کپتان نے پاک امریکہ تعلقات کی نماز جنازہ کیوں پڑھ دی؟


افغانستان کے معاملے پر امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات آخری حد تک خراب ہونے کے بعد اب عمران خان کھل کر سامنے آگئے ہیں اور امریکہ کو بھارت کا اتحادی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں کوئی فوجی اڈہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
چھ ماہ تک امریکی صدر جو بائیڈن کے فون کال کا انتظار کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے مایوس ہو کر پاک امریکہ تعلقات کی نماز جنازہ پڑھتے ہوئے اعلان کر دیا ہے کہ اب انہیں کسی فون کال کا انتظار نہیں کیونکہ امریکیوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کا اسٹریٹجک پارٹنر بھارت ہوگا اور اسی لیے پاکستان کے ساتھ مختلف سلوک کیا جارہا ہے۔ عمران خان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہ تو دی گئی ہے اور نہ ہی دی جائے گی۔ اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر غیر ملکیوں صحافیوں سے گفتگو کے دوران رائٹرز کے نمائندے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ‘میں سن رہا ہوں کہ صدر جوبائیڈن نے مجھے کال نہیں کی، یہ ان کا معاملہ ہے، ایسا نہیں ہے کہ میں ان کے فون کا انتظار کر رہاہوں۔ مجھے اب کسی فون کامکا انتظار نہیں ہے’۔ عمران خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا تھا کہ اگر جوبائیڈن نے ہماری قیادت کو اسی طرح نظر انداز کیا تو ہمارے پاس اور مواقع بھی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں معید یوسف کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کےصدر نے ایک اہم ملک کے طور پر وزیراعظم سے بات نہیں کی، حالانکہ امریکا خود کہتا ہے کہ افغانستان میں بہت اہمیت ہے اور ہم اشارے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں’۔ انہوں نے وضاحت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہمیں ہر وقت یہی کیا گیا کہ فون آئے گا، یہ ٹینکیکل وجہ ہے یا کچھ اور لیکن لوگ اس پر یقین نہیں کرتے، اگر فون کال رعایت ہے، اگر سیکیورٹی کے تعلقات ایک رعایت ہیں تو پھر پاکستان کے پاس آپشنز ہیں’۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے غیرملکی صحافیوں سے گفتگو کے افغانستان کی صورت حال، پاکستان پر اس کے اثرات اور جنگ زدہ ملک سے امریکی فوج کے انخلا کے حوالے سے بست کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جلدی بازی میں افغانستان چھوڑ گیا، اگر وہ سیاسی حل چاہتے تھے تو پھر عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ جب آپ طاقت میں ہوں تو مذاکرات کریں’۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب پاکستان پر الزام عائد کر رہا ہے اور تب جب کوئی موقع باقی نہیں بچا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ‘میرے خیال میں امریکی فیصلہ کر چکے ہیں کہ انکی بھارت سے اسٹریٹجک شراکت داری ہونا ہے، ہوسکتا ہے کہ اسی لیے پاکستان کے ساتھ مختلف سلوک کیا جارہا ہے۔
امریکہ پر طنز کا تیر چلاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو صرف گند صاف کرنے کے لیے کارآمد تصور کیا جاتا ہے جو وہ 20 سال سے جاری لڑائی کے بعد افغانستان میں چھوڑ کر جارہا ہے۔ ایسے میں کہ جب طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں بڑھ چکی ہیں، واشنگٹن اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ امن معاہدہ کرانے کے لیے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ جو مسلہ وہ 20 سال میں حل نہیں کر پایا ہم اسے کیسے حل کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو صرف یہ گندگی ٹھکانے لگانے کے تناظر میں کارآمد سمجھا گیا ہے جو 20 سال سے ایک فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش میں پیچھے رہ گئی ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ اس مسلے کا کوئی عسکری حل تھا ہی نہیں’۔
یاد رہے کہ امریکا سال 2001 میں طالبان کی حکومت ختم کرنے کے 20 سال بعد 31 اگست کو اپنی ساری افواج افغانستان سے نکال لے گا لیکن آج طالبان ملک کے دس صوبوں پر قابض ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام آباد، افغانستان میں طرف داریاں نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں امریکیوں نے فیصلہ کرلیا ہے اب ان کا اسٹریٹجک پارٹنر بھارت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان میں ایک سیاسی تصفیہ مشکل لگ رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جب افغان طالبان کسی تصفیے پر پہنچنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئے تھے اس وقت انہوں نے ان کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ وزیر اعظم کے مطابق طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ‘معاملہ یہ ہے کہ جب تک صدر اشرف غنی یہاں موجود ہیں وہ افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے’۔
یاد رہے کہ طالبان، اشرف غنی اور ان کی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں، ان کے اور افغان مذاکراتی ٹیم کے درمیان بات چیت کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں ہوا تھا لیکن اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی۔ اس وقت امریکا سمیت متعدد ممالک کے نمائندے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جنگ بندی کرانے کی آخری کوشش کے طور پر دونوں فریقین سے بات چیت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی افواج نے طالبان کی پیش قدمی کے خلاف افغان فورسز کی مدد کے لیے فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ کیا 31 اگست کے بعد بھی یہ تعاون جاری رہے گا یا نہیں۔

Back to top button