کورونا وائرس کے سبب آئی پی ایل غیرمعینہ مدت تک ملتوی

کرونا وائرس کے سبب بھارت میں لاک ڈاؤن میں توسیع کے بعد انڈین پریمیئر لیگ(آئی پی ایل) کو غیرممعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر 5اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب حکومت نے لاک ڈاؤن میں 3مئی تک توسیع کردی ہے۔
بھارتی کرکٹ حکام کی جانب سے ایونٹ کے باقاعدہ التوا کا تو کوئی اعلان نہیں کیا گیا لیکن لاک ڈاؤن میں توسیع کے سبب دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ کا التوا بھی ناگزیر تھا۔دنیا کے دیگر کھیلوں کے مقابلوں کی طرح آئی پی ایل کا انعقاد بھی التوا کا شکار ہے جسے رواں سال 29مارچ سے منعقد ہونا تھا۔ایک ٹیم آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ایجنسی اے ایف کو بتایا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فی الحال منسوخ سمجھا جائے اور ہم سال کے آخر میں کوئی موزوں موقع دیکھ کر ایونٹ کے انعقاد کی کوشش کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کو تمام آئی پی ایل ٹیموں کو غیرمعینہ التوا کے حوالے سے بتا دیا گیا تھا اور اب بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا(بی سی سی) ایونٹ کو ستمبر اکتوبر میں منعقد کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔بی سی سی آئی کیے سربراہ سارو گنگولی نے دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں جلد شروع ہونے کی امید ظاہر کی تھی۔گنگولی نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں ہر جگہ زندگی رک سی گئی ہے، ایسے میں کھیلوں کا کیا مستقبل ہو گا؟۔دنیا بھر میں عائد پابندیوں کے سبب کھلاڑی اب سفر نہیں کر سکتے اور بھاعر میں پابندیوں کے سبب نئے ویزے بھی نہیں جاری کیے جائیں گے لہٰذا ایونٹ کا آئندہ کچھ ہفتوں تک انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا۔سابق مایہ ناز بھارتی بلے باز وی وی ایس لکشمن نے کہا کہ آئی پی ایل کا انعقاد ٹی20 ورلڈ کپ سے قبنل ہونا چاہیے جو اکتوبر اور نومبر میں شیڈول ہے۔
سن رائزرز حیدرآباد کے مشیر کی خدمات انجام دینے والے سابق کرکٹر نے اسٹار اسپورتس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں دنیا کے اکثر کرکٹ بورڈز اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ آئی پی ایل ایک بڑا ٹورنامنٹ ہے اور ورلڈ کپ سے قبل اگر یہ منعقد ہوتا ہے تو ماحول بن جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہر چیز بہتر ہو جائے گی اور کسی کو بھی خطرہ نہیں ہو گا اور ایک مرتبہ ایسا ہو گیا تو آئی پی ایل سے کرکٹ کیلنڈر کا آغاز ہوگا۔سابق انگلش کرکٹر سمیت چند کرکٹ ماہرین نے ایونٹ کو مختصر کر کے منعقد کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی پی ایل کو 8ہفتوں کے بجائے 4ہفتوں میں منعقد کرایا جائے اور میچز بند اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں۔یہ لیگ بھارتی کرکٹ بورڈ اور بھارتی معیشت دونوں کے لیے انتہائی منافع بخش ہے اور بھارتی معیشت کو اس سال لیگ سے 11ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔آئی پی ایل دنیا کی سب سے بڑی اور مالی اعتبار سے کھلاڑیوں کے لیے انتہائی منافع بخش لیگ ہے اور اس بات کا انداز ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں سال لیگ کے لیے خریدے گئے سب سے مہنگے کھلاڑی آسٹریلین فاسٹ باؤلر پیٹ کمنز تھے جن کی خدمات کولکتہ نائٹ رائیڈر نے 2.17ملین ڈالرز(36کروڑ 36لاکھ 76ہزار پاکستانی روپے) میں حاصل کی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button