کپتان نے جسے چپڑاسی بھی نہیں بنانا تھا اسے وزیرداخلہ کیوں بنا دیا؟

شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ بنائے جانے کے بعد سوشل میڈیا صارفین وزیراعظم عمران خان کو یاد دلوا رہے ہیں کہ ماضی میں ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا تھا کہ وہ کبھی وزیر اعظم بنے تو شیخ رشید کو اپنے دفتر میں چپڑاسی بھی نہیں لگائیں گے۔ تاہم وزیراعظم بن جانے کے بعد انہوں نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دوسری دفعہ شیخ رشید احمد کو وفاقی وزیر مقرر کر دیا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ رشید احمد کو وفاقی وزیر داخلہ بنائے جانے کا بنیادی مقصد اپوزیشن اتحاد کی تیز ہوتی ہوئی حکومت مخالف تحریک کو کاؤنٹر کرنا ہے۔
کئی سوشل میڈیا صارفین وزیراعظم کو یہ بھی یاد دلوا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک اور ٹی وی پروگرام کے دوران اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ انہیں شیخ رشید احمد جیسا کامیاب سیاستدان نہ بنائے۔ عمران نے یہ دعا تب کی تھی جب شیخ رشید احمد نے انہیں طعنہ دیا کہ وہ ایک تانگہ پارٹی کے سربراہ ہیں اور وہ ایک کامیاب سیاستدان ہیں۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے عمران خان کی دعا نہیں سنی اور انہیں شیخ رشید جیسا کامیاب سیاستدان بنا دیا جس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم بن کر ایک ایسے شخص کو دو دفعہ وفاقی کابینہ میں عہدے دیے جسے وہ ماضی میں چپڑاسی رکھنے کے بھی روادار نہیں تھے۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین کی عمران خان اور شیخ رشید پر تنقید کو رد کرتے ہوئے حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ شیخ رشید نے بطور وزیر ریلوے اپنی اہلیت ثابت کی ہے اور عمران خان نے ان کی قابلیت اور ذہانت کے پیش نظر ہی ان کو وزارت داخلہ جیسی اہم وزارت سونپی ہے۔ دوسری طرف حکومتی ناقدین وزیراعظم کے اس فیصلے کو ایک اور بڑا یوٹرن قرار دے رہے ہیں۔ لیکن ناقدین شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کئی مرتبہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ یوٹرن لینا عظیم لیڈروں کا شیوہ ہوتا ہے۔
تاہم دنیا جو بھی کہے سچ تو یہ ہے کہ اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران ہمیشہ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے شیخ رشید نے واقعی خود کو ایک کامیاب سیاست دان ثابت کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ماضی کے حریف عمران خان کو کامیابی سے اپنا حلیف بنایا بلکہ ان کے قریب ترین ساتھیوں میں بھی شمار ہونے لگے ہیں۔ راولپنڈی کے ٹیکنیکل سکول میں طلباء سیاست سے اپنے کیرئیر کی ابتداء کرنے والے شیخ رشید نے اہنے سیاسی کیرئیر کے دوران گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے اور انکا اور عمران کا سیاسی قبلہ بھی ایک ہی ہے یعنی جی ایچ کیو۔ بتایا جاتا ہے کہ شیخ رشید احمد نے 2018 میں کابینہ بننے سے پہلے عمران خان سے وزارت داخلہ مانگی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر یہ وزارت اس وقت برگیڈئیر اعجاز شاہ کو دے دی گئی تھی۔ اب شیخ رشید احمد کی یہ دیرینہ خواہش پوری ہو گئی ہے۔
1950 میں راولپنڈی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ سیاست کے میدان میں طالب علمی کے زمانے ہی میں قدم رکھ دیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں جب صدر ایوب کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو اس میں حصہ لیا۔ پھر جب گورڈن کالج میں داخلہ لیا تو کالج کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ 1992ء مں ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن جلد ہی ان سے علیحدہ ہو گئے۔ 1984ء میں بلدیاتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ محمد خان جونیجو کے عہد میں آزاد پارلیمانی گروپ کے سب سے فعال رکن تھے جس کے سربراہ فخر امام تھے۔
1988ء کے عام انتخابات میں اپنی شعلہ بیانی اور پر زور عوامی خطابات کے بل پرپیپلز پارٹی کے امیدوار جنرل ٹکا خان کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1990ء سے 1993ء اور پھر 1997ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ نواز شریف کے پہلے دور میں شیخ رشید کو پہلے مشیر اطلاعات و نشریات، پھر وزیر صنعت و حرفت کا اضافی چارج سیاحت و ثقافت مقرر ہوئے۔ 1997ء کے الیکشن میں کامیاب ہو کر نواز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر شامل رہے۔ 2002ء میں پرویز مشرف کی چھتری تلے ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے بعد میں مسلم لیگ ق میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پہلے وزیر اطلاعات اور پھر وزیر ریلوے بنے۔
لیکن شیخ صاحب نے 2008ء کے انتخابات میں مخدوم جاوید ہاشمی کے ہاتھوں پ ڈی سے شرمناک شکست کھائی جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ ق سے علیحدہ ہو کر عوامی مسلم لیگ نام کی ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالی۔ وہ 2010ء میں سیاست میں ایک دفعہ پھر سرگرم ہوئے اور ایک بار پھر سے پنڈی کے حلقے سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا مگر ان انتخابات میں بھی ایک بار پھر ان کو مسلم لیگ ن کے شکیل اعوان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناقدین کی جانب سے شیخ چلی کہلوانے والے شیخ صاحب کی وجہ شہرت ان کا عوامی انداز، سکینڈلز، لال حویلی اور سیاسی پیشن گوئیاں ہیں۔انہوں نے 2013 کا انتخاب تحریک انصاف کی حمایت سے اپنی جماعت عوامی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے لڑا اور قلم دوات کے نشان پر حلقہ این اے۔55 نششت پر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے کامیابی حاصل کی۔ 2018 کے انتخاب میں بھی شیخ جی تحریک انصاف کی حمایت سے الیکشن لڑے اور اسٹبلشمنٹ کی بھرپور مدد سے ایک بار پھر فاتح ٹھہرے۔
کچھ عرصہ قبل اپنے سیاسی کیرئیر میں آنے والے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے شیخ رشید احمد نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک فرزند پاکستان شیخ رشید احمد کے پچاس سال‘ لکھی۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سایہ ہر وقت میرے ساتھ ہوتا ہے۔ یقینا یہ سایہ اسٹیبلشمنٹ کا ہے جو ہمیشہ سے ان کا سائبان بھی ہے۔
