کپتان کا بجلی صارفین پر 884 ارب روپے کا نیا ٹیکس

آئی ایم ایف کی آلہ کار کپتان حکومت نے بجلی کی قیمتوں پر نیا سرچارج عائد کرتے ہوئے گردشی قرضوں کا بوجھ براہ راست عوام کے کندھوں پر ڈال دیا ہے جس