کپتان کا ایک اور یوٹرن: کابینہ اراکین کی ہاف سینچری مکمل

اقتدار میں آنے سے قبل صرف 17 ارکان پر مشتمل وفاقی کابینہ تشکیل دینے کا دعویٰ کرنے والے کپتان نے اپنی کابینہ کے اراکین کی نصف سینچری مکمل کر لی ہے۔ حیران کن طور پر کپتان کی پچاس رکنی وفاقی کابینہ میں غیر منتخب لوگوں کی تعداد 18 ہے۔
اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مصداق ماضی میں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر وزراء کی فوج بھرتی کرنے کا الزام لگانے والے عمران خان نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے وزراء کی فوج ظفر موج بھرتی کرلی ہے۔ خیال رہے کہ نواز شریف کی وزارت عظمی کے دور میں ان کی وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد 43 تھی جبکہ شاہد خاقان عباسی کے دور میں یہ تعداد 47 تھی۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں جب سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو انکی کابینہ کے اراکین کی تعداد 57 تک پہنچ گئی تھی۔
اس وقت عمران خان کی وفاقی کابینہ میں 27 وزرا، چار وزرائے مملکت اور 5 مشیران ہیں جبکہ وزیراعظم کے خصوصی معاونین کی تعداد 14 ہے۔ حیران کن طور پر وزیر اعظم کی کابینہ میں غیر منتخب افراد کی تعداد 18 ہے جبکہ نئے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ نہیں دیا گیا۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم کے دو معاونین خصوصی ثانیہ نشتر اور محمد شہزاد ارباب کے پاس وفاقی وزیر کے مساوی عہدہ ہے۔اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے کئی اہم وزارتوں کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہوا ہے جن میں تجارت، ماحولیاتی تبدیلی، پارلیمانی امور، خزانہ اور وزارت صحت شامل ہے۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز کا قلمدان بھی وزیراعظم عمران خان کے پاس ہے جو دراصل ان کے قریبی دوست زلفی بخاری چلا رہے ہیں۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد کپتان نے دو افراد کو کابینہ کا حصہ بنایا ہے۔ شاعر اور ادیب احمد فراز کے صاحبزادے سینیٹرسید شبلی فراز کو وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کا قلمدان دیا گیا ہے جبکہ موجودہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو فردوس عاشق اعوان کی جگہ وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے اطلاعات نامزد کیا گیا ہے۔ اس طرح کابینہ ارکان کی تعداد 50 ہوگئی ہے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وزیر اعظم خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی سمارٹ کابینہ بنانے کے دعوے پر یوٹرن لے لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button