کپتان سرکار کی وجہ سے چین پاکستان سے کیوں ناراض ہوا؟

عمران خان حکومت کی خارجہ پالیسی چوں چوں کا مربہ بنی نظر آتی ہے جسکی وجہ سے اسکے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں چاہے وہ چین ہو، بھارت ہو، ایران یا افغانستان۔ پہلے کپتان کی سونامی سرکار نے ہزاروں میل دور بیٹھے امریکہ کی خاطر اپنے پرانے دوست چین کو ناراض کیا لیکن اب امریکہ دشمنی پر اتر آئی لگتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جب امریکہ ہمارے ساتھ سختی کرتا تو چین کی قربت ہمارے کام آتی لیکن کپتان حکومت کی کنفیوژڈ خارجہ پالیسی نے چین کے پاکستان سے تعلقات کو بھی کافی مجروح کیا ہے.
نتیجہ یہ ہے کہ چند برس قبل جوش و خروش سے شروع کیے جانے والے پاک چین اقتصادی راہداری پراجیکٹ پر کام شدید سست روی کا شکار ہے اور آنے والے وقتوں میں یہ اہم ترین منصوبہ مکمل طور پر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
پچاس ارب ڈالر سے زائد کے اس منصوبے کو آصف زرداری کی حکومت نے بہت جوش و خروش کے ساتھ سائن کیا تھا۔ کچھ ہی عرصہ میں یہ اتنا اہم پروجیکٹ بن گیا کہ ہر حکومتی جماعت اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوششیں کرتی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ عسکری حلقوں نے سی پیک کو بھی فوج کی طرح مقدس گائے کا درجہ دینا شروع کر دیا۔ حد تو یہ کہ اس منصوبے پر تنقید کرنے والوں کی حب الوطنی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ لیکن پھر قومی مفاد کے ٹھیکیداروں کی آشیر باد سے عمران خان کی پی ٹی آئی برسر اقتدار آئی اور کشمیر کے مسئلہ سے لیکر سی پیک کے منصوبے تک، سب الٹنے لگا۔ چنانچہ کپتان کے نئے پاکستان میں آج یہ تاثر عام ہے کہ پاک چین سی پیک منصوبے پر کام رک چکا ہے۔
لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس حوالے سے سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ماضی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے ساتھ دو طرف تعلقات کو بیک وقت قائم رکھے لیکن تب چین امریکہ کے مقابلے میں نہیں آیا تھا اور اسے معاشی سپرپاور کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اسی طرح جب امریکہ اور سوویت یونین کی مخاصمت عروج پر تھی تو چین اس میں فریق نہیں تھا اور خود سوویت یونین کے ساتھ اس کے سرحدی تنازعات چل رہے تھے، اس لئے افغانستان سے سوویت یونین کو نکالنے کے عمل میں چین کی ہمدردیاں بھی امریکہ اور پاکستان کےساتھ تھیں۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چند بڑی تبدیلیاں آئیں۔ ایک تو چین بڑی اقتصادی طاقت بن گیا اور اس میدان میں اس نے امریکہ کو چیلنج کیا۔ دوسرا روس اور چین نے سرحدی تنازعات ختم کئے اور مغرب کے مقابلے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی صورت میں ایک فورم پر ایک ساتھ بیٹھ گئے۔
صافی کہتے ہیں کہ ادھر نائن الیون حملون کے بعد جب مشرف نے امریکہ کا ساتھ دیا تو جوابا امریکی قیادت نے یہ وعدہ کیا کہ وہ انڈیا کے ساتھ تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں پاکستان کی مدد کرے گا، لیکن ایسا کچھ کرنے کے بجائے اس کی انڈیا سے قربت بڑھتی رہی اور چین کے تناظر میں بھی اس کے ساتھ اسٹرٹیجک محاذوں پر تعاون بڑھتا رہا۔ دوسری طرف امریکہ کی طرف سے سلالہ اور ایبٹ آباد آپریشن کے واقعات کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ امریکہ کے ساتھ ٹرانزیکشنل تعلقات کا یہ سلسلہ بھی زیادہ پائیدار نہیں رہے گا۔
سلیم صافی کے مطابق ان حالات میں آصف زرداری اور جنرل کیانی نے خارجہ پالیسی کا محور امریکہ سے موڑ کر چین اور روس کی طرف کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب زرداری صاحب پہلی مرتبہ روس جارہے تھے تو امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے فون کرکے اس پر شدید ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔ اسی دوران سی پیک پراجیکٹ بھی شروع ہو گیا۔ پھر زرداری حکومت نے گوادر بندرگاہ سنگاپور کی کمپنی سے واپس لے لی۔ صافی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے سنگاپور کی کمپنی کا جرمانہ بھی ملک ریاض جیسے دوستوں کی جیب سے ادا کروایا اور گوادر پورٹ چینی کمپنی کے حوالے کردیا۔ زرداری نے بطور صدر چین کے کئی دورے کئے اور انہی کے آخری ایام میں سی پیک کے ایم او یو پر دستخط ہوئے۔
