کپتان دورمیںIMF خود پاکستانی معیشت کنٹرول کرنے لگ گیا

عالمی مالیاتی فنڈ یر آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو بیل آوٹ پیکج کے تحت 50 کروڑ ڈالر قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے لیکن اس قرض سے مشروط آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ صرف ملک میں مزید غربت اور بے روزگاری کا باعث بنیں گی بلکہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عوام کو گھیرنے والا یے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی حالات کپتان دور میں اتنے برے ہو چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کا پاکستان سے تعلق اس کے دوسرے ممالک سے تعلق کے مقابلے میں اب مکمل طور پر بدل چکا ہے اور اب پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف براہ راست کنٹرول کرنے لگا یے۔ سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشی تاریخ میں پہلی مرتبہ اب حکومت قرض اس لیے حاصل نہیں کر رہی کہ اس کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے بلکہ یہ قرض گزشتہ قرضوں کو اتارنے کے لیے لیا جا رہا ہے جس کا خمیازہ عوام تاریخ ساز مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
50 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس سٹاف لیول معاہدے پر اتفاق کے بعد جاری کی جا رہی ہے، جس پر اس سال فروری میں دونوں اطراف نے باہمی اتفاق کیا تھا۔ 50 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کے تحت جاری کی جا رہی ہے جس پر آئی ایم ایف اور پاکستان نے جولائی 2019 میں دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی گئی تھی تاکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو مدد فراہم کی جا سکے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی ہے۔ آئی ایم ایف کا پاکستان سے موجودہ پروگرام اس وقت التوا کا شکار ہو گیا تھا جب گزشتہ برس فروری میں پاکستان نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پاور سیکٹر کے نرخوں میں مزید اضافے کو جون کے مہینے تک ملتوی کرنے کا کہا تھا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کا اس پروگرام پر دوسرا نظرثانی جائزہ نہیں ہو سکا۔ کورونا وائرس کی وبا نے جب دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی متاثر کیا تو اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے مزید ادائیگی کو موخر کر دیا گیا تھا۔
اب آئی ایم ایف پروگرام کی پاکستان کے لیے بحالی ایک جانب زرمبادلہ کے ذخائر میں 50 کروڑ ڈالر کا اضافہ کرے گی تو دوسری جانب اس سے جڑی ہوئی کڑی شرائط مہنگائی اور بیروزگاری کا ایک نیا طوفان لانے والی ہیں جس سے عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ لہازا معیشت اور صنعت و تجارت سے وابستہ ماہرین اور اس پر سدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے اس پروگرام کے دوبارہ شروع کرنے سے متعلق کچھ شرائط تھیں جن میں نمایاں ترین بجلی کے قانون یعنی نیپرا ایکٹ میں ترامیم، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایکٹ میں ترامیم، اضافی ٹیکس کی وصولی اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ کے علاوہ مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ بھی تھا۔ وفاقی کابینہ نے اس ماہ کے شروع میں سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی تھی جو آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے۔ اس تعمین کے تحت اب مرکزی بینک کو زیادہ خود مختاری دی جائے گی۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت ایک آرڈیننس کے زریعے سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترامیم لا رہی ہے۔ اسی طرح ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا آرڈیننس بھی لایا جا رہا ہے تاکہ اس کے ذریعے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے جو آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہے۔ وفاقی کابینہ نے نیپرا ایکٹ میں ترامیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری بھی دے دی ہے اور بجلی کے نرخ کم از کم 5.65 فی یونٹ بڑھانے کی منظوری بھی کچھ دن پہلے دے دی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں گروتھ جو گزشتہ مالی سال میں منفی ہو گئی تھی اس میں گزشتہ چند مہینوں میں کچھ بہتری کے آثار نظر آئے تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے جڑی شرائط سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کی بحالی کیوں ضروری ہے اس کے بارے میں ماہر معیشت مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان ایک ابھرتا ہوا ملک ہے تاہم اس کے وسائل اتنے نہیں کہ وہ اپنے وسائل سے آگے بڑھ سکے۔ انھوں نے کہا ’آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض ملتا ہے اور یہ قرضہ شرائط پر عمل کیے بغیر نہیں مل سکتا۔‘ انھوں نے کہا ’آئی ایف ایف پروگرام کی بحالی سے عالمی مالیاتی اداروں اور بیرونی سرمایہ کاروں کی پاکستانی پر اعتماد کی حوصلہ افزائی ہو گی اور پاکستان کے لیے نئی کریڈٹ لائنز کھلیں گی۔‘ انھوں نے کہا ’آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بھی نکلنے میں مدد فراہم کرے گی کیونکہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کا اس کے ذریعے اعتماد حاصل کر پائے گا۔‘
ماضی میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دینے کا اعلان کرنے والے عمران خان کی حکومت کا موقف اب یہ یے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے حاصل ہونے والی 50 کروڑ ڈالر کی رقم سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستان روپے کی قدر کو سپورٹ حاصل ہو گی۔ تاہم ذیادہ تر معاشی ماہرین کے نزدیک اس 50 کروڑ ڈالر کی بہت بڑی قیمت پاکستان کو معاشی نقصان کی صورت میں برداشت کرنی پڑے گا کیونکہ اس قرضے کی شرائط پر عمل درآمد سے نا صرف ایک عام آدمی کی معیشت متاثر ہو گی بلکہ ملکی صنعت و تجارت بھی اس سے شدید متاثر ہوں گے۔ ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں کہا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان سے تعلق اس کے دوسرے ممالک کے تعلق کے مقابلے میں اب بدل چکا ہے کیونکہ پاکستان میں آئی ایم ایف براہ راست معیشت کو کنٹرول کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لیکر عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی بجائے پچھلے قرضہ اتارنے میں مصروف ہے جس کا بوجھ مہنگائی کی صورت میں براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔
قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو پاکستان ٹیکنکیل طور پر ڈیفالٹ کر چکا ہے کیونکہ قرض لے کر قرض کی واپسی ڈیفالٹ ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سٹرکچرل ریفارمز سے معیشت میں کوئی بہتری نہیں آتی بلکہ اس سے قرضوں کی ادائیگی کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اضافی ٹیکس اس لیے اکٹھا کرنے پر زور دیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے قرض کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔ انھوں نے پروگرام کی بحالی سے جڑی ہوئی شرائط کو پاکستان کی معیشت کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا قرار دیا اور کہا کہ اس سے معاشی گروتھ ممکن ہی نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کا سارا زور اس پہلو پر ہے کہ پاکستان سے قرضوں کی قسط کیسے وصول کی جائے جو زیادہ سے زیادہ پیسے اکٹھے کرنے کی صورت میں پورا ہو سکتا ہے اور سٹیٹ بینک ایکٹ کے قوانین میں ترامیم بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔ انھوں نے کہا آئی ایم ایف اب سٹیٹ بینک سے براہ راست رابطے میں رہے گا اور اس کے ذریعے اپنی شرائط منواتا رہے گا۔ ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کے بعد معیشت کیسے ترقی کر پائے گی۔ انھوں نے کہا ان شرائط کے بعد ملک کی اکنامک مینجمنٹ کی بحث ہی ختم ہو گئی ہے اور اب ایک ہی چیز نظر آتی ہے کہ قرض کا چکر اسی طرح جاری رہے گا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتیں اپنے صنعتی و تجارتی شعبے کو مراعات فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہاں معاشی گروتھ کو بڑھایا جا سکے، تاہم پاکستان میں آئی ایم ایف شرائط کے تحت صنعتی شعبے کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کے خاتمے اور بجلی و گیس کے نرخوں میں مذید اضافے سے صنعت و تجارت کے شعبوں میں اب تک آنے والی تھوڑی بہت بہتری بھی ابتری میں بدل جائے گی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور ٹیکس چھوٹ میں خاتمے سے پیداواری شعبے کی کاروباری لاگت بڑھے گی جو مصنوعات کو مہنگا کر دے گی۔ یاد ریے کہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت اضافی ٹیکس انھی شعبوں سے وصول کیے جائیں گے جو پہلے سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور انڈسٹری کی اس وقت جو حالت ہے، وہ اضافی بوجھ سہنے کی سکت نہیں رکھتی جس کا نتیجہ انڈسٹری کے لیے مزید مشکلات کی صورت میں نکلے گا۔
