کپتان نے PTI کی سوشل میڈیا ٹیم کو سرکاری عہدے دے دئیے

اپنوں کو نوازنے کیلئے کپتان نے نوکریوں کی لوٹ سیل لگا دی۔ وزیر اعظم عمران خان نے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے تحریک انصاف سوشل میڈیا سیل کے 6 ملازمین کو وفاقی وزارت اطلاعات کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں بھاری تنخواہوں پر تعینات کرکے ایک بدترین مثال قائم کردی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی جماعت تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ونگ چلانے والے ان چھ ملازمین کو وفاقی وزارت اطلاعات کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے جنہوں نے 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی الیکشن مہم چلائی تھی۔ اب یہ تمام افراد کپتان کی خدمت کے عوض حکومت پاکستان کے خزانے سے عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھی یونے والی بھاری تنخواہیں وصول کریں گے۔ واضح رہے کہ ان افراد کو بغیرکسی مقابلےکا امتحان دئیے وزارت اطلاعات کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں بھاری تنخواہوں پر رکھا گیا ہے جس سے میرٹ کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی وزارت اطلاعات میں تقرریوں پر سوشل میڈیا پر صارفین نے شدید ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ کیا یہی وہ تبدیلی ہے جس کے لیے کپتان کو اقتدار میں لایا گیا تھا۔
سنیئر صحافی سید عون شیرازی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا یہ تمام افراد آپ کے اور میرے ٹیکس کے پیسے سے بھاری مراعات اور تنخواہیں لیں گے اور کپتان کی ذاتی تشہیر اورامیج بلڈنگ کا فریضہ سر انجام دیں گے۔ یاد رہے کہ ماضی میں تحریک انصاف مریم نواز شریف کے سوشل میڈیا سیل پر اسی بنیاد پر تنقید کرتی تھی کہ اس میں بھرتی شدہ افراد کی تنخواہیں وزارت اطلاعات ادا کرتی تھی۔
تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے ممبران کی وزارت اطلاعات میں تعیناتی پر صحافی سلیم صافی بھی برس پڑے ۔ انہوں اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ نہ اشتہار، نہ ٹیسٹ، اور نہ ہی انٹرویو۔ خان صاحب کی جماعت کے سوشل میڈیا ونگ سے وابستہ افراد کوصرف اور صرف اس بنیاد پراعلیٰ گریڈوں میں نوکریاں دی گئیں کہ یہ لوگ سونامی کے نقادوں کی کردارکشی کرنے اور عمران خان کو مسیحا ثابت کرنے کے ماہر ہیں۔ صافی نے لکھا کہ یہ ناجائز اور غیر قانونی کام جس نے بھی کیا یے اسکا حساب شبلی فرازکو دینا ہوگا۔
ٹویٹر صارف عدنان رشید نے لکھا کہ تحریک انصاف اور مئڈیا ن لیگ پرالزام لگاتے تھے کہ انہوں نےسرکاری خرچ پر اہنے ذاتی سوشل میڈیا ورکرز تعینات کئےہوئےہیں جبکہ حقیقت میں ایساکچھ نہیں تھا۔ اب تحریک انصاف حکومت اپنے سوشل میڈیا کارکنوں کواعلی ترین عہدوں سےنواز رہی ہے اور وہ بھی وزیراعظم کے اپنے احکامات پر۔ اسے کہتے ہیں یوٹرن۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت اطلاعات کے ڈیجیٹل میڈیا سیل میں ان تعیناتیوں کی منظوری دی ہے۔ وزیراطلاعات شبلی فراز کی زیرصدارت سلیکشن کمیٹی نے ان امیدواروں کے رسمی انٹرویوز کئے تھے۔ وزیراعظم کی منظوری اور ہائرنگ کا پراسیس مکمل ہونے کے بعد انکی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کیلئے ان چھ افراد کا کیس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھیج دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایم پی ٹو میں ایک جبکہ ایم پی تھری پے اسکیل میں پانچ تعیناتیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ایم پی ٹو گریڈ 21 اور ایم پی تھری کی تعیناتیاں گریڈ 20 کے برابرقرار دی جاتی ہیں۔
تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ عمران غزالی کو ایم پی ٹو میں تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ محمد مزمل حسن، عثمان بن ظہیر، شہباز خان، نعیم احمد یاسین اور سیدہ دھنک ہاشمی کو ایم پی تھری اسکیل میں تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسکے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں 12 سے زائد افراد کو فکسڈ سیلری پر تعینات کرنے کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں تعیناتیاں وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کی سفارش پر کی گئی ہیں جو اس ونگ کو فعال کرنا چاہتے ہیں۔ وزارت اطلاعات میں بطور جنرل مینیجر ڈیجیٹل میڈیا ونگ تعینات ہونے والے عمران غزالی ایک ڈیجیٹل میڈیا سٹریٹجسٹ ہیں اورانہوں نے 2009 میں امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی بھی بنا رکھی ہے اور برطانوی امدادی ادارے ڈی ایف آئی ڈی کے ایک شعبے کے سوشل میڈیا سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ عمران غزالی نے بطور یونیسیف کے کنسلٹنٹ وزیراعظم عمران خان کی کلین گرین پاکستان مہم کی میڈیا سٹریٹجی ٹیم کی سربراہی بھی کی ہے۔ عمران غزالی الف اعلان کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹیم کے بانی رکن ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی آن لائن موجودگی بھی انہی کی وجہ سے ہے۔
وزارت اطلاعات حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا ونگ وزارتِ اطلاعات و نشریات کا قائم کردہ یونٹ ہےجس کا قیام رواں سال کابینہ منظوری کے بعد عمل میں لایا گیا۔ یہ ونگ حکومتِ پاکستان کیلئے ایک اسٹریٹجک یونٹ کے طور پر کام کرے گا اور حقائق پر مبنی میڈیا مواد کی فراہمی کے علاوہ، ڈیجیٹل تعلقات عامہ، اور ڈیجیٹل میڈیا پر مستند سرکاری اپ ڈیٹس کی فراہمی کویقینی بنائے گا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق جنرل مینجرکے لیے 76 اور ڈیجیٹل میڈیا کنسلٹنٹ کے لیے67 درخواستیں موصول ہوئیں، بھرتیاں اسپیشل سلیکشن بورڈ نےانٹرویوز کے بعد کی ہیں اور منتخب افرادکی سمری کی وزیراعظم نے20 جولائی کو منظوری دی ہے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق ان 6 افراد کی ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں تعیناتی کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے دسمبر 2019ء میں دی تھی جبکہ بھرتیوں کےطریقہ کار کی منظوری بھی وزیراعظم نے اپریل 2020 میں دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button