کورونا وائرس: چین کے بعد جنوبی کوریا دوسرا بڑا متاثر ملک

چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے دنیا بھر کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے، دیگر ممالک میں بھی متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے جب کہ جنوبی کوریا میں اس کے کیسز میں اضافے نے اسے چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا حصہ بنادیا۔
چین کے علاوہ یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بھی اس وائرس کے کیسز سامنے آرہے ہیں اور وہاں موجود انتظامیہ اسے روکنے کےلیے اقدامات کر رہی ہے۔
ادھر کویت کے سرکاری خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ کویت میں ایک سعودی شہری سمیت 3 افراد نئے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے، یہ افراد ایران سے واپس آئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق خلیجی ریاستوں میں سامنے آنے والے پہلے واقعے میں متاثر ہونے والے یہ تینوں افراد ان 700 افراد میں سے ہیں جن کا گزشتہ ہفتے ایرانی شہر مشہد سے انخلا ہوا تھا۔ علاوہ ازیں بحرین کے سرکاری خبر رساں ادارے نے وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بحرین میں بھی نئے کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا۔ وزارت صحت نے کہا کہ یہ بحرین کا شہری ہے جو ایران سے آیا تھا۔
دوسری جانب چین میں کورونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 150 لوگوں کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 2600 تک پہنچ گئی ہے۔
چینی انتظامیہ کے مطابق وہ وائرس کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ساتھ ہی ان کے بقول نقل و حرکت پر غیرمعمولی پابندی اور وائرس کے مرکز اور قریب میں قرنطینہ کرنے سے انفیکشن کی شرح کم ہورہی ہے۔
تاہم دنیا کے دیگر ممالک میں نئے کیسز اور اموات کی بڑی تعداد نے ممکنہ وبائی مرض سے متعلق خدشات کو بڑھادیا ہے اور جنوبی کوریا، اٹلی اور ایران میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
دریں اثنا ایران میں مہلک وائرس سے ہونے والی اموات اور متاثرین کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے 14 صوبوں میں اسکولز، جامعات اور ثقافتی مراکز کو بند کردیا ہے۔ کہ ایران میں مزید 4 اموات کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی جبکہ 43 افراد اس سے متاثر ہیں۔
یہ مشرقی ایشیا سے باہر ہونے والی اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر ترکی، پاکستان، ارمینیا نے ایران کے ساتھ سرحد کو بند کردیا ہے۔
جنوبی کوریا کے شہر دائیگو سے سامنے آنے والے پہلے کیس کے بعد سے اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، پیر کو مزید 161 افراد اس سے متاثر اور 2 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی گئی۔ وائرس سے چین سے باہر متاثرہ افراد کی تعداد 700 سے تجاوز کرگئی۔ ادھر جنوبی کوریا کے صدر مون جائی نے ملک میں وائرس کے خطرے کو ‘ریڈ’ سطح تک بڑھا دیا ہے تاکہ اس بڑھتے وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کو تقویت دے سکے۔ علاوہ ازیں وہاں حکومت نے کنڈرگارڈن اور اسکول کی تعطیلات میں ایک ہفتے کا اضافہ کردیا جب کہ چین سے آنے والے افراد کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔
ادھر اٹلی میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مختلف فٹ بال سیریز ملتوی کردی گئیں جبکہ میلان فیشن فیک میں وینس کارنیول کو محدود اور کچھ رن وے شوز کو منسوخ کردیا گیا۔ اگر اٹلی کی ہی بات کی جائے تو وہاں میلان سے تقریباً 70 کلومیٹر دور شمالی علاقے کوڈوگنو میں زیادہ تر کیسز سامنے آئے۔
مذکورہ وائرس سے اٹلی میں ایک بزرگ کینسر کا مریض ہلاک ہوا جس کے بعد وہاں مجموعی طور پر تین افراد اب تک اس وائرس سے ہلاک ہوئے جب کہ 150 سے زائد اس سے متاثر ہیں۔
ملک میں 50 ہزار سے زائد لوگ جس میں زیادہ تر شمالی اٹلی کے علاقوں میں موجود ہیں انہیں گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے جبکہ پولیس نے مختلف چیک پوائنٹس بھی بنا دی ہیں۔
اٹلی کے وزیراعظم جیوپسی کونٹے نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور صحت کے حکام کے مشورے پر عمل کریں۔
اگر اب تک کی مجموعی تعداد پر نظر ڈالیں تو تقریباً 2 درجن ممالک میں چین سے باہر تقریباً 30 لوگ ہلاک جبکہ 1500 سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم چین میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 5 سو 92 ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد 77 ہزار سے تجاوز کرچکے ہیں۔
