کورونا وائرس کا خطرہ پاک-افغان سرحد 7 روز کیلئے بند

پاکستان نے افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز سامنے آنے پر چمن بارڈر 7 روز کے لیے بند کردیا ہے۔
چمن بارڈر کے علاوہ ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر تفتان بارڈر پہلے ہی بند کردیا گیا تھا اس کے علاوہ دونوں ممالک کے ساتھ موجود دیگر کراسنگ پوائنٹ بھی بند کردیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چمن بارڈر ابتدائی طور پر ایک ہفتے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس دوران کسی کو بھی سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور افغان حکومت کو بھی فیصلے سے آگاہ کردیا گیا تھا۔سرحد بند کرنے کا فیصلہ وزارت داخلہ نے افغانستان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد کیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ ’متعلقہ حکام نے ابتدائی طور پر7 روز کے لیے 2 مار چ سے پاک افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ ہے تا کہ سرحد کے دونوں اطراف کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے جو دونوں برادر ممالک کے عوام کے بہترین مفاد میں ہیں، اس عرصے کے دوران دونوں ممالک کے عوام کی صحت محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔’بابِ دوستی کے ایک ہفتے تک بند رہنے کی وجہ سے چمن میں پاک افغان سرحد پر کوئی سرگرمیاں نہیں ہوں گی‘۔ ذرائع کے مطابق اس عرصے کے دوران افغانستان میں تعینات امریکا اور نیٹو فورسز کے لیے سامان کی فراہمی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی معطل رہے گی۔ اس سلسلے میں امیگریشن آفس بھی بند رہے گا اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو کے سامان سے لدے ٹرکس جو چمن پہنچ چکے انہیں کسٹم ہاؤس یارڈ کے محفوظ مقام پر منقتل کیا جائے گا۔
خیال رہے روزانہ دونوں اطراف سے تقریباً 7 سے 8 ہزار افراد تجارت، کاروباری سرگرمیوں کے لیے چمن اور افغان سرحدی علاقے ویش میں قائم سرحدی مقام سے گزرتے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ صحت نے چمن میں مشتبہ مریضوں کو رکھنے کے لیے آئیسولیشن وارڈز قائم کردیے تھے تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسکریننگ میں افغانستان سے آنے والا کوئی شخص بھی وائرس سے متاثرہ محسوس نہیں ہوا۔
قبل ازیں پاکستان نے ایران کے کئی شہروں میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے سبب 23 فروری کو تفتان بارڈر بند کردیا تھا۔
تاہم دونوں ممالک کی مقامی اتنظامیہ نے 3 دن کے لیے سرحدی گیٹ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا تا کہ دونوں ممالک میں پھنسے ہوئے افراد اپنے اپنے ملک لوٹ سکیں۔ جس کے بعد یکم مارچ کے روز پاکستان ایران سرحد سے ایک ہزار 34 زائرین سمیت 13 سو پاکستانی اسکریننگ کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے جبکہ 8 ایرانی شہری اپنے وطن گئے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سرحد پر تعینات محکمہ صحت کی ٹیمز ایران سے واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کی اسکریننگ کررہی ہیں اور زائرین کو قرنطینہ میں رکھا گیا جبکہ باقی افراد کو ان کے گھر واپس جانے دیا گیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان میں پاکستان ہاؤس میں قائم قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین نے باہر نکل کا احتجاج کیا۔احتجاج کے لیے 2300 زائرین قرنطینہ سے نکل کر تفتان کی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔زائرین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں قرنطینہ سے نکال کر گھروں کو بھیجا جائے، ہمیں ماسک، کمبل اور علاج کی کوئی ضرورت نہیں، گھر جانا چاہتے ہیں۔جس کے بعد ضلعی انتظامیہ، فرنٹیر کور (ایف سی) اور پروونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے مظاہرہن سے مذاکرات کیے گئے۔
