کورونا کے خلاف دھوپ، جراثیم کش انجکشن کی تجویز

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے دھوپ اور جراثیم کش انجکشن کے استعمال سمیت کئی تجاویز دیے ہیں جس کو وائٹ ہاؤس نے مثبت قدم کے طور پر پیش کردیا۔
اس سے قبل ہونے والی ریسرچ میں گرمی اور بہار کے موسم میں درجہ حرارت اور نمی میں اضافے سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے امکانات سامنے نہیں آئے۔ وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے ولیم برائن کا کہنا تھا کہ نئے ریسرچ کے نتائج سامنے آرہے ہیں جس میں سورج کی روشنی کورونا وائرس کو ختم کرنے میں مضبوط اثرات چھوڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اسی طرح کے اثرات درجہ حرارت اور نمی میں بھی ہیں۔ برائن نے کہا کہ میری لینڈ میں ایک لیبارٹری فروری سے کورونا وائرس پر ٹیسٹ کررہی ہے۔
امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت اور نمی کے اضافے سے کورونا وائرس تیزی سے مر جاتا ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے ادویات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے زیادہ معلومات ریاستوں کے گورنروں کو اپنی ریاستوں میں معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کےلیے فیصلوں میں آسانی ہوگی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سورج کی روشنی اور دھوپ سے آنے والے نتائج سماجی فاصلے کی تدابیر کا نعم البدل نہیں ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر نے کہا تھا کہ لوگوں کو یہ سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ باہر دھوپ میں جائیں گے تو محفوظ ہوں گے اسی لیے فلوریڈا میں کئی اموات ہوئیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے امید ہے کہ عوام سورج سے محظوظ ہوں گے اور اگر اس کا کوئی اثر ہے تو بڑی بات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز ایک شان دار آدمی کی جانب سے بہترین لیبارٹری کی طرف سے دی گئی ہے۔ امریکی صدر نے کہا تھا کہ میں یہاں تجاویز دینے کےلیے موجود ہوں کیوں کہ ہم اس وبا سے چھٹکارا پانے کےلیے منصوبے بنانا چاہتے ہیں اور اگر دھوپ اور سورج کی روشنی اچھی ہے تو میری حد تک یہ ایک عظیم چیز ہے۔
تجاویز پیش کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ تحقیق کار وائرس پر جراثیم ادویات کے اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور اگر لوگوں کےلیے انجکشن تیار کرلیا تو پھر یہ قابل تحسین ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وائرس سے پھیپھڑے پر برے اثرات پڑے ہیں اس حوالے سے نتائج بھی دلچسپی کے حامل ہوں گے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے عہدیدار برائن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس نے سب سے زیادہ تباہی مچادی جہاں اب تک کیسز کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 86 ہزار 709 ہوگئی ہے۔
امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار 243 ہوگئی ہے جبکہ زیر علاج 7 لاکھ 50 ہزار 544 افراد میں سے 14 ہزار 997 کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔ نیویارک، امریکا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے جہاں کیسز اور اموات کی شرح دنیا کے اکثر ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نیویارک میں اب تک 2 لاکھ 68 ہزار 581 متاثرین ہیں جبکہ 20 ہزار 861 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں افریقہ اور ایشیائی برادری کے افراد کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ امریکی ریاست نیو جرسی میں بھی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 25 تک پہنچ گئی تاہم اموات کی شرح نیویارک کے مقابلے میں کم ہے اور اب تک 5 لاکھ 428 اموات ہوئی ہیں۔
مشی گن اور میسچیوسٹس میں بھی ہلاکتیں 2 ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں، جہاں بالترتیب 2 ہزار 977 اور 2 ہزار 360 افراد کی موت ہوگئی ہے اور متاثرین کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر نیویارک سمیت دیگر ریاستوں میں لاک ڈاؤن کیا گیا تھا تاہم طویل لاک ڈاؤن کے خلاف شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو ٹرمپ کے ان کے حق میں سامنے آگئے تھے۔ گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ریاستوں میں سخت لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی توثیق کردی تھی۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مینی سوٹا کو آزاد کرو، مشی گن کو آزاد کرو اور ورجینیا کو آزاد کرو۔ امریکا کی مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ سخت معاشی پابندیوں سے نقصان ہو رہا ہے لیکن صحت سے متعلق حکام نے خبردار کردیا ہے کہ پابندیاں ختم کرنے سے وائرس بری طرح پھیل جائے گا۔
