کوہستان میں چینی انجینئرز پر خودکش حملہ کیا گیا


پاکستانی اور چینی حکام نے تحقیقات کے دوران داسو پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی بس کو ایک کار سوار خودکش بمبار کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے امکانات کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ کوہستان میں ہونے والے اس دہشت گرد حملے میں 10 چینی انجینئر اور تین پاکستانی مارے گئے تھے جسکے بعد چین نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں پر کام روک دیا ہے۔
چینی کمپنی غضوبہ کی بس پر حملے کے بعد داسور پراجیکٹ پر کام کرنے والے عملے کو چھٹی دے کر کام کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ منصوبے پر کام کرنے والے پاکستانی مزدور بھی گھروں کو لوٹ رہے ہیں لیکن انھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اب کام دوبارہ کب شروع ہو گا۔ ایسے ہی ایک مزدور نے بی بی سی سے گفتگو کرتے یوئے بتایا کہ ’ہمارا قافلہ صبح سات بجے معمول کے مطابق چائنہ غضوبہ کیمپ، برسین سے باہر نکلا تھا۔ ہم نے تقریباً 500 میٹر کا فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی اور ہر جانب مٹی اور دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے اور اندھیرا سا چھا گیا۔ ’ہوا بہت تیز تھی اس لیے پہلے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جس بس میں چینی اہلکار موجود تھے وہ سڑک پر دکھائی نہیں دے رہی تھی، وہ دھماکے کے بعد ہوا میں پلٹا کھا کر کئی فٹ نیچے کھائی میں گری جو دریائے اباسین کا کنارہ ہے۔ چنانچہ ہم اپنی گاڑیوں سے نیچے اترے اور دریا کے کنارے زخمیوں کی مدد کے لیے دوڑے۔
دوسری جانب جس مقام پر یہ حادثہ ہوا وہاں سے پاکستانی حکام نے شواہد اکھٹے کر لیے ہیں اور اب چین کی تحقیقاتی ٹیم بھی تفتیش میں شامل ہو گئی ہے۔ چینی سفیر اور ملٹری اتاشی سمیت چین کے اعلیٰ حکام نے حملے کے مقام کا دورہ کیا اور شواہد اکھٹے کیے جن سے یوں لگتا ہے جیسے بس کو ایک کار سوار خودکش بمبار نے نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کے بعد وہ لڑھکتی ہوئی سڑک سے نیچے دریا کے کنارے جاگری۔ بتایا گیا یے کہ پراجیکٹ پر کام کے لیے جانے والے قافلے میں دیگر گاڑیوں کے علاوہ رینجرز کی گاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ داسو پراجیکٹ پر کام کرنے والے ایک پاکستانی مزدو نے بتایا کہ اس روز بھی ایسا ہی تھا۔ ‘ہم برسین کیمپ جو مرکزی شہر داسو سے سات کلومیٹر دور ہے، پر شاہراہ قراقرم کے ایک موڑ پر پہنچے تھے جب ہم سے آگے جانے والی ایک گاڑی پر حملہ ہو گیا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ کیمپ سے ڈیم کی سائٹ پر پہنچنے کے لیے اُنھیں روزانہ گاڑی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا تھا۔ ’ایک شفٹ میں چینی ورکرز بشمول انجینئیرز اور عملے سمیت تقریباً ڈیڑھ سو سے دو سو مزدور ہوتے ہیں، چینیوں کے لیے الگ گاڑیاں ہوتی ہیں جن کے اندر بھی سکیورٹی اہلکار ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ اور صبح و شام کی دونوں شفٹوں میں یہی معمول ہوتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ یہ قدرے خراب اور دشوار گزار راستہ ہے کیونکہ متبادل شاہراہ قراقرم کے لیے اس علاقے میں بائی پاس تعمیر ہو رہے ہیں۔ موجودہ سڑک کی چوڑائی 22 فٹ ہے۔ اس لیے گاڑی 20 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہی چلتی ہے اور دو گاڑیوں کے درمیان ہمیں بہت فاصلہ رکھنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 14 جولائی کی صبح جب ہم شاہراہ قراقرم کے ایک موڑ پر پہنچے تو یہ واقعہ ہو گیا۔ ’سب لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا کوئی زخمی تھا۔ نیچے دریا کے پاس گری انجینئرز کی بس کے گرد زخمی چینی بکھرے ہوئے تھے۔ اوپر موجود چینیوں کو رینجرز اہلکاروں نے نیچے نہیں جانے دیا۔ اس لیے ہم مقامی لوگ نیچے گئے۔ ریسکیو والے بھی پہنچ گے تو ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہم زخمیوں کو نیچے سے اوپر لے کر آئے اور پھر دیہی مرکز صحت، آر ایچ سی داسو پہنچایا۔‘ چونکہ پاکستانی کیمپ اوچھار اور چین کا کیمپ برسین دونوں جائے وقوعہ سے زیادہ دور نہیں تھے اس لیے وہاں سے بھی جلد ہی عملہ یہاں پہنچ گیا۔
اس پراجیکٹ میں شامل مقامی مزدور نے بتایا کہ حملے کا براہ راست نشانہ بننے والی گاڑی تو مکمل طور پر تباہ ہوگئی تاہم اس کے آگے اور پیچھے والی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور ایک گاڑی میں موجود ایک مقامی مزدور ہلاک ہو گیا۔ جس گاڑی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اس کا ڈرائیور اور آگے موجود دو سکیورٹی اہلکار بری طرح زخمی ہو کر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے میں 10 چینیوں سمیت کل 13 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 27 افراد زخمی ہوئے۔
ایک اور پاکستانی مزدور کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم یہ دھماکہ کیسے ہوا لیکن واقعے کے بعد قریب میں ایک نامعلوم شخص کی کھوپڑی پڑی دیکھی گئی تھی۔ معلوم نہیں وہ کس کی کھوپڑی تھی کیونکہ دیگر مرنے اور زخمی ہونے والوں کا تو سب کو معلوم تھا لیکن وہ کس کی کھوپڑی تھی معلوم نہیں۔ ہاں یہ تو معلوم ہے کہ وہ کوئی مقامی شخص بھی نہیں تھا کیونکہ کوہستان کا یہ علاقہ داسو تو اتنی چھوٹی جگہ ہے کہ اگر کسی گھر کا کوئی اور شخص بھی مرتا تو ہمیں کم ازکم اب تک اطلاع مل چکی ہوتی۔ لیکن گاڑیوں میں موجود چینی یا پاکستانی عملے میں سے کتنے ہلاک ہوئے کتنے زخمی ہوئے، یہ تو ہمین معلوم تھا اور ان سب کی لاشیں بھی موجود تھیں۔‘
اس حوالے سے چینی اور پاکستانی تحقیقاتی ٹیموں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ دراصل ایک کار سوار خودکش بمبار نے مخاکف سمت سے آٹے ہوئے چینی انجینئر کی بس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے بس کے آگے موجود گاڑی سے ٹکرا گیا۔ لیکن بارودی مواد کا دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس نے چینی انجینئرز کی بس خو بھی ہٹ کیا اور وہ اڑ کر نیچے دریا کے کنارے جا گری۔
مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ واقعے کے فوری بعد جائے وقوع کے قریب سے ایک گاڑی کا بونٹ اور انجن بھی ملا جس پر چیسز نمبر درج تھا۔ واقعے کے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ انجن کے علاوہ گاڑی کی کوئی چیز سلامت نہیں بچی تھی اور وہ ایک ہنڈا گاڑی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ کے قریب سے ایک شخص کی انگلی بھی ملی اور ایک جگہ تقریباً دیگر اعضا بھی ملے ہیں جن کے نمونے بھی حاصل کر لیے گے ہیں۔
اسی دوران ایک حکومتی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے مقام سے ملنے والی ہنڈا سٹی کے انجن کا فارنزک تجزیہ ہو گیا یے۔ یہ گاڑی چینی قافلے کا حصہ نہیں تھی اس لیے اس کی وہاں موجودگی اس شبے کو تقویت دیتی ہے کہ اسے خود کش بمبار نے دھماکے کے لئے استعمال کیا۔

Back to top button