کپتان، پنکی اور گوگی نے قومی خزانہ کیسے لوٹا؟

عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کی یار غار اور مبینہ فرنٹ پرسن کے کالے کرتوتوں کے سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ پیشرفت کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر عام پر آ گیا ہے۔ عمران خان اور بشری بی بی کی اکٹھی کی گئی دولت کو دنیا کے مختلف ممالک میں چھپانے کی غرض سے اس سے خریدے پاسپورٹ پر فرح گوگی کے بیرون ملک دورے کرتی رہی۔

ذرائع کے مطابق غیر قانونی طریقے سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اورمنی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کو ایک غیر معروف ملک وینا تاؤ کاخفیہ پاسپورٹ بنا کر دیا گیا۔ دسمبر 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ممکنہ کامیابی کے پیش نظر عمران خان اور بشری بی بی نے ملک کے ایک معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے کو اپنی فرنٹ پرسن فرح گوگی کیلئے خفیہ انٹرنیشنل پاسپورٹ خریدنے کا ٹاسک سونپا گیا، ملک ریاض نے ایک اور معروف بزنس مین کو خفیہ پاسپورٹ بنانے کیلئے ایک لاکھ تیس ہزار امریکی ڈالر فراہم کئے۔ عمران خان اور بشری بی بی کی اکٹھی کی گئی دولت کو دنیا کے مختلف ممالک میں چھپانے کی غرض سے اس سے خریدے پاسپورٹ پر فرح گوگی کے بیرون ملک دورے کیے، 28 مارچ 2022 کو فرح گوگی کیلئے خریدے جانے والا وینا تاؤ کا خفیہ پاسپورٹ بشری بی بی کے حوالے کیا گیا، 3 اپریل 2022 کو عمران خان کی حکومت جانے سے 6 دن قبل فرح گوگی کو پاکستانی پاسپورٹ پر ملک سے فرار کروا کے دبئی بھجوا دیا گیا ۔ دبئی کے بعد باقی تمام سفر وینا تاؤ کے پاسپورٹ پہ کروائے گئے تاکہ تحقیقاتی ادارے اس نقل و حرکت سے آگاہ نا رہیں، عمران خان اور بشری بی بی نے پاکستان سے لوٹی گئی کثیر رقم کو ٹھکانے لگانے کیلئے فرح گوگی کے خفیہ بین الاقوامی دوروں اور بینک اکاؤنٹس کو وینا تاؤ کے خفیہ پاسپورٹ سے ممکن بنایا گیا۔

دو دن پہلے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کی یہ فرنٹ پرسن 14.5 ارب روپے کے ناجائز اثاثوں کی مالک ہے، صرف 3 سال کے قلیل عرصے کی عمران خان کی حکومت کے دوران ان کی فرنٹ پرسن فرح گوگی کی ظاہری اور غیر ظاہری دولت میں 4520 ملین روپے کا اضافہ ہوا، اپنی حکومت گرنے کے بعد پورے ملک کو انتشار میں ڈال کر عمران خان نے اپنی چوری اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش کی۔

خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور اُنکی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ لیڈی فرح گوگی کا دوسرا انٹرنیشنل پاسپورٹ 3لاکھ 19ہزار سے زائد آبادی والے جزیروں پر مشتمل ملک سے جاری کرایا گیا۔ فرح شہزادی جس ملک کے پاسپورٹ پر اپریل 2021ء کے بعد فضائی سفر کرتی رہیں‘ وہ ملک جنوبی بحرالکاہل کا ملک وینا تاؤہے۔ اسکی آبادی عالمی بینک کے 2021ء کے اعدادو شمار کے مطابق 3لاکھ 19ہزار 137ہے اور یہ آسٹریلیا سے سترہ سو پچاس کلومیٹر فاصلے پر اوشنیا براعظم میں ہے۔ یہ 80چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ملک ہے جو 13سو کلومیٹر علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس ملک کا دارالحکومت پورٹ ولا ہے جہاں پر فرانسیسی‘ انگریزی اور اسلامہ زبان بھی بولی جاتی ہے۔ 1980ء میں آزادی سے قبل وینا تاؤ پر فرانس اور یوکے مل کر 74سال تک حکومت کرتے رہے۔ وینا تاؤ کا صدر پارلیمنٹ چنتی ہے۔ اس ملک کا سرکاری نام ریپبلک وینا تاؤ ہے۔ وینا تاؤ دولت مشترکہ کا بھی ممبر ہے۔ ریپبلک وینا تاؤ آسٹریلیا کے مشرق میں 1750کلومیٹر فاصلے پر اور نیو کارلے ڈونیا سے پانچ سو کلومیٹر شمال مشرق اور فجی کے مغرب میں ہے۔ سڈنی سے ہوائی جہاز کے ذریعے ساڑھے 3گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر ہے اور برسبین کے شمال مشرق میں اڑھائی گھنٹے دورانیہ کی پرواز پر واقع ہے۔

واضح رہے کی تحقیقاتی اداروں کی وپورٹ کے مطابق سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کے اثاثوں میں صرف 3 سال کے دوران 4 ارب 52 کروڑ روپے کے اضافہ سامنے آیا ہے۔ فرح گوگی کے ظاہری اور غیرظاہری اثاثوں میں2017 سے 2020 تک 4520 ملین روپے کا اضافہ ہوا ہے اور فرح گوگی 2020 میں 950 ملین روپے کے اثاثوں کو خود تسلیم کرتی ہیں جب کہ فرح گوگی کے غیر ظاہری مگر ملکیتی اثاثے 3825 ملین روپے ہیں۔فرح گوگی کے صرف تین سالوں میں ظاہری اثاثوں میں 420 فیصد اور غیرظاہری اثاثوں میں 15300 فیصد اضافہ ہوا، یہ اثاثے فرح گوگی کی ذاتی ملکیت ہیں جب کہ احسن جمیل گجر اور باقی رشتے داروں اور حصے داروں کے اثاثے اس کے علاوہ ہیں، ایس ای سی پی کے ریکارڈ کے مطابق فرح گوگی کئی کمپنیوں میں حصے دار ہیں۔فرح گوگی کے پاکستان میں موجود بینک اکاؤنٹس کی تعداد میں 2019 سے 2021 تک اضافہ ہوا، 426 ملین روپے کا بھاری سرمایہ صرف ایک بینک اکاونٹ میں 2018 سے 2022 تک 47 مختلف ٹرانزیکشن کے ذریعے ڈیپازٹ کروایا گیا۔ جب کہ فرح گوگی، احسن جمیل گجر اور ان کے پارٹنرزکے ملک بھر میں 102 بینک اکاؤنٹس سامنے آئے، ان اکاؤنٹس کی کل مالیت ساڑھے 14 ارب روپے ہے جب کہ یہ پیسہ چیئرمین پی ٹی آئی کی فرنٹ پرسن کے طور پر لیا گیا۔

Back to top button