کپتان نے سینٹ کے ٹکٹ بھی میرٹ کی بجائے مالداروں کو دے دیے

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ الیکشن کو شفاف بنانے اور صاف ستھرے امیدوار لانے کے دعووں کے باجود پی ٹی آئی نے جن امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے ان میں نااہلی کے کیس کا سامنا کرنے والے فیصل واوڈا کے علاوہ کئی ارب پتیوں اور پارٹی نووارد لوگوں کو ٹکٹ دیے گئے ہیں۔ عمران خان کے مسلسل دعووں کے برعکس دیرینہ کارکنوں اور میرٹ پر اہل افراد کو سینیت کے ٹکٹ دے کر آگے لانے کا وعدہ ہوا ہوتا نظر آتا ہے۔ لہذا وزیراعظم کا یہ موقف درست نظر نہیں آتا کہ وہ سینیٹ الیکشن شو آف اینڈ کے ذریعے اس لیے کروانا چاہتے ہیں کہ ووٹوں کی منڈی نہ لگے اور خریدوفروخت نہ ہو۔
سینیٹ الیکشن کے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیے جانے کے اعلان کے بعد وزیراعظم تنقید کی زد میں ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی اور اسکی اتحادی جماعت تحریک انصاف میں بھی اس معاملے پر فوری اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی قیادت نے بلوچستان سے جنرل نشست پر انتخاب لڑنے کے لیے تعمیراتی شعبے سے وابستہ بزنس ٹائیکون عبدالقادر کو ٹکٹ دے دیا ہے جنہوں نے ٹکٹ حاصل کرنے سے ایک روز پہلے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس بارے پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ کے رکن وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بذریعہ ٹوئٹ تصدیق کی اور کہا کہ پی ٹی آئی نے بلوچستان سے سینیٹ کے لیے عبدالقادر کو پارٹی ٹکٹ دے دیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے بلوچستان میں پارلیمانی لیڈرز اور پارٹی کے ایم پی ایز سے مشاورت کے بغیر اتنا اہم فیصلہ لینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو رد کر دیا یے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سربراہی میں مرکزی پارلیمانی بورڈ نے عبدالقادر کو پارٹی ٹکٹ دیتے وقت بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں سردار یار محمد رند اور دیگر سے بھی مشاورت نہیں کی۔ پی ٹی آئی بلوچستان کے ترجمان آصف ترین کا کہنا تھا کہ صوبائی پارلیمانی بورڈ اور قیادت نے عبدالقادر کا نام تجویز نہیں کیا تھا کیونکہ وہ پی ٹی آئی سے تعلق نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے صوبائی رہنماؤں اور زونل سربراہاں نے سینیٹ انتخابات کے لیے وفاداروں اور اتحادیوں کی بجائے ارب پتیوں کو ٹکٹیں دینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان فیصلوں کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکمران جماعت باپ نے سینیٹ الیکشن کے لیے اپنے متفقہ امیدواروں کا اعلان ابھی تک نہیں کیا ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان علیانی جو جیپ ریلی کے لیے چولستان میں تھے وہ سینیٹ ٹکٹوں پر پارٹی میں اختلافات کی خبروں کے بعد کوئٹہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے کچھ ایم پی ایز نے اعلان کیا ہے کہ وہ بلوچستان سے باہر سے لائے گئے مالدار امیدواروں کی حمایت نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 11 فروری کو سینیٹ انتخابات کا شیڈول جاری کیا تھا جس کے تحت ایوانِ بالا کی نشستوں پر اُمیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے پولنگ 3 مارچ کو ہو گی۔
اسی دوران ایک خفیہ ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ 2018 کے سینیٹ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی ارکان کروڑوں روپے رشوت لے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ہارس ٹریڈنگ کی اس ویڈیو کو شرمناک قرار دیتے ہوئےٹویٹ کیا کہ ’یہ لوگ پیسہ طاقت میں آنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر اس طاقت کو پیسہ کمانے، بیوروکریٹس، میڈیا اور دوسرے فیصلہ سازوں کو خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور قوم کو لوٹ کر بیرون ملک اپنے اثاثے بناتے ہیں‘۔ تحریک انصاف کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ سینیٹ میں اوپن ووٹنگ لانے کے لیے آرڈیننس لانے کا مقصد بھی کرپشن کا خاتمہ اور سینیٹ انتخابات کو شفاف بنانا ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سینیٹ جسے پارلیمنٹ کا ایوان بالا کہا جاتا ہے اس میں سیاسی جماعتیں متنازع امیداوار ہی کیوں بھیجتی ہیں؟
سیاسی امور کے ماہر پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق سینیٹ کا لفظ لاطینی لفظ سیناٹس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دانا لوگوں کی کونسل۔ گویا سینیٹر کو ایک دانا، عقلمند اور سٹیٹس مین ہونا چاہیے۔ سینیٹ کا تاریخی طور پر آغاز رومن سلطنت کے دور سے ہوا جب یہ فیصلہ سازی کا سب سے بڑا ادارہ ہوتا تھا۔ یہی فیصلہ کرتا تھا کہ اگلا بادشاہ کون ہو گا۔ امریکی آزادی کے بعد آئین بنا تو طے ہوا کہ سینیٹ میں دانا اور صاحب الرائے افراد کو رکھا جائے گا اور ان کے عہدے کی معیاد چھ سال رکھی گئی جب کہ ایوان نمائندگان یعنی عوامی نمائندوں کی عہدے کی معیاد دو سال رکھی گئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کو چلانے والے افراد سینیٹ میں ہوں جو کہ زیادہ عرصے تک پالیسوں کے تسلسل کے ضامن ہوں۔ امریکہ میں تمام ریاستوں کے دو دو سینیٹر کانگریس میں جاتے ہیں تاکہ ہر ریاست وفاق میں برابر کی نمائندہ ہو اور ان کا انتخاب عوام براہ راست کرتی ہے۔ اس طرح سینیٹر عوام کو براہ راست جواب دہ بھی ہوتے ہیں اور انہی سے منتخب بھی۔
سابق چئیرمین سینیٹ وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 1973 تک سینیٹ کا وجود نہیں تھا اور صرف قومی اسمبلی ہی ہوتی تھی۔ تاہم 1973 کے آئین کے تحت سینیٹ کی تشکیل کی گئی جس کے دو بڑے مقاصد تھے۔ ایک تو چاروں صوبوں کو وفاقی ایوان میں برابر کی نمائندگی دے کر ان میں ریاست پر اعتماد پیدا کرنا تاکہ وہ فیصلہ سازی میں خود کو شریک سمجھیں اور اس طرح چھوٹے اور بڑے صوبے کی کوئی تفریق نہ ہو اور نا کسی کو امتیازی سلوک کا شکوہ رہے۔
دوسرا مقصد یہ تھا کہ پارلیمنٹ کا ایک دوسرا ایوان قومی اسمبلی کے کام کا جائزہ لیتا رہے۔ اگر قومی اسمبلی کے کام میں کوئی غلطی رہ جائے کوئی پہلو نظر انداز ہو جائے تو سینیٹ اس کی تصحیح کر سکے کیونکہ کوئی بھی قانون اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتا جب تک سینٹ اسے منظور نہ کر دے۔ گویا یہ ایک پارلیمنٹ یا فیصلہ سازی پر دوسری رائے کا ذریعہ ہو۔
وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ سینیٹ عوام کی آواز اٹھانے کا ایک اضافی فورم بھی ہے جہاں پر ارکان ان عوامی مسائل کو اٹھا سکتے ہیں جو قومی اسمبلی میں نہیں لائے جا رہے ۔
لیکن پاکستان میں سینیٹ کے امیدوار جس طریقے سے نامزد کیے جاتے ہیں اور جس طرح وہ خود کو منتخب کرواتے ہیں، اس نے ایوان بالا کی ساکھ کو داغدار کر کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی رشوت وصولی کی ویڈیو نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ خریدنے کا الزام حقیقت پر مبنی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے تین مارچ کو زیادہ تر امیر امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے انتخابات میں پیسہ اور اثر رسوخ اکثر میرٹ اور سیاسی وفاداری پر ترجیح پا جا تا ہے۔ ماہرین کے مطابق سینیٹ کی سیٹ کی اہمیت اس لیے ہوتی ہے کہ اس کا دورانیہ چھ سال کا ہوتا ہے اور اس کے لیے امیدوار کو کسی براہ راست الیکشن کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ہی اس کا حلقہ انتخاب ہوتا ہے۔ جب کہ سینیٹ کے رکن کو تقریبا وہ تمام مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں جو قومی اسمبلی ممبران کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اثررسوخ بھی سینیٹ کے ممبران کو حاصل ہوتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر امیدواروں کے لیے سینیٹ کی سیٹ میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے لیے بعض اوقات مالی اخراجات کی پرواہ نہیں کرتے۔
پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق ہو یہ رہا ہے کہ سینیٹ میں امیدوار کا تعین مکمل طور پر پارٹی لیڈر کی صوابدید پر ہوتا ہے وہ ہی اپنے پارٹی کے صوبائی اور قومی اسمبلی ممبران کو کہتا ہے کہ فلاں امیدوار ہمارا نمائندہ ہے اس کو ووٹ دو۔ جب پارٹی لیڈر کے پاس اتنا اختیار ہو تو وہ کیوں صرف سیاسی اہلیت کی بنا پر لوگوں کو آگے لائے گا۔ پارٹی لیڈر کی جانب سے کچھ تو پارٹی کے سینیئر ممبران کو نامزد کیا جاتا ہے اور باقی ایسے لوگوں کو جو پیسے والے ہوں۔ رسول بخش نے الزام عائد کیا کہ سینیٹ الیکشن میں دو طرح کی کرپشن ہوتی ہے ایک تو پارٹی لیڈر خود سینیٹ کے امیر امیدواروں سے پیسے لیتے ہیں اور دوسرا جب ووٹ دینے والے ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کو پتا ہوتا ہے کہ لیڈر پیسے لے گا تو وہ بھی طے کرتے ہیں کہ کیوں ناں وہ خود اپنا ووٹ فروخت کریں۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ میں پارٹی کے دیرینہ کارکنوں یا انتہائی قابل افراد کو چننے کے بجائے ایسے افراد کو چنا جاتا ہے جو صاحب حثییت ہوں چاہے وہ بیٹری کا کاروبار کرتے ہو یا ادویات کا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی لیڈر ذاتی خدمت گاروں تک کو سینیٹ میں لے آتے ہیں۔
رسول بخش رئیس کے مطابق امریکہ کی طرح پاکستان میں گو کہ تمام صوبوں کی سینیٹ میں نمائندگی یکساں ہے، تاہم یہاں براہ راست انتخاب نہیں ہوتا اور پارٹی رہنماوں کی صوابدید ہی سب سے اہم چیز ہوتی ہے اس لیے کوالٹی کی قیادت سینیٹ میں نہیں پہنچ پاتی اور سینیٹ کو وہ مقام نہیں مل سکتا جو ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس افسوسناک صورت حال کا حل یہ ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کو بھی قومی اسمبلی کے الیکشن کی طرح براہ راست کر دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button