صافی کے مطابق نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے چین کے ساتھ اس نئے تعلق کے سلسلے کو مزید تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا اور ساتھ ہی روس کے ساتھ بھی قربت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں تو صرف چین چین اور سی پیک سی پیک ہی ہوتا رہا ۔ تب امریکہ نے کھلے الفاظ میں کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن امریکہ اور انڈیا کو چین اور پاکستان کی یہ قربت ہر گز گوارا نہیں تھی۔ زرداری اور نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا ، اس میں ان کی چین کے ساتھ اس قربت اور امریکہ کو ناراض کرنے کا بھی بڑا دخل تھا۔ جہاں زرداری اور نواز شریف چین کے موسٹ فیورٹ بن گئے، وہاں تاثر یہ بھی تھا کہ عمران خان کو چند وجوہات کی وجہ سے چین میں زیادہ پسند نہیں کیا جارہا تھا۔ ایک خیال تو یہ ہے کہ چینی کسی حد تک عمران خان کے بارے میں ان سازشی نظریات پر بھی یقین کررہے تھے جو مولانا فضل الرحمٰن جیسے لوگوں کے ذہنوں میں تھے۔ سی پیک کے بارے میں چینی بڑے حساس ہیں لیکن دوسری طرف نواز شریف کی مخالفت میں عمران خان اور اسد عمر وغیرہ سی پیک کا مذاق اڑاتے رہے جبکہ دھرنوں کی وجہ سے چینی صدر کے دورہ پاکستان کے التوا کے بعد تو چینیوں کی ناراضی مزید بڑھ گئی۔ یوں وزیراعظم بننے کے بعد خان صاحب کو پھونک پھونک کرچین کے حوالے سے کوئی بھی قدم اٹھانا چاہئے تھا۔
تاہم صافی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے عمرں نے احتیاط اور ذمہ داری سے کام نہیں لیا۔ رزاق دائود نے سی پیک پر ایک سال تک کام معطل کرنے کا غیرذمہ دارانہ بیان دیا۔ دیگر وزرا عمران خان کے ایما پر احسن اقبال کی دشمنی میں سی پیک کے سودوں میں کرپشن کے الزامات لگانے لگے۔ اسد عمر جیسے لوگوں کو سی پیک کی ذمہ داری دے دی گئی جو ماضی میں اس منصوبے کے خلاف تقریریں کر چکے تھے۔ لہازا سی پیک کو فٹ بال بنا کر کبھی اسد عمر تو کبھی خسروبختیار کی طرف پھینکا جاتا رہا۔ اس صورتحال سے چینی نہایت نالاں ہوئے۔ عسکری قیادت نے دوبارہ چین کے ساتھ معاملات طے کئے لیکن اس دوران عمران خان کے دورہ امریکہ کا پروگرام بن گیا اور وہ ٹرمپ کی محبت میں اس حد تک بڑھ گئے کہ چینی ایک بار پھر تشویش میں مبتلا ہوگئے ۔ پھر حفیظ شیخ جیسے آئی ایم ایف کے نمائندوں کو کلیدی عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔
صافی کہتے ہیں کہ ایک بار پھر عسکری قیادت نے معاملات درست کرنے کی کوشش کی اور سی پیک اتھارٹی قائم کرکے جنرل ریٹائیرڈ عاصم سلیم باجوہ کو اس کا سربراہ بنایا، لیکن باجوہ خود پاپا جونز پیزا سکینڈل تنازعے کا شکار ہوئے جس میں بنیادی الزام یہ تھا کہ انہوں نے امریکہ میں اربوں کی جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ چینی سی پیک کی جلدازجلد تکمیل کے لئے بے چین ہیں لیکن سونامی سرکار کے دور میں سی پیک پر کوئی خاص پیش رفت نہ ہوسکی۔ مزید یہ مکہ تبدیلی سرکار کے دور میں چینیوں کی سیکورٹی کا مسئلہ بھی سنگین ہوگیا ہے ۔ پہلے کوئٹہ کے سیرینا ہوٹل میں خودکش دھماکہ ہوا اور اُس وقت چینی سفیر اسی شہر میں تھے ۔ اب داسو میں افسوسناک حملہ ہو گیا لیکن تبدیلی سرکار کے نااہل وزیروں نے پہلے اس سے متعلق غلط بیانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ حادثہ ہے۔
صافی کے مطابق تبدیلی سرکار کی ان حرکتوں نے چینی دوستوں کو نہایت پریشان کررکھا ہے لیکن چونکہ چین کی سفارتکاری کا اپنا انداز ہے اور ہماری طرح ان کی زبانیں نہیں چلتیں، اس لئے وہ سب برداشت کررہے ہیں۔ تاہم اب وہ اس حد تک تنگ آگئے ہیں کہ اپنے ایکشنز کے ذریعے اپنا پیغام دینے لگے ہیں۔ مثلا نیب سے رہائی کے بعد عمران خان نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا لیکن اگلے دن چینی سفیر نے انہیں کھانے پر مدعو کرکے اس کی ویڈیو کوریج بھی کروائی جو عام روایات کے بالکل منافی ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کپتان سرکار کی پالیسیاں ایسی ہی رہیں تو کیا پاک چین سی پیک پروجیکٹ واقعی ختم ہو جائے گا؟
