کپتان فو ج کیخلاف فرنٹ فٹ پر بیٹنگ کیوں کررہا ہے ؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہر روز مختلف مقدمات میں بریت، چودھری پرویز الٰہی کی ضمانت پر رہائی اور حماد اظہر کے ایک سال بعد روپوشی ختم کر کے سامنے آنے کو بعض مبصرین کسی خفیہ ڈیل کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات سے لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی قیادت میں برف پگھل رہی ہے اور لگتا ہے جلد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی جیلوں سے باہر ہو گی۔ تاہم بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف میں بداعتمادی اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ دونوں اطراف ایک دوسرے پر اعتماد کرنے پر قطعا آمادہ نہیں اور زمینی حقائق کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا فوری جیل سے باہر آنا مشکل ہی نہیں نا ممکن نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں عمران خان کو مختلف مقدمات میں مسلسل ریلیف مل رہا ہے وہیں کئی مقدمات کے فیصلے محفوظ ہیں اور کئی مقدمات کی سماعتیں جاری ہیں اس لئے چند مقدمات میں بریت کے فیصلوں پر کہنا کہ عمران خان باہر آنے والے ہیں غلط ہو گا عمران خان جیل سے باہر اسی وقت آئینگے جب مقتدر حلقے اس کی اجازت دینگے۔
دوسری جانب دنیا نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اپنی پرانی قیادت کے منظر عام پر آنے کے بعد متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہے، سیاسی اور قانونی محاذ پر پاکستان تحریک انصاف کیلئے آئندہ چند ہفتے اہمیت کے حامل ہیں۔چوہدری پرویز الہٰی کی اچانک رہائی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو پنجاب میں ایک فعال لیڈر شپ واپس ملی ہے، 9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی مین لیڈر شپ میں سے بڑی تعداد نے یا تو پارٹی چھوڑ دی یا وہ منظر عام سے مکمل طور پر غائب ہیں، خاص طور پر پنجاب میں حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کے سیاسی منظر نامے سے غائب ہونے کے بعد صوبے میں تحریک انصاف عملاً غیر فعال ہو چکی ہے۔پنجاب میں تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست ہو یا صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کا لائحہ عمل، لیڈر شپ کے بغیر صوبے میں جماعت کے پاس کوئی ڈائریکشن نہیں، تحریک انصاف کو سیاسی طور پر صرف خیبر پختونخوا سے چلایا جا رہا ہے مگر اب پنجاب میں پارٹی کی صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔
فواد چوہدری بھی تحریک انصاف میں واپسی کیلئے پر تول رہے ہیں، امکان ہے کہ فواد چوہدری جلد پاکستان تحریک انصاف میں واپس آجائیں گے، تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق فواد چوہدری اسیری کے دوران اور رہائی کے بعد بھی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں اور پارٹی کے معاملات پر ان کی مختلف ذرائع سے کمیونی کیشن جاری رہتی ہے۔
ادھر بدھ کے روز تحریک انصاف کے اہم رہنما حماد اظہر نے اچانک روپوشی ختم کر دی، وہ اسلام آباد میں پارٹی سیکرٹریٹ پہنچ گئے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا کہ روپوشی ختم کر کے آپ کے باہر آنے کا وقت آگیا ہے
تحریک انصاف پنجاب کی قیادت میں سے چوہدری پرویز الہٰی کا رہا ہونا، حماد اظہر کا اچانک منظر عام پر آنا اور فواد چوہدری کی واپسی کی تیاریاں صوبے میں پی ٹی آئی کے متحرک ہونے کی خبر دے رہی ہیں، کچھ حلقے اس اچانک پیشرفت کو کسی ڈیل سے تعبیر کر رہے ہیں مگر معتبر ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کی نہ تو ڈیل ہو رہی ہے نہ ہی ڈھیل دی جا رہی ہے۔
کچھ حلقے بانی پی ٹی آئی کو عدالتوں سے ملنے والے ریلیف کو نرمی کا رنگ دے رہے ہیں مگر اس کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے، منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی تحریک انصاف کے خلاف کاغذات نامزدگی میں مبینہ بیٹی ٹیریان کو چھپانے سے متعلق کیس خارج کر دیا جبکہ ایک ہفتہ قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس میں بانی تحریک انصاف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا گیا۔سابق وزیر اعظم اب صرف دو کیسز میں گرفتار ہیں، ایک دورانِ عدت نکاح کا کیس اور دوسرا سائفر سے متعلق کیس ہے، دونوں کیسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلیں اپنے آخری مراحل میں ہیں، ان کے فیصلے جلد آ سکتے ہیں، ماتحت عدالتوں میں توڑ پھوڑ کے کیسز میں بھی بانی پی ٹی آئی کیخلاف مقدمات میں بریت انہی دنوں میں ہوئی ہے۔
حقائق یہ ہیں کہ ان کیسز میں ضمانتوں اور بریت کے احکامات عدالتوں نے سامنے موجود میرٹس کو دیکھتے ہوئے دیئے ہیں، پراسیکیوشن کی جانب سے اس میں کوئی نرمی نہیں دکھائی گئی، یہی وجہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کیخلاف آنے والے دنوں میں کچھ نئے کیسز تیار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، نیب ان کے خلاف توشہ خانہ کا ایک نیا کیس تیار کر رہی ہے جو توشہ خانہ سے لئے گئے تحائف کی فروخت سے متعلق ہے۔ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ڈیل نہیں ہے تو سابق وزیر اعظم نے حماد اظہر و دیگر کو منظر عام پر آنے کا کیوں کہا ہے؟ بانی پی ٹی آئی سمجھتے ہیں کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو میں کچھ ایشوز پر تناؤ کی موجودہ صورتحال میں عدالتی محاذ پر ان کیلئے مشکلات کم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، جس کے بعد انہوں نے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
