کپتان اپنے کابینہ اراکین کی جاسوسی کرتے پکڑے گئے

وزیراعظم عمران خان کے کئی قریبی ساتھی اور وفاقی کابینہ کے اراکین اس بات پر نالاں ہیں کہ انکا کپتان اپنے کھلاڑیوں پر ایک سیاسی قائد کی طرح یقین اور اعتماد رکھنے کی بجائے کسی خفیہ ادارے کے سربراہ کی طرح ایجنسیوں سے ان کی جاسوسی کرواتا یے جسکی بنیاد پر انکی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں ۔
اعلی ترین حکومتی ذرائع کے مطابق ملک کا سب سے بڑا سویلین خفیہ ادارہ انٹیلی جنس بیورو یا آئی بی وفاقی کابینہ کے اراکین، وزرائے اعلی، گورنرز اور پارٹی کے دیگر اہم رہنماؤں کی جاسوسی کی ذمہ داری سر انجام دیتا یے۔ کپتان کے قریبی ساتھی سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے سیاسی گرو جنرل احمد شجاع پاشا چونکہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ تھے اس لیے وزیراعظم کی اپنی شخصیت میں بھی شک کا عنصر سرائیت کر چکا ہے جس کے بنا پر وہ یہ جاننے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان کے آس پاس کے افراد ان کے بارے میں نجی محفلوں میں کن خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا خفیہ اداروں پر انحصار حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے اور سیاسی ساتھیوں کی بجائے یہ ادارے وزیراعظم کی آنکھیں اور کان بن چکے ہیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے خفیہ اداروں بالخصوص آئی بی کو اپنے قریبی ساتھیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی ٹوہ میں لگا رکھا ہے اور انہی کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر ملک کے اہم انتظامی اور سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں وزیراعظم نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ ایجنسیوں کو سیاست دانوں کے تمام کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ فوج کی ایجنسیوں کو پتہ ہے کہ میں کرپشن نہیں کر رہا اس لیے مجھے فوج کا کوئی ڈر نہیں۔ تاہم سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا وزیراعظم کی جانب سے ایجنسیوں پر اس قدر انحصار کرنا مناسب ہے کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں خفیہ اداروں کی جانب سے اپنے آقاؤں کو مس گائیڈ کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
کپتان کے قریبی ذرائع کا یہ کہنا ہے ممکنہ طور پر خفیہ ادارے وزیراعظم کو غلط اطلاعات فراہم کرکے ان کی حکومت اور پارٹی کو کمزور کر سکتے ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ آئی بی سے اپنی ٹیم کے ارکان بارے خفیہ رپورٹس لینے کے عمل سے وزیراعظم کے اپنے بعض کابینہ ارکان کے ساتھ تعلقات میں بھی خاصی سرد مہری آگئی ہے جس کا پہلا سرعام اظہار حال ہی میں اس وقت ہوا جب وفاقی کابینہ کی ہفتہ وار میٹنگ میں وزیر اعظم نے وفاقی وزیر تجارت رزاق داؤد کے ساتھ خاصے سخت لہجے میں بات کی۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کابینہ اجلاس میں دیگر وزراء سمیت سبھی شرکاء اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب وزیراعظم نے رزاق داؤد سے بازپرس کے انداز میں تلخ لہجے میں مکالمہ کیا.
ساتھی وزراء سمیت اجلاس میں شریک افراد میں سے شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ وزیر اعظم عمران خان کے رویے میں سرد مہری اور لہجے میں قدرے تلخی کی وجہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق آئی بی نے حال ہی میں بعض اتحادی جماعتوں کے لیڈران اور وزیراعظم کے قریبی رفقاء کے علاوہ فرداً فرداً تمام وفاقی وزراء بارے مفصل خفیہ رپورٹس وزیراعظم کو پیش کی ہیں جن میں انکی نہایت قریبی شخصیات اور ساتھیوں کی نجی محفلوں میں کی جانے والی گفتگو کی خفیہ آڈیو ریکارڈنگز تک شامل ہیں، ان ریکارڈنگز میں یہ شخصیات وزیراعظم کے بارے ناپسندیدہ اور منفی ریمارکس دیتے پائی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنے بارے ایسی گفتگو سن کر سکتے میں آ گئے، ان شخصیات میں سے بعض کو وزیراعظم علیحدگی میں ملاقات کے لئے طلب کر کے دو ٹوک انداز میں گفتگو بھی کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہی خفیہ آڈیو ٹیپس کی بنیاد پر بعض اہم شخصیات کے ساتھ وزیراعظم کے تعلقات میں دوریاں بھی آ گیئں ہیں ، یہی خفیہ ٹیپس سننے کی وجہ سے ہی وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ لاہور میں حکومت کی ایک بڑی اتحادی جماعت ، مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت میں شامل سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کرنا گوارہ نہیں کیا اور اپنے قریب ترین دوست جہانگیر ترین سے بھی فاصلہ اختیار کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو پیش کی گئی آڈیو ریکارڈنگز میں سے ایک میں چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے قریبی ساتھی وزیراعظم بارے ناپسندیدہ گفتگو کر رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک دوسری ٹیپ میں جہانگیر ترین اپنے بعض قریبی ساتھیوں کے ہمراہ وزیراعظم بارے سچی باتیں کرتے پائے گئے جس کی وجہ سے عمران خان اور جہانگیر ترین میں فاصلے بھی پیدا ہو چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی بی کی جانب سے وفاقی کابینہ کے اراکین کی کپتان سے ذاتی وفاداری بارے تازہ ترین خفیہ رپورٹس بھی وزیراعظم کو فراہم کی گئی ہیں جن میں شیخ رشید کو شاہ محمود قریشی کی طرح اقتدار کی ہوس کا مارا شخص قرار دیا گیا ہے۔ شخصی حوالے سے کابینہ ارکان بارے خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں شفقت محمود ، مراد سعید ، پرویز خٹک اور حماد اظہر کو وزیراعظم کا وفادار قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے دنوں وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ سیاسی مخالفین اور بلیک میل کرنے والے سرکش اراکین اسمبلی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے آئی بی کو استعمال کریں۔
سیاسی حلقوں میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آخر کیوں وزیراعظم عمران خان اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین کرنے کی بجائے خفیہ ادارے کی پیش کردہ رپورٹوں پر من و عن یقین کرکے اپنی سیاسی قبر کھود رہے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button