جسٹس گلزار اور بندیال کے خلاف وکلاء کا بڑا فیصلہ

پاکستانی وکلا برادری نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ بھجوانے کی حمایت کرنے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے تین ججز کی ریٹائرمنٹ پر ان کے لیے الوداعی تقریب منعقد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لہذا اپنی ریٹائرمنٹ پر جسٹس گلزار، عمر عطا بندیال اور مشیر عالم کو وکلا برادری کی جانب سے کوئی عشائیہ نہیں دیا جائے گا جو دراصل ان سے اظہار لاتعلقی ہوگا۔
خیال رہے کہ ریٹائر ہونے والے ججز کے لیے الوداعی عشائیہ ایک روایت ہے جس کا انعقاد بار کونسل اور ایسوسی ایشنز کرتی ہیں۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی منشا کے عین مطابق 28 جولائی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قانونی حلقوں اور سنیئر ججز کی بھرپور مخالفت کے باجود سندھ ہائیکورٹ کے جونیئر جج محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کئے جانے کے بعد پاکستان بار کونسل اور دیگر وکلا تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور پانچ اگست کو ہونے ولاے اجالس میں اس ضمن میں اہم فیصلے کئے ہیں۔ واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان 28 جولائی کے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، سابق سپریم کورٹ جج دوست محمد خان اور پی بی سی کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ اختر حسین کی مخالفت کے باوجود نام نہاد کثرت رائے کی بنیاد پر سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر آنے والے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر کے سپریم کورٹ میں تقرر کی منظوری دی تھی۔ جے سی پی کے فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس حسن اظہر مرزا پر ترجیح دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ جے سی پی کے دیگر اراکین چیف جسٹس گلزار احمد ، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ حکومتی نمائندوں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے جسٹس محمد علی مظہر کے تقرر کے حق میں ووٹ ڈالا لہذا اپنی ریٹائرمنٹ پر جسٹس گلزار، عمر عطا بندیال اور مشیر عالم کو وکلا برادری کی جانب سے کوئی عشائیہ نہیں دیا جائے گا۔
تین ججز کے الوداعی تقریبات منعقد نہ کرنے کا فیصلہ بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندہ اداروں کے مابین ساڑھے تین گھنٹے طویل اجلاس میں کیا گیا اور یہ متفقہ طور پر منظور کردہ 10 نکاتی قرارداد کا حصہ ہے۔ اجلاس کی صدارت پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے کی جس میں صوبائی بار کونسلز کے وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹیوں، مختلف بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور پی بی سی اور صوبائی بار کونسلز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ قرارداد کے مطابق نمائندہ ادارہ نہ صرف ججز کے تقرر کے معاملے پر 8 رکنی دوطرفہ پارلیمانی یا پی سی کمیٹی کو مراسلہ لکھے گا بلکہ اس معاملے کو اٹھانے کی درخواست کے ساتھ پی سی اراکین سے ملاقات بھی کرے گا تاکہ انہیں جے سی پی کی نامزدگی کو مسترد کرنے پر راضی کیا جاسکے۔ پی سی بھی آئین کے آرٹیکل 175 ‘اے’ کے تحت جے سی پی کے شانہ بشانہ قائم کی گئی تھی۔اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جے سی پی کے اراکین، جنہوں نے 28 جولائی کے اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی حمایت کی، ان کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی عشائیہ نہیں دیا جائے گا۔
جے سی پی کے رکن جو مستقبل قریب میں ریٹائر ہونے والے ہیں وہ جسٹس مشیر عالم ہیں جو 17 اگست کو ریٹائر ہو رہے ہیں، 28 جولائی کو جے سی پی نے سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج جسٹس مظہر کی نامزدگی کو پانچ، چار کی اکثریت سے منظور کیا تھا۔
بلوچستان سے پی بی سی کے سینئر رکن اور جے سی پی میں بلوچستان بار کونسل کے نمائندے ایڈووکیٹ منیر کاکڑ نے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کو بتایا کہ جمعرات کو پی بی سی، نمائندہ باڈی کے اجلاس کے دوران منظور کی گئی قرارداد کو اٹھائے گا۔ منیر کاکڑ نے اس اجلاس سے پنجاب بار کونسل، پنجاب بار ایسوسی ایشن، راولپنڈی بار ایسوسی ایشن اور ملتان بار ایسوسی ایشن کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا جس میں ملک کے تمام چھوٹے صوبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان کے بقول ان کی عدم موجودگی قومی ہم آہنگی کے لیے سازگار نہیں ہے کیونکہ اس سے وفاقی اکائیوں میں احساس کمتری اور ناراضگی پیدا ہوئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جسٹس مشیر عالم نے 13 جولائی کو سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں نامزد کرنے کی مخالفت کی تھی، لیکن 28 جولائی کو جے سی پی کے اجلاس کے دوران ترقی کی حمایت کی تھی۔
