کورونا وائرس متاثرہ ممالک کے عمرہ زائرین کی آمد پر پابندی عائد

سعودی عرب نے کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کے عوام کے لیے عمرہ اور سیاحت کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے جبکہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سعودی عرب نے پاکستانیوں کو جاری عمرہ ویزے منسوخ کردئیے ہیں۔
سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے خدشے کے پیش نظر عمرہ زائرین کے داخلے پر عارضی پابندی لگادی ہے۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے پاکستانیوں کو جاری عمرہ ویزے منسوخ کردئیے ہیں جس کے نتیجے میں کراچی، سیالکوٹ اور اسلام آباد سے جدہ اور مدینہ جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں ہیں۔ عمرہ زائرین کی روانگی پر پابندی کا اطلاق 27 فروری سے کر دیا گیا ہے. جس کے بعد مختلف ملکی و غیر ملکی کمپنیوں نے فلائٹس کی منسوخی کے علاوہ عمرہ زائرین کو پرواز سے آف لوڈ کرنا شروع ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی طرف سے پابندی کے اطلاق کے بعد عمرہ یا وزٹ ویزہ رکھنے والے مسافرسعودی عرب نہیں جا سکیں گے اور صرف بزنس ویزہ یا اقامہ رکھنے والے ہی جاسکیں گے۔
سعودی وزارت خارجہ نے پاکستان سے اڑنے والی تمام پروازوں کا باقاعدہ طور پر خبردار کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے کسی بھی شہری کو مکہ مکرمہ میں عمرے کی ادائیگی یا مدینہ منورہ کی زیارت کےلیے ہرگز نہ لے کر آئیں۔ سعودی حکام کے واضح انتباہ کے بعد پاکستانی ایوی ایشن ڈویژن نے پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز کواس حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں ۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں اس وقت تک کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تاہم اس کے پڑوسی ممالک میں یہ پھیل چکا ہے۔ ایران میں کورونا وائرس کے سامنے آنے والے واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے بیرون ملک کے شہریوں پر عمرہ کی ادائیگی سمیت دیگر مذہبی زیارتوں پر عارضی طور پر پابندی کا فیصلہ تعجب کی بات نہیں ہے۔عمان، کویت اور بحرین جیسے پڑوسی ممالک میں سامنے آنے والے زیادہ تر کورونا وائرس کے کیس ایسے مسافروں سے منسلک ہیں جو مذہبی زیارات کے لیے ایران گئے تھے۔ سعودی عرب کی جانب سے یہ پابندی مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان کے شروع ہونے سے 60 دن قبل عائد کی گئی ہے۔ یہ سعودی عرب کے دورے کے لیے دوسرا مصروف ترین عرصہ ہے جس کے دوران لاکھوں زائرین مکہ مکرمہ آتے ہیں۔ حکام نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے غیر مذہبی مقاصد کے لیے آنے والے مسافروں کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ ۔
واضح رہے کہ مسلمانوں کے لیے مذہبی اہمیت کے حامل مکہ اور مدینہ شہر کی خادم سعودی ریاست سالانہ لاکھوں مسلمانوں کی میزبانی کرتی ہے جبکہ حج کے موقع پر اس تعداد میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ عمرہ زائرین کی آمد پر پابندی کے حوالے سے سعودی وزارت امور خارجہ نے بیان میں کہا کہ یہ معطلی عارضی ہے تاہم انہوں نے اس کے خاتمے کا وقت نہیں بتایا، ساتھ ہی یہ بات بھی واضح نہیں کہ جولائی کے مہینے میں آنے والا حج اس پابندی سے متاثر ہوگا یا نہیں۔ سعودی حکام کی طرف سے عمرہ زائرین کیلئے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں داخلہ بھی معطل کردیا گیا ہے۔۔ اپنے بیان میں وزارت خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس معطلی سے کہ کونسے ممالک اس سے متاثر ہوں گے۔
یاد رہے کہ عمرہ موسم کے دوران سعودی عرب 29 لاکھ 13 ہزار 170 سے زائد ویزے جاری کر چکا ہے۔ عمرہ ویزے پر آنے والوں میں پاکستانی زائرین سر فہرست ہیں جن کی اب تک کی تعداد 6 لاکھ ایک ہزار 880 تک پہنچ چکی ہے‘۔’دوسرے نمبر پر انڈونیشیا کے زائرین ہیں جن کی تعداد 5 لاکھ 37 ہزار 894 ہے۔ تیسرے نمبر پر انڈین، چوتھے نمبر پر مصری اورپانچویں نمبر پر ملائیشین ہیں۔ سعودی حکام کی طرف سے عمرہ زائرین کی آمد پر پابندی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکومت ویزا قواعد میں نرمی کر کےسیاحت کے شعبے میں زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سعودی حکام سیاحت کو 2030 تک ملک کے جی ڈی پی کا 10 فیصد بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button