کپتان نے عمرانڈوز کو دوبارہ سڑکوں پر لانے کی منصوبہ بندی کر لی

ملک کی سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کی مرکزی قیادت نو مئی کے بعد سے جیلوں میں بند ہے۔ کئی رہنما اور کارکنان مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں جبکہ باقی ماندہ مرکزی رہنما گزشتہ ایک سال سے بلوں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ تاہم  اب عمران خان نے شرپسندی کا نیا پلان ترتیب دیتے ہوئے روپوش مطلوب عمرانڈو رہنماؤں کو سامنے آنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ عمران خان کی ہدایات کے بعد جہاں حماد اظہر روپوش ختم کر کے سامنے آ چکے ہیں وہیں انھوں نے دوسری جانب میاں اسلم اقبال کے بھی جلد سامنے آنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

دوسری جانب عمران خان نے اہنی مزاحمتی سیاست جارخ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملک کے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی بنانے پر زور دیتے ہوئے پارٹی قیادت سے جلسوں کا شیڈول طلب کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں جلسے کرنے کا پلان ترتیب دینے اور حتمی شیڈول بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں اور عمران خان نے پارٹی قیادت کو یوتھیوں کو ایک بار ہر سڑکوں پر لانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دینے کا ٹاسک دے دیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان کے ساتھ رابطہ بڑھانے اور اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کی بھی ہدایات دی ہیں جبکہ دوسری جانب مولانا نے پی ٹی آئی قیادت سے اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت اور مشترکہ جدوجہد کے حوالے سے گارنٹی مانگ لی ہے۔ایسے حالات میں پارٹی صدر چوہدری پرویز الہی کی کئی ماہ بعد رہائی سے کارکن پر امید دکھائی دیتے ہیں کہ پرویز الٰہی کے باہر آنے سے پارٹی کو مقتدر حلقوں سے ریلیف ملے گا۔

تاہم دوسری جانب تجزیہ کار وجاہت مسعود کے مطابق، ’چوہدری پرویز الٰہی نے ہمیشہ طاقتور حلقوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنیاد پر سیاسی کردار ادا کیا۔ بے شک وہ پنجاب کی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن انہیں اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سزا دینا مقصود تھا وہ انہیں مل گئی۔’اب وہ مقامی طور پر تو سیاست کرتے رہیں گے لیکن قومی سطح پر پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی یا اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہتر کرنے میں وہ نمایاں کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کسی کو پارٹی کا کنٹرول دینے کو تیار نہیں ہوں گے۔‘

دوسری جانب تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق، ’چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے دو بار وزیر اعلی رہے ہیں ملکی اداروں میں ان کا کافی اثر ورسوخ ہے۔ جس طرح عمران خان نے عارف علوی کو بات چیت کے دروازے کھولنے کی ذمہ داری دی اس کے لیے پرویز الہی بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں۔‘سلمان غنی کے مطابق، ’پی ٹی آئی کے بانی موجودہ پارٹی عہدیداروں کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے اس لیے انہیں پروہز الہی جیسے تجربہ کار سیاسی رہنما کے ذریعے پارٹی کو دوبارہ مستحکم اور مزید متحرک کرنے میں شاید اعتراض نہیں ہوگا۔‘

دوسری طرف وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ ’چوہدری پرویز الہی سے ڈیل کا کسی کو کیا فائدہ کیونکہ عمران خان جب تک جیل میں ہیں تو ڈیل ہونا مشکل ہے۔ پھر چوہدری پرویز الہی کا سیاسی قد کاٹھ اپنے خاندان کے ساتھ وابستہ ہے لہذا جب تک وہ چوہدری شجاعت فیملی سے صلح نہیں کریں گے ان کی سیاسی ساکھ پہلے کی طرح بحال نہیں ہوگی۔‘تجزیہ کار کے مطابق ’پرویز الہی اب صرف اپنے قریبی لوگوں تک محدود رہیں گے قومی سطح پر تحریک انصاف کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں۔ کیونکہ پہلے ہی پارٹی چلانے والے رہنما موجود ہیں وہ اور عمران خان پرویز الہی پر اتنا اعتماد نہیں کریں گے کہ پارٹی ان کے ہاتھ میں چلی جائے۔‘

Back to top button