کون سا ڈارک ہارس کشمیر کا وزیراعظم بننے والا ہے؟


آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کے عہدے کے خواہش مندوں کی تعداد بڑھتے ہوئے نصف درجن ہو گئی ہے جس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اُمیدواروں کے انٹرویوز ابھی تک جاری ہیں۔ اس فہرست میں دو مزید اضافے کوٹلی سے منتخب ہونے والے نثار انصار اور باغ سے واپس آنے والے سردار قیوم نیازی کے ہیں۔ معتبر طور پر معلوم ہوا ہے کہ ان دو امیدواروں کے نام خاتون اول بشری بی بی کے روحانی مشورے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ یہ دونوں امیدوار خاص طور پر وزیراعظم کی طرف سے بلائے جانے کے بعد ہنگامی طور پر انٹرویوز کے لیے اپنے آبائی شہروں سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے۔ وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ خواہشمندوں کے وسیع گروہ کا وزن کرنے کے بعد وزیراعظم اپنے آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کو منتخب کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ وزارت عظمی کے دو مذید امیدوار سامنے آنے کے بعد اب حکومتی حلقوں میں یہ افواہ گرم ہے کہ عمران خان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کو وزیراعظم نہیں بنانا چاہتے تھے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ عثمان بزدار کی طرح کا کوئی گمنام گھوڑا اچانک آزاد کشمیر کی وزارت عظمی پر فائز کر دیا جائے۔
تحریک انصاف ذرائع کا کہنا یے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو آرام دہ اکثریت مل جانے کی وجہ سےعمران خان کسی بھی پریشر گروپ کا دباو نہیں لیں گے کیونکہ انہیں امید ہے کہ کوئی بھی منتخب قانون ساز ان کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ تاہم آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر انہیں عمران خان کی جانب سے کئے گئے وعدے کے مطابق وزارت عظمیٰ نہ دی گئی تو وہ پارٹی سے علیحدگی کا انتہائی فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چند روز پہلے تک بیرسٹرسلطان محمود کے سب سے بڑے حریف سنٹورس اسلام آباد کے مالک سردار تنویر الیاس تھے۔ لیکن اب ان کا نام پیچھے چلا گیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پارٹی کو دو دھڑوں میں تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے سلطان محمود اور تنویر الیاس کی بجائے کسی بزدار نما گمنام گھوڑے کو وزیراعظم بنا دیں۔
معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم بننے کے خواہشمندوں کی فہرست میں اچانک شامل ہونے والے نثار انصار ایک اوورسیز پاکستانی ہیں اور برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار کھوئی رٹہ، کوٹلی سے الیکشن لڑا۔ ان کی جیت یقینی بنانے کے لیے اس سیٹ پر ہمیشہ جیتنے والے سابق وزیر چوہدری رفیق ایڈووکیٹ کو کاغذات نامزدگی داخل نہ کرنے کیلئے راضی کیا گیا اور ان سے یہ وعدہ کیا گیا کہ انہیں ٹیکنوکریٹ کیلئے خصوصی نشست پر منتخب کروانے دیا جائے گا۔
تحریک انصاف کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ نثار انصار نے ٹکٹ بیرسٹر سلطان محمود کے اصرار پر حاصل کیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ وزیراعظم نے نثار انصار کو کچھ حقائق کی تصدیق کے لیے بلایا ہو جو ان کے نوٹس میں آئے ہوں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے بالترتیب دو اور تین اگست کو آٹھ خصوصی نشستوں اور سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے ناموں کا اعلان متوقع ہے۔ یہ امکان بھی ہے کہ وہ ایک دوروز میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے نام کا اعلان کر دیں۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں خصوصی نشستیں پی ٹی آئی ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کو ملیں گی۔ ان میں سے بیشتر حکمراں جماعت کے پاس جائیں گی جس نے اکثریت حاصل کی ہے، اس کے بعد دوسری جماعتوں کو ملنے والی آٹھ نشستوں میں سے پانچ خواتین اور ایک ٹیکنو کریٹ، ایک اوورسیز پاکستانی اور ایک مذہنی سکالر منتخب کیا جائے گا، تین نشستیں عددی طاقت کو دیکھتے ہوئے یقینی طور پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ملیں گی۔ خواتین کی نشستیں بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں شئیر کی جائیں گی۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے لیے کونسا گھوڑا چنتے ہیں؟

Back to top button