کورونا وائرس: دنیا کے 13 ممالک میں اسکولز بند

کورونا وائرس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں شہریوں کے متاثر ہونے کے بعد تعلیمی نظام بھی درہم برہم ہونے لگا۔ وائرس کے سبب دنیا بھر کے تقریباً 30 کروڑ بچے ان دنوں اسکول نہیں جا رہے اور گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے مطابق وائرس کے پھیلتے ہی مختلف ممالک نے غیر معمولی اقدامات تحت اسکولوں میں تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔ اب تک 13 ممالک اسکولوں کو بند رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں جب کہ 9 دیگر ممالک نے جزوی طور پر اسکولوں کو بند کر رکھا ہے۔
یونیسکو کے سربراہ اوڈرے زیولے کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسی بحران کے دوران عارضی اسکولوں کی بندش کوئی نیا واقعہ نہیں ہے لیکن اس بار تعطیلات کا دورانیہ کافی طویل ہو گیا ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلتے ہی دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں اسکولوں کو بند کیے جانے کے بعد تقریبا 30 کروڑ بچے دنیا بھر میں اسکول جانے سے محروم ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نوول کورونا وائرس یا کووڈ-19 اس وقت 80 ممالک تک پھیل چکا ہے جبکہ اس وقت تک دنیا بھر میں 95 ہزار افراد متاثر اور 32 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔
عالمی سطح پر اموات اور کیسز کی بڑی تعداد کا تعلق چین سے ہے جہاں یہ پہلی مرتبہ گزشتہ سال کے آخر میں سامنے آیا تھا جس کے بعد وہاں کی حکومت نے پورے شہروں کو قرنطینہ میں ڈال دیا تھا، عارضی طور پر فیکٹریاں اور اسکول بند کردیے تھے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز اٹلی نے کورونا وائرس سے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 107 ہونے کے بعد اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو 15 مارچ تک بند رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔
چین کے بعد سب سے زیادہ 6 ہزار کیسز کی تعداد والے ملک جنوبی کوریا نے نئے تعلیمی سال کا آغاز 23 مارچ تک منسوخ کردیا ہے۔ جاپان میں وزیر اعظم شنزو آبے کی مارچ اور موسم بہار کی چھٹیوں کے درمیان تمام کلاسز منسوخ کرنے کی ہدایت پر تقریباً تمام اسکول بند ہیں۔ فرانس میں جہاں کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے ان علاقوں میں تقریباً 120 اسکول بند ہیں۔
پاکستان جہاں اب تک صرف 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، صوبائی حکومتوں نے اسکولوں کی بندش کا اعلان کر رکھا ہے۔
سندھ میں 13 مارچ، بلوچستان میں 15 مارچ اور گلگت-بلتستان میں 7 مارچ تک اسکول بند رہیں۔
کیسز کی تعداد وائرس کے مرکز چین کے باہر دیگر ممالک میں اب اس سے بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button