کپتان پرویز الہٰی کو ناراض کرنے کا رسک کیوں نہیں لے رہے؟

پچھلے آٹھ ماہ سے شہباز شریف حکومت کو فوری الیکشن کروانے پر مجبور کرنے کی کوششوں میں مصروف عمران خان صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان کرنے کے باوجود گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور عمومی تاثر یہی مل رہا ہے کہ وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ وجہ صرف یہ نہیں کہ ان کی اتحادی جماعت قاف لیگ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ خود انہیں اپنی جماعت کے اندر سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ عمران خان کی جانب سے بھی مسلسل یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی اسمبلیوں کی تحلیل کے فیصلے پر قائم ہے اور مناسب وقت پر انہیں توڑ دیا جائے گا۔ تاہم پی ٹی آئی کے سربراہ نے ابھی تک مناسب وقت کی تشریح نہیں کی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ وقت کب آئے گا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ جلد بازی میں پرویز الہٰی کو ناراض ہونے کا موقع نہیں دینا چاہتے جو اپنے بیٹے سمیت پہلے ہی جنرل باجوہ کے حق میں بیانات داغ چکے ہیں اور اب ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے انہیں پی ڈی ایم کی جانب سے بھی وزارت اعلیٰ کی آفر ہے۔
دوسری جانب حسب توقع خان صاحب نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر احمد شاہ کی تعریفوں کے پل بھی باندھنے شروع کر دیئے ہیں اور ان سے انصاف مانگ لیا ہے۔ یاد رہے کہ خان صاحب ابھی چند ہفتے پہلے تک عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے۔ فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنانے کا خواب ٹوٹنے کے بعد عمران خان ساحر شمشاد کو نیا آرمی چیف بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے اور جنرل باجوہ کا ووٹ بھی انہی کے لئے تھا، تاہم اتحادی حکومت نے سنیارٹی کی بنیاد پر نیا فوجی سربراہ لگانے کا فیصلہ کیا۔ شہبازشریف کی جانب سے عاصم منیر کا نام بطور فوجی سربراہ بھجوائے جانے کے بعد عمران خان نے صدر علوی کے ساتھ مل کر اس معاملے پر کھیلنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اسٹیبلشمنٹ نے یہ کوشش ناکام بنا دی اور علوی کے لاہور پرواز کرنے سے پہلے ہی ان سے نئے چیف کے تقرر نامے پر دستخط کروا لیے گے۔ یوں عمران خان کا گند ڈالنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور انہیں مجبورا اس تقرر کو ویلکم کرنا پڑا۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان کے لاہور میں ڈیرا ڈالنے کے بعد یہاں پر سیاسی سرگرمیاں اور جلسے جلوس ناگزیر ہیں۔ اس لئے اسمبلیوں کی تحلیل کے حتمی فیصلے تک خان صاحب نے پارٹی کو ’الیکشن کرائو‘ مہم شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار کر کے جیل بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں اور کھل کر اس کا اعلان بھی کیا جائے۔ اس دوران اگر ن لیگ پنجاب یا لاہور میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرتی ہے تو پولیس کو متحرک کیا جائے اور اعظم سواتی کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کا بھرپور جواب دیا جائے۔
تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق عمران خان اگلے ہفتے تک مشاورتی عمل مکمل کرنے کے بعد اسمبلی کی تحلیل کا حتمی اعلان کر سکتے ہیں جو وفاقی حکومت کیلئے ایک نیا چیلنج ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق عمراں خان تاحال ق لیگ پرانحصار کیے ہوئے ہیں اور گومگو کا بھی شکار ہیں۔ جبکہ پرویز الٰہی اسوقت پی ٹی آئی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لہٰذا عمران انہیں فی الحال ناراض کرنے کا رسک نہیں لے رہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ دبائو ڈالنے کی صورت میں پی ٹی آئی تو پنجاب حکومت سے الگ ہو جائے گی لیکن پی ڈی ایم پرویز الٰہی کی وزارتِ اعلیٰ برقرار رکھ سکتی ہے۔
اسی دوران پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے ’پلان بی‘ پر بھی عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اسی پلان کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کا اعلان کر دیا گیا ہے اور ان کے استقبال کی تیاریاں بھی شروع ہیں۔ مسلم لیگ ’ن‘ نے نواز شریف کی واپسی کا اعلان تو کیا ہے لیکن کوئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تجزیہ کاروں کے خیال میں میاں صاحب کی واپسی کا فیصلہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے اور حکمتِ عملی بھی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اپنی وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان نواز شریف خود لندن میں کریں گے جو ممکنہ طور پر جنوری تک ہوگا۔
