کورونا: چین میں مزید 76 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 2700 سے تجاوز

کورونا وائرس سے چین میں مزید 76 افراد کی ہلاکت کے بعد جان لیوا وائرس سے موت کے منہ میں جانے والوں کی تعداد 2700 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اٹلی یورپ کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا جہاں ہلاکتیں 10 سے تجاوز کر گئی ہیں۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 76 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 715 ہو گئی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث مزید 15 افراد کی ہلاکت تصدیق کی گئی ہے جب کہ یورپ میں اٹلی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے جہاں اموات کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا میں بھی کورونا وائرس کے باعث 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ سیئول میں تعینات ایک امریکی فوجی میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اٹلی کا شمالی علاوہ کوڈونگو سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے جہاں اسکولوں اور دکانوں کو بند کر دیا گیا ہے جب کہ بسیں بھی اس علاقے میں نہیں روکی جا رہیں۔ قرنطینہ کے باعث 50 ہزار نفوس پر مشتمل کوڈونگو کو اٹلی کا ووہان قرار دیا جا رہا ہے۔اٹلی کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ہم ایسے وائرس کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس کے لیے سرحدوں کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے پڑوسی ملک ایران کے بعد افغانستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد پاک افغان سرحد باب دوستی اور طورخم میں حفاظتی اقدامات کر لیے گئے ہیں۔افغانستان کے وزیرِ صحت فیروزالدین فیروز نے رواں ہفتے صوبے ہرات میں 3 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی تھی جس کے بعد پاکستان نے حفاظتی انتظامات کے لیے مزید کمر کس لی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رفیق مینگل کے مطابق پاک افغان سرحد باب دوستی پر میڈیکل ٹیکنیشن ٹیم ریڈ کریسنٹ اور پی پی ایچ آئی کے تعاون سے لوگوں کی اسکریننگ کررہی ہے اور صرف چند روز میں 4 ہزار لوگوں کی اسکریننگ کی گئی ہے۔
ڈاکٹر رفیق مینگل نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر آج سے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم تعینات کی جارہی ہے اور ایک اسپیشل ایمبولینس باب دوستی بھیجی جائے گی، اس کے علاوہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں خصوصی وارڈ مختص کیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک افغانستان سے کورونا وائرس کا کوئی مریض پاکستان میں داخل نہیں ہوا ہے۔
ادھر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خیبر ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق طورخم بارڈر پر میڈیکل چیک پوائنٹ قائم کردیا گیا ہے اور افغانستان سے آنے جانے والوں کی اسکریننگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔پاک افغان دوستی اسپتال طورخم میں آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے جب کہ لنڈی کوتل اور جمرود اسپتالوں میں بھی آئسولیشن وارڈ قائم کیے گئے ہیں، طورخم میں عملے کو ایمبولینس بھی فراہم کی گئی ہے۔محکمہ صحت اور نیشنل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کا عملہ تھرمل اسکینرز کے ذریعے بخار کے مریضوں کا معائنہ کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button