کورونا وائرس سے ہلاکتیں جاری، مجموعی تعداد 2100 سے متجاوز

چین سے شروع ہونے والے نئے مہلک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور ایران اور جاپان میں مجموعی طور پر 4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 2100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین میں 114 مزید اموات کے ساتھ کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار ایک سو 18 ہوگئی جبکہ اس مہلک وائرس سے اب تک چین میں 74 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ دیگر 25 ممالک میں یہ تعداد 100 سے زائد ہے۔
چین کے صحت حکام نے تقریباً ایک ماہ کے دوران نئے کیسز کی سب سے کم تعداد کو رپورٹ کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے حکام نے چین میں پیش رفت کا ذکر کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ ابھی یہ اہم موڑ پر نہیں پہنچی۔
تمام صورتحال پر رواں ہفتے چینی حکام نے کہا تھا کہ ہوبے میں کروڑوں افراد کو قرنطینہ کرنے سمیت سخت روک تھام کی کوششیں اور دیگر شہروں میں نقل و حرکت پر پابندی کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
علاوہ ازیں چینی وزیرخارجہ وانگ یی کا کہنا ہےکہ مشکل کوششوں کے بعد صورتحال تبدیل ہوکر بہتری کی طرف جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوبے اور اس کے دارالحکومت ووہان اس وقت بھی مذکورہ وبا سے ‘کافی متاثر’ ہے لیکن صورتحال اس وقت موثر طریقے سے کنٹرول میں ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ وسطی ایرانی شہر قم میں صحت کے حکام نے ملک میں کورونا وائرس کے پہلے واقعے کے نتیجے میں 2 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔ کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دو بزرگ مرد قم کے ہسپتال میں موت کا شکار ہوئے۔ واضح رہے کہ ایران میں دونوں افراد کی موت کی خبر حکام کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کے پہلے 2 کیسز کی تصدیق کے کچھ گھنٹوں بعد سامنے آئی۔
دوسری جانب فرانسیسی خبررساں ادارے ایف ایف پی نے رپورٹ کیا کہ چین میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں بڑی کمی آرہی ہے لیکن جاپان میں کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور قرنطینہ کیے گئے جہاز کے 2 مسافر ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بیرون ملک جانے والے بزرگ خاتون اور مرد جاپان میں ہلاک ہوئے۔
کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔ ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔
ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔
