کوورونا وائرس: ٹیکسٹائل کے عالمی خریداروں نے پاکستان کا رخ کرلیا

چین میں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے چین کی ٹیکسٹائل انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی جس کے باعث عالمی خریداروں نے پاکستان کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کی ٹیکسٹائل سیکٹر کے پاس مزید برآمدی آرڈر لینے کی گنجائش نہیں رہی۔
تفصیلات کے مطاق پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر اس وقت اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے ساتھ چل رہا ہے اور امکان ہے حکومت رواں مالی سال کے دوران 24 سے 25 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کرلے گی۔
جنوری میں حکومت نے خام کپاس کی درآمد پر عائد ٹیکس واپس لے لیے تھے جس کے بعد پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر بھرپور صلاحیت کے مطابق کام کر رہا ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین آصف انعام نے بتایا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ہمارے لئے مزید برآمدی آرڈرز پورے کرنے کی صلاحیت نہیں رہی۔
ان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بھی چین کی ٹیکسٹائل انڈسٹری متاثر ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں عالمی خریدار اب چین کی بجائے پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر حکومت بجلی گیس کی بڑھتے نرخ اور ریفنڈ کے مسائل پرقابو پالے تو آئندہ پانچ برسوں میں ٹیکسٹائل کی برآمدات دوگنا ہو سکتی ہیں۔ جب کہ رواں مالی سال کے دوران توقع سے زیادہ ایکسپورٹ آرڈرز موصول ہونے کے بعد قوی امکان ہے کہ حکومت اگلے چند ماہ کے دوران ایکسپورٹس کی مد میں 25 ارب ڈالرز تک حاصل کرنے کا ہدف باآسانی حاصل کر لے گی۔
جب کہ اگر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو اسی تعداد میں آرڈرز موصول ہوتے رہے، تو اگلے مالی سال کے دوران پاکستان کو ایکسپورٹس کی مد میں مزید ریوینیو حاصل ہوگا۔
