کپتان پر مزاحیہ تنقید کرنے والا کامیڈین کیسے بے روزگار ہوا؟


اقتدار میں آنے سے پہلے آزادی صحافت کے حق میں بلند و بانگ دعوے کرنے والے وزیر اعظم عمران خان اب آزاد صحافت کیا، اپنے حوالے سے سیاسی طنز و مزاح برداشت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں اور خود پر تنقید کی پاداش میں نہ صرف کئی مزاحیہ ٹی وہ شوز بند کروا چکے ہیں بلکہ کئی اینکرز کو بھی نوکریوں سے نکلوا چکے ہیں جن میں اہم ترین نام معروف کامیڈین خالد بٹ کا ہے۔
دوسری جانب اپنے والد کا نام ڈبونے والے انقلابی شاعر احمد فراز کے بیٹے اور وزیر اطلاعات شبلی فراز بڑی ڈھٹائی سے یہ جھوٹ بولے چلے جا رہے ہیں کہ ملک میں اظہار رائے کی جتنی آزادی آج ہے، کسی دوسرے مُلک میں کبھی بھی نہیں تھی۔ لیکن کامیڈین خالد بٹ کہتے ہیں کہ نئے پاکستان میں نہ تو عوام آزاد ہیں، نہ ہی صحافت اور نہ ہی وزیراعظم عمران خان۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں ان کی تمام فون کالز کو سنتی ہیں، یعنی پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کا وزیراعظم بھی آزادی سے فون پر بات نہ کر سکتا۔ لہذا جب وہ خود آزاد نہیں ہیں تو ہم لوگوں کو کیسے آزادی سے بات کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے نیو ٹی وی پر ان کا چلنے والا طنز و مزاح کا پروگرام خان صاحب کے دباو پر بند کروا دیا گیا اور ان کو نوکری سے فارغ کردیا گیا۔
کامیڈین خالد بٹ کے بقول کچھ ماہ قبل لاہور ایئر پورٹ پر اپنی فلائٹ کا انتظار کرتے ہوئے ان کی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر سے علیک سلیک ہوئی تو اس کے جواب میں انھوں نے خالد بٹ کو کہا کہ تم نے تو اہنے پروگرام میں حد ہی پار کر لی ہے۔ کیا تمہیں اس پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ خالد بٹ کا کہنا یے کہ وہ یہ سن کر حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے پہل تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وزیر صاحب کس ضمن میں بات کر رہے ہیں، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ میرے کام کے متعلق بات کر رہے ہیں تو وہ ہنسنے لگے۔ پیغام واضح تھا۔ وہ دراصل ان کے پروگرام میں وزیر اعظم کے حوالے سے ہونے والے طنزومزاح کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اسکے بعد خالد بٹ کا نجی چینل نیو نیوز پر ہفتہ وار نشر ہونے والا پرائم ٹائم شو بند کر دیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا نام نیشنل ایلین براڈکاسٹ اور مختصر نام نیب تھا جس میں ہر ہفتے ایک اداکار کرکٹر، پولیس والے، ٹی وی اینکر یا سیاستدان کا روپ دھارتا اور خالد بٹ ان سے بناوٹی انٹرویو کرتے۔ خالد بٹ نے بتایا کہ اس دوران جب انہوں نے ایک مرتبہ وزیراعظم عمران خان کی ڈمی بنا کر پروگرام کیا تو ان کے لئے مسائل شروع ہوگے۔ انہیں نیو چینل کی انتظامیہ کی جانب سے فون پر یہ پیغام دیا گیا کہ آپکے شو کی وجہ سے ہمارے لیے متعدد مسائل پیدا ہو رہے ہیں لہٰذا آپ کے شو کو بند کیا جا رہا ہے۔ خالد بٹ کے لیے یہ فون کال ہرگز غیر متوقع نہیں تھی کیونکہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل میں بھی ان کے خلاف ایک شکایت درج کروائی گئی تھی جس میں مدعی کا کہنا تھا کہ خالد بٹ کے شو میں وزیراعظم عمران خان کی ہتک عزت اور کردار کشی کی گئی۔
یاد رہے کہ عمران خان سے پہلے خالد بٹ کی اس طرز نگاری کو ماضی میں طاقت کی کرسی پر بیٹھنے والوں نے کبھی پسند نہیں کیا چاہے وہ جمہوری حکمران ہوں یا ملٹری ڈکٹیٹر۔ لیکن خالد بٹ کا کہنا ہے کہ ماضی میں کسی حکومت یا ادارے نے ان کے شو بند کرنے کے لیے دباو نہیں ڈالا۔ خالد بٹ کا کہنا ہے کہ ماضی پر اب نظر ڈالتا ہوں تو مجھے پشیمانی ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے شو میں سابق صدر زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ کافی زیادتی کی۔ ہم نے بچگانہ حد تک مزاح کے نام پر ان پر ذاتی حملے کیے لیکن پھر بھی کبھی ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا کہ ہمارا شو ہی بند کروا دیا گیا ہو۔ خالد بٹ کے مطابق عمران خان کے دور میں ان کے شو پر چلائے گئے مواد کو تمام حدود پار کرنےکے مترادف قرار دیا گیا حالانکہ انہوں نے مزاحیہ انداز میں صرف سیاسی تنقید کی تھی۔ اس سال جنوری میں میں خالد بٹ نے عمران خان کے اس بیان کو ظرافت کی چھری تلے رکھا جس میں وزیراعظم نے مذاقاً کہا تھا کہ درد کش انجکشن لگنے کے بعد انھیں نرسز حوریں دکھائی دینے لگیں۔ اس خاکے میں وزیراعظم کا کردار ادا کرنے والے اداکار اپنے آپ کو انجکشن لگاتے ہیں جس کے بعد خالد بٹ وزیراعظم کا کردار ادا کرنے والے کو امریکی پاپ سٹار جنیفر لوپز دکھائی دینے لگ جاتے ہیں۔ یہ خاکہ کبھی ٹی وی پر نہ چل سکا۔ اپنا پروگرام بند ہونے کے بعد اب خالد بٹ اپنے شو کو انٹرنیٹ پر نشر کرنے لگ گئے ہیں۔خالد بٹ کے خیال میں تحریک انصاف کی سنہ 2018 میں حکومت سازی کے بعد سے ملک میں سیاسی طنز و مزاح کے لیے عدم برداشت پائی جاتی ہے۔
خالد بٹ نے وزیراعظم کے ایک حالیہ انٹرویو میں کہی گئی ایک بات کی طرف اشارہ کیا جس میں عمران خان نے عندیہ دیا تھا کہ انھیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ خفیہ ایجنسیاں ان کی تمام فون کالز کو سنتی ہیں۔ وہ کہتے ہین کہ ایک ایسا ملک جہاں وزیراعظم بھی آزادی سے بات نہ کر سکتا ہو، ہم کیسے کسی اور کے لیے آزادی اظہار کی بات کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی طنز و مزاح کی روایات کے بارے میں سیاسی تجزیہ کار محمل سرفراز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مزاح کو ہمیشہ سے ہی ایک منفرد حیثیت ملی ہے اور اخبار کے خاکے اور طنزیہ شاعری پاکستان کے سیاسی کلچر کا حصہ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا حتیٰ کہ جنرل ضیا الحق کے دور آمریت میں بھی سرکاری ٹی وی پر ففٹی ففٹی جیسے پروگرام نشر ہوتے تھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں عمومی طور پر افواج پاکستان کے بارے میں طنز و مزاح کرنا شجر ممنوعہ کی حیثیت سمجھا جاتا رہا ہے جبکہ مذہب اور عدلیہ بھی ریڈ لائن کے اُس پار ہوتے ہیں۔ البتہ سیاستدان، کھلاڑی، صحافی وغیرہ مزاح نگاروں کے لیے مشق سخن فراہم کرتے رہے ہیں۔ مگر اس وقت صورتحال بہت گھمبیر ہے۔ حکومت پر تنقید برداشت نہیں کی جاتی حتیٰ کہ مزاحیہ اندا زمیں بھی حکومتی کارناموں پر روشنی ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔
پاکستان ٹوڈے کے اشتراک سے امریکی اشاعت دا انئین کی طرز پر کام کرنے والے پیروڈی اور طنز و مزاح پر مبنی جریدے دی ڈیپنڈنٹ کے ایڈیٹر عمر عزیز خان کا بھی ماننا ہے کہ سیاسی مزاح نگاری کے لیے اب ماحول سازگار نہیں۔ عمر عزیز خان کا کہنا تھا کہ جو کچھ آپ مارچ میں کہہ سکتے تھے وہ آپ اگست میں نہیں کہہ سکتے اور جو آپ اگست میں کہہ سکتے تھے وہ اب نومبر میں نہیں کہہ سکتے۔ عمر عزیز کا ماننا ہے کہ ملک میں طنز و مزاح نگاروں کو روایتی صحافیوں کے برعکس زیادہ آزادی حاصل ہے۔وہ کہتے ہیں روایتی مباحثے یا بات چیت میں لوگ زیادہ چوکنا ہوتے ہیں دوسری طرف اگر آپ مذاق میں بات کر رہے ہوں تو لوگ اتنے محتاط نہیں ہوتے، اپنے خیالات دوسرے تک پہنچانے کا یہ ایک زبردست طریقہ ہے۔لیکن تین سال سے قائم دی ڈپینڈنٹ کو بھی اپنی اشاعتوں پر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور متعدد قانونی نوٹسز اور حکام کی جانب سے فون کالز موصول ہو چکی ہیں۔ عمر عزیز کا کہنا ہے کہ حتی کہ ہمیں فیک نیوز تک کہا گیا، مطلب کہ یار حد ہی ہے یہ تو۔ حکومتی دباؤ کی مثال دیتے ہوئے عمر نے نومبر کے اس واقعے کا ذکر کیا جب اُس وقت کے وزیر داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی تھی جس میں وہ ایک مجمعے سے بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں کو پاکستانی طالبان کی جانب سے ان کی دہشتگردی کے حوالے سے پالیسیز کے ردعمل کے طور پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔اس ویڈیو میں بریگیڈئیر اعجاز شاہ نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ فوج مخالف موقف پر ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہو سکتا ہے۔اس بیان پر دی ڈپینڈنٹ نے ایک تصویر پوسٹ کی جس کا عنوان تھا بریگیڈئیر غدار۔ جس میں ایک جھنڈے پر سابق وزیر داخلہ کی تصویر تھی لیکن انھیں اسی دن اس سٹوری کو ہٹانا پڑا۔عمر عزیز خان کا کہنا ہے کہ تنقید برداشت کرنے کے لیے تمام ہی حکومتوں کے دل چھوٹے ہوتے ہیں لیکن موجودہ حکومت تو حس مزاح سے یکسر عاری ہے۔ تنقید برداشت کرنے کے معاملے میں تو ان لوگوں کی کھال بالکل موٹی نہیں۔ اس حکومت میں جو خندہ پیشانی سے تنقید سنتے ہیں وہ صرف برے الیکٹیبلز ہی ہیں کیونکہ یہ سیاسی لوگ ہیں اور مذاق برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button