کورٹ مارشل کے بعد نیوی کے افسران کی سزائے موت کیسے معطل ہوئی؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کراچی ڈاکیارڈ پر 2014 میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے الزام میں کورٹ مارشل ہونے والے پاکستان نیوی کے پانچ سابق افسران کی سزائے موت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا ہے جو کہ نیوی حکام کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں۔ پاکستان نیوی کے ایک بحری جہاز کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایک امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جانے والے حملے کے ملزموں کو 2016 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ لیکن ملزمان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا موقف تھا کہ اس کیس میں جرم، ٹرائل اور سزا سے متعلق ریکارڈ انہیں آج تک نہیں ملا لہذا فیصلہ معطل کیا جائے۔ چنانچہ اسلام اباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 3 جون 20134 کو یہ فیصلہ معطل کر دیا۔

یاد رہے کہ کراچی ڈاکیارڈ پر اس حملے کے وقت میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد پاکستان نیوی کے پی این ایس ذوالفقار نامی جنگی بحری جہاز کو ہائی جیک کر کے ایندھن بھرنے والے ایک امریکی جہاز سے ٹکرانا اور اسے تباہ کرنا چاہتے تھے۔

تب نیوی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے کو ناکام بنا کر دو دہشت گردوں کو ہلاک اور چار کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والا ایک حملہ آور سندھ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کا بیٹا تھا۔ حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے تھے۔ تحریک طالبان اور القاعدہ برصغیر نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

موت کی سزا پانے والے 5 ملزمان میں سابق لیفٹننٹ ارسلان نذیر ستی، سابق لیفٹننٹ محمد حماد، سابق لیفٹننٹ حماد احمد خان، سب لیفٹننٹ عرفان اللہ اور سیلر طاہر رشید شامل تھے۔ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کورٹ مارشل ہونے والے نیوی اہلکاروں کے علاوہ ایک اور ملزم لیفٹننٹ ہاشم کی اپیل ابھی سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔ کورٹ مارشل ہونے والے نیوی اہلکاروں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ ان پانچوں کو 2014 میں گرفتار کیا گیا جس کے بعد دو سال تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ اس کے بعد 2016 میں انہیں بتایا گیا کہ نیول کورٹ نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کرتے ہوئے ان 5 افراد کو سزائے موت سنا دی ہے۔ایڈووکیٹ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے کہا کہ پاک بحریہ کے پانچ افسران کو پی این ایس ذوالفقار پر حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر نیول جج ایجوٹینٹ جنرل برانچ میں مقدمہ چلایا گیا اور 2016 میں انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران پاک بحریہ کی جانب سے کسی قسم کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے نہ ہی سزا کی نوعیت سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

بعد ازاں اس بارے میں پاکستان بحریہ کی طرف سے آگاہ کیا گیا وہ اپیل دائر کرسکتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی دستاویزات اور تفصیل فراہم نہیں کی گئی جس کے بعد یہ اپیل مسترد کردی گئی۔ کرنل انعام نے کہا کہ نیوی کی طرف سے ہمیں کبھی بھی نہ تو چارج شیٹ، نہ ہی سمری آف ایویڈینس، ٹرائل ریکارڈ، کیس پروسیڈنگ اور کسی قسم کی دستاویزات نہیں دی گئی۔

اس بارے میں 2019 میں ہم نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی لیکن دو سال کے بعد ہمیں اسلام آباد ہائیکورٹ جانے کا کہا گیا ۔ اس کیس میں اب جسٹس بابر ستار نے مختصر سماعت کے بعد حکم امتناع جاری کیا جس میں پانچوں ملزمان کی سزائے موت پر حتمی فیصلہ ہونے تک عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

کرنل انعام کا کہنا تھا کہ تمام پانچ ملزمان کو خفیہ ٹرائل کے ذریعے سزا سنائی گئی جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ہمیں اب تک صحیح طور پر معلوم ہی نہیں کہ ان کے خلاف الزامات کیا ہیں۔ ان پر بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں لیکن کیا واقعہ پیش آیا اور جس واقعہ کو بنیاد بنا کر سزائیں سنائی گئی ہیں اس میں ان افراد کا کردار کیا تھا اس بارے میں ہمیں آج تک کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے ان سزاؤں پر حکم امتناع کے بعد ہمیں امید ہے کہ ہمیں اس کیس سے متعلق دستاویزات فراہم کی جائیں گی جس کے بعد اس کیس میں انصاف کے مطابق فیصلہ کیا جاسکے گا۔

Back to top button