کپتان نے وزراء کی جاسوسی نہ کروانے کا مشورہ رد کر دیا

معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی قریبی رفقاء کی طرف سے دیا جانے والا یہ مشورہ رد کردیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس بیورو کے ذریعے اپنے سینئر کابینہ ممبران اور حکومتی عہدیداروں کی جاسوسی کا سلسلہ بند کروا دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے کابینہ ممبران اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی جاسوسی نے کپتان کے قریبی ساتھیوں اور وفاقی وزراء میں بے چینی کی لہر پیدا کردی ہے۔ اکثر وزراء اور حکومتی شخصیات نجی محفلوں میں ایک دوسرے کو اپنے دکھڑے سناتے نظر آتے ہیں۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ کپتان نے بعض ساتھیوں کے مشورے کو رد کرتے ہوئے مشکوک حکومتی شخصیات کا جاسوسی مشن جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں بالخصوص وفاقی وزراء، وزرائے اعلیٰ، گورنر اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور ان کی جانب سے کرپشن کا سراغ لگانے کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے انٹیلی جنس بیورو کو جاسوسی کا ٹاسک دے رکھا ہے۔ آئی بی کی جانب سے تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں اور وفاقی وزرا سمیت وزراء اعلی گورنرز اور دیگر اہم حکومتی شخصیات کی جاسوسی اور ان کی ریکی کی خبریں عام ہونے کے بعد تحریک انصاف کے بڑے نہ صرف محتاط ہو گئے ہیں بلکہ نجی محفلوں میں ایک دوسرے کو اپنے دکھڑے بھی سناتے ہیں کہ کپتان کس طرح ملک کو بہتر انداز میں چلانے کی بجائے کسی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی طرح ہر وقت ان کی ٹوہ میں لگا ہوا ہے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں ایک وفاقی وزیر نے چوری چھپے ایک لگژری گاڑی خریدی لیکن آئی بی نے وزیراعظم کو خبر کر دی جس کے بعد وزیر کو اندرونی تحقیقات کا سامنا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں خیبرپختونخوا کابینہ سے فارغ کیے جانے والے کپتان کے قریبی ساتھیوں عاطف خان اور شہرام ترکئی نے راولپنڈی کی ایک بااثر ریٹائرڈ شخصیت سے ملاقات کی تھی اس حوالے سے بھی کپتان کو انٹیلیجنس بیورو نے آگاہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے دونوں کے ساتھ تعلق داری کا لحاظ نہ کرتے ہوئے انہیں کابینہ سے نکلوا دیا۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ سے تعلق رکھنے والے افراد یا اعلی حکومتی شخصیات جب کہیں مل بیٹھتے ہیں تو دائیں بائیں حالات دیکھنے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ گلہ کرتے ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں ہمیں مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر کام کرنا چاہیے لیکن کپتان نے ہمیں فری ہینڈ دینے کی بجائے آئی بی کو ہماری جاسوسی پر لگا کر نئی مصیبت میں مبتلا کردیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں ایک کابینہ رکن کو ملک کی انتہائی دولت مند شخصیت نے بڑی رقم کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کا اثر رسوخ اپنے حق میں استعمال کریں۔ اس پر کابینہ رکن نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آپ کے ساتھ تعاون کرنے کی صورت میں میرے لیے مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ ہماری ہر وقت جاسوسی ہو رہی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ اپنی جاسوسی سے تنگ آئے حکومتی افراد میں سے کچھ نے مختلف ذرائع سے وزیراعظم عمران خان کو یہ روش ترک کرنے کے لئے قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم کو پیغام بھجوانے والوں نے انہیں باور کرایا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو ایک سویلین اینٹی ٹیررازم ایجنسی ہے جو تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل زیادہ تر دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر فوکس کرتی تھی۔ لہذا اس ایجنسی کو اپنی ہی حکومت کے لوگوں کی جاسوسی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مگر اطلاع ہے کہ وزیر اعظم نے یہ مشورہ ماننے سے انکار کر دیا ہے اور واضع کیا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کا یہ سسٹم اسی طرح چلتا رہے گا۔
وزیراعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان کو اپنے ساتھیوں پر شک ہے کہ شاید وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ درپردہ ہاتھ ملا کر ان کے خلاف سازشوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کابینہ اراکین اور دیگر اعلی حکومتی شخصیات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
