حوالے سے چند قواعد و ضوابط وضع کیے گئے ہیں جن کے تحت فوری حوالگی ممکن نہیں ہوتی۔
خلیل احمد کہتے ہیں کہ لوگ پہلے ہی اس وائرس اور ڈاکٹروں پر شک کرتے مگر جب انہیں یہ پتا چلتا کہ انہیں میت فوراً نہیں ملے گی، یا تابوت میں بند ملے گی جسے وہ کھول نہیں سکتے یا اگر ان کے فوت ہونے والے مریض کے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے تک میت نہیں دی جائے گی تو پھر ان کا غصہ بہت بڑھ جاتا تھا اور صورت حال بگڑ جاتی۔‘
پمز میں سپورٹنگ اسٹاف کے ہیڈ نذیر قریشی نے مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صرف ایک یا دو فیصد لوگ یہ مانتے تھے کہ ہاں یہ ایک خطرناک وائرس ہے، باقی سب تو صرف لڑائی کرتے۔ کسی کی موت ہو جاتی تو ہمارے ہاں ایک دو لوگ تو آتے نہیں۔ گاڑیاں بھر کر آمد ہوتی تھی۔ ایک بار ایک کورونا کا مریض جانبر نہ ہو سکا تو اس کے رشتہ دار آ گئے۔ یہ سو یا شاید ڈیڑھ سو بندے تھے جو بیس پچیس گاڑیوں پر آئے تھے اپنے عزیز کی میت لینے مگر یہاں آ کر انہیں پتا چلا کہ اسپتال تو ایس او پی کی پیروی کرے گا۔ ان میں سے ایک شخص نے پستول نکالا اور مجھے کہا کہ میت ہمارے حوالے کرو ورنہ میں تمہارے پانچ سات بندوں کو یہیں گولی مار دوں گا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت واضح مؤقف کے ذریعے کورونا وائرس سے جڑی افواہوں کو ختم کرسکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ خود وزیراعظم عمران خان نے اسے ’محض فلو‘ قرار دیا اور کہا کہ 98 فیصد لوگوں کو اس سے کچھ نہیں ہوتا لیکن بعد میں ایک موقع پر عمران خان نے یہ بھی کہا کہ عوام نے شروع میں اس وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
مگر اس تمام صورتحال میں طبی عملے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر اظہر کہتے ہیں کہ انہیں اس وقت بہت دکھ ہوا جب ایک مریضہ کی بیٹی نے ہمیں کہا کہ ہم نے ان کی ماں کو مار دیا ہے۔
’ان کی والدہ کورونا وائرس سے ہلاک ہوئیں۔ وہ اگلے دن اسپتال آئیں اور ہم سب کو گالیاں دیں۔ ہمیں بددعائیں دیں کہ یہی وائرس ہمارے اہلخانہ کو بھی لگ جائے۔‘
’انھوں نے یہاں تک کہا کہ ہم نے ان کی والدہ کو زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا ہے۔ میں بہت مایوس ہوا۔ اس لمحے میں نے سوچا کہ میں کیوں نہ یہ ڈاکٹری چھوڑ ہی دوں؟ کیا فائدہ اگر میں کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ ایسا نہیں کہ ہم سب کوشش نہیں کرتے۔ بہت کوشش کرتے ہیں مگر یہ وائرس بہت خطرناک ہے۔ علاج کرتے ہوئے ہمارے اپنے کئی ساتھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔‘
ڈاکٹر انیزہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر بعض اوقات منفی رویے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مگر پھر میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ ہم ان مریضوں کے ساتھ اس وقت کھڑے ہیں جب سب ان کو چھوڑ گئے ہیں۔’ہمارا شعبہ تو پیسے اور ہر بے معنی شے سے بہت بلند ہے۔‘
