کپتان حکومت شہباز شریف کو نااہل کروانے کے درپےہو گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کی خصوصی اجازت کے بعد برطانیہ علاج کے لیے جانے والے نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت نے اپنی توپوں کا رخ اب پارٹی کے صدر شہبازشریف کی طرف کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اپنے بڑے بھائی کو علاج کے لیے باہر لے جانے اور صحتیابی کے بعد پاکستان واپس لانے کی گارنٹی شہباز شریف نے دی تھی اب چونکہ نواز شریف کو علاج کے لیے دی گئی مدت ختم ہو چکی ہے لہٰذا شہباز شریف اپنے بھائی کو واپس لے کر آئیں بصورت دیگر شہباز شریف کو بھی قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے کر ان کے خلاف عدالت میں جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے کی پاداش میں تادیبی کارروائی کی جائے۔
تحریک انصاف حکومت نے عوامی دباؤ اور اپنے احتساب کے بیانیے پر زد پڑھنے کے بعد لندن میں زیرعلاج نوازشریف کی صحت پر بھرپور سیاست شروع کردی ہے۔ تاہم اس وقت نواز شریف سے زیادہ مشکل کا شکار شہباز شریف ہے کیونکہ نواز شریف کو علاج کے لیے باہر جانے کے لئے شہباز شریف نے ہی ہائی کورٹ میں گارنٹی دی تھی کہ وہ عدالتی احکامات کی پابندی کریں گے اور نواز شریف کو صحت یاب ہونے کے بعد وطن واپس ضرور لے کر آئیں گے۔
اب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو دی جانے والی آٹھ ہفتوں کی مہلت ختم ہو چکی ہے اور حکومت نے مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ نواز شریف برطانیہ میں گزشتہ سترہ ہفتوں سے مقیم ہیں اور حکومت کا موقف ہے کہ تاحال ان کا علاج شروع نہیں ہوا اور نہ ہی نواز شریف نے اپنی تازہ میڈیکل رپورٹ حکومت کو فراہم کی ہیں لہذا پنجاب حکومت نے نواز شریف کی مدت ضمانت میں ختم کر ان کو وطن واپس لانے کا کہا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی حکومت نے برطانوی حکومت کو خط بھی لکھ دیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف پاکستانی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں انہیں علاج کی غرض سے برطانیہ بھجوایا گیا تھا لیکن اب یہ واپس آنے کا نام نہیں لے رہے لہذا انھیں فوری طورپر پاکستان منتقل کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے نون لیگ کو دفاعی پوزیشن پر لانے کے لئے نوازشریف کی بیماری کے حوالے سے جو سیاست شروع کی ہے اس میں اصل زد شہباز شریف پر پڑ رہی ہے اور تحریک انصاف کے وزراء جن میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نمایاں ہیں، واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ شہباز شریف نے عدالت میں نواز شریف کو وطن واپس لانے کی گارنٹی دی تھی اور اب شہباز شریف اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں لہذا عدالت کو چاہیے کہ شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور انہیں اسمبلی رکنیت سے بھی فارغ کیا جائے۔
خیال رہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی کی تیمارداری کے بہانے سے پہلے دن سے ان کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ نون لیگ کے رہنما بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ شہباز شریف بہت جلد وطن واپس آ رہے ہیں تاہم شہباز نے تاحال پاکستان واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی لیکن اب جس انداز سے تحریک انصاف نے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے لگتا ہے کہ انہیں اب واپس آنا ہی ہوگا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب حکومت ہائیکورٹ چلی گئی تو شہباز شریف کو فوری طور پر وطن واپس آکر اپنے مؤقف کی وضاحت دینا ہوگی کہ وہ ابھی نواز شریف کو پاکستان واپس کیوں نہیں لے کر آئے۔ اگر شہباز شریف عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے تو بطور گارنٹر شہباز شریف کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے اپوزیشن کو زیر کرنے کے لئے شہبازشریف کو ٹارگٹ کیا ہے تاکہ اپوزیشن لیڈر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے نہ صرف نواز شریف کی صحت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں بلکہ اپوزیشن کی صفوں میں بھی انتشار پیدا کر دیا جائے۔ تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومتی جماعت کی یہ کوشش ہے کہ شہباز شریف کو دباؤ میں لاکر کسی طرح اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے فارغ کروایا جائے تاکہ اپوزیشن کی رہی سہی قوت بھی ختم ہوجائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنی اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومتی کامیابی کا تمام تر دارومدار عدالتی فیصلے پر ہے جس نے نواز شریف کے بیرون ملک رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے ابھی فیصلہ دینا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button