کپتان دوہری شہریت والے معاونین کو ہٹانے سے گریزاں کیوں؟

ماضی میں سپریم کورٹ کی جانب سے دہری شہریت پر آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ناہل قرار دینے کے فیصلے کے پیش نظر کپتان کی کابینہ میں دہری شہریت کے حامل افراد اپنے عہدے پر براجمان رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان اپنے بیانات کے برعکس دوہری شہریت کے حامل معاونین کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں حالانکہ ماضی میں عمران خان ببانگ دہل دہری شہریت کے حامل اراکین اسمبلی کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے رہے ہیں تاہم اپنے قریبی ساتھیوں کے دوہری شہریت کا حامل نکلنے پر کپتان نے معنی خیز خاموشی اختیارکر رکھی ہے۔
ملکی سیاست میں دوہری شہریت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بن چکا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے دہری شہریت کے حامل وزیراعظم کے معاونین اور مشیران سے استعفی طلب کیے جانے مطالبہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے وضاحتیں دی جارہی ہیں۔ دوہری شہریت کا معاملہ کوئی نیا نہیں۔ ماضی میں کئی ارکان پارلیمنٹ دہری شہریت پر نااہلی کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2012 میں سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے گیارہ ارکان کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے تمام مراعات اور تنخواہیں واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 پی کے تحت ایسا شخص رکن اسمبلی بننے کا اہل نہیں جس کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہو۔ عدالتی فیصلے کے تحت جن ارکان کو نااہل قرار دیا گیا تھا ان میں فرح ناز اصفہانی، فرحت محمود خان، نادیہ گبول، زاہد اقبال، اشرف چوہان، وسیم قادر، احمد علی شاہ، ندیم خادم، جمیل ملک، محمد اخلاق اور آمنہ بٹر شامل تھے۔ جبکہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا نام بھی ان نااہل ہونے والوں کی فہرست میں سہرفہرست تھا۔
23مارچ 2013 کو الیکشن کمیشن کی جانب سے دوہری شہریت پر نااہل قرار دئیے جانے والے سابق ارکان پارلیمان کی فہرست جاری کی گئی جس کے مطابق قومی اسمبلی سے تعلق رکھنے والے پانچ، سندھ اسمبلی سے تعلق رکھنے والے دو اور پنجاب اسمبلی کے پانچ ارکان کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی کے نااہل ارکان کی فہرست میں چوہدری زاہد اقبال کا تعلق این اے 63 ساہیوال، جمیل ملک این اے 107 گجرات اور فرحت محمد خان کا تعلق این اے 245 کراچی سے تھا۔ جبکہ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کی بیگم فرح ناز اصفہانی اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کی شہناز شیخ خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی ممبرز تھیں۔
پنجاب اسمبلی کے جن پانچ ارکان کو دوہری شہریت رکھنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا، ان میں محمد اخلاق کا تعلق پی پی 122 سیالکوٹ، ڈاکٹر محمد اشرف چوہان پی پی 92 گجرانوالہ سے، جب کہ چوہدری ندیم خادم کاتعلق پی پی 26 جہلم سے تھا۔اس کے علاوہ خواتین کی مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کی ممبر آمنہ بٹر اور اقلیتوں کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والے رانا آصف محمود کو دوہری شہریت پر نا اہل قرار دیا گیا تھا۔سندھ اسمبلی کے نا اہل قرار پانے والوں میں ڈاکٹر احمد علی شاہ کا تعلق پی ایس 21 نو شہرو فیروز سے جب کہ نادیہ گبول خواتین کی مخصوص نشست پر سندھ اسمبلی کی ممبر بنی تھیں۔
2018 کے اوائل اور الیکشن سے قبل دوہری شہریت کا معاملہ دوبارہ موضوع بحث بنا تو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا اور 17 اکتوبر 2018 کو پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ہارون اختر اور سینیٹر سعدیہ عباسی کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس وقت عدالتی احکامات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں دوہری شہریت اور غیرملکی شہریت کے حامل 1116 افسران کام کر رہے ہیں جب کہ ایک ہزار 2سو 49 افسران کی بیگمات دوہری شہریت اور غیرملکی شہریت کی بھی حامل ہیں۔
15 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے فیصلے میں غیر ملکی شہریت رکھنے والے سرکاری ملازمین کو ریاست پاکستان کے مفاد کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت کو دوہری شہریت سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی مخالفت کے باعث یہ قانون سازی اج تک نہ ہو سکی۔
ماضی میں دوہری شہریت پر متعدد سیاسی رہنماؤں کیخلاف درخواستیں دائر ہو چکی ہیں۔ 2018 میں ہی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کی تعیناتی کی چینلج کیا گیا تھا لیکن عدالت نے ان کی تعیناتی کو وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار قرار دیتے ہوئے ان کی اہلیت اور عہدے سے ہٹانے سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی۔ 3 مارچ، 2020 کو اس طرح کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی تین خواتین، ملیکہ بخاری، کنول شوذب اور تاشفین صفدرکی نا اہلی کیلئے دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جبکہ موجودہ وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کی دوہری شہریت پر نااہلی کیلئے درخواست پر الیکشن کمشن میں سماعت جاری ہے۔ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں این اے 249 سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ گزشتہ سال جنوری میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دوہری شہریت کو چھپایا تھا۔
دوسری طرف کابینہ اراکین کی دہری شہریت کے معاملہ پر اپوزیشن نے سخت ردعمل دیا ہے اور حکومت کی طرف سے دوہری شہریت کے حامل افراد کو معاونین خصوصی بنانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے دوہری شہریت کے حامل افراد کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے ان کو فوری عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماوں کا کہنا ہے کہ دوہری شہریت کے حامل افراد کو فیصلہ سازی میں شریک کرنا مفادات کا ٹکراؤ ہے، یہ فصلی بٹیرے پیراشوٹ کی طرح آئے ہیں اور پیراشوٹ کی طرح چلے جائیں گے۔ جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی.
دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ زلفی بخاری کیس میں قرار دے چکی ہے کہ معاون خصوصی یا مشیران کی تعیناتی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے اور آئین دوہری شہریت کے حامل کسی بھی فرد کو معاون خصوصی یا مشیر تعینات کرنے سے نہیں روکتا تاہم حکومتی وزراء ماضی میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دوہری شہریت کے حامل افراد کے اسمبلی اور کابینہ میں بیٹھنے کو سیکیورٹی رسک اوراپنے مفادات کے محافظ قرار دیننے کے بیانات پربے بنیاد تاویلات پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں کابینہ ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن سے معلوم ہوا ہے کہ 19 غیر منتخب کابینہ اراکین میں سے وزیراعظم کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کی حامل ہیں اس وقت جن معاونین خصوصی کی دوہری شہریت سامنے آئی ہے، ان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر اور معاون خصوصی برائے توانائی ڈویژن شہزاد قاسم امریکہ، معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری برطانیہ جبکہ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایس ایدروس کینیڈا کی شہریت کی حامل ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل اور معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف امریکہ، معاون خصوصی برائے پارلیمانی کوآرڈینیشن ندیم افضل گوندل کینیڈا اور تانیہ ایدروس سنگاپور کی رہائش رکھتے ہیں۔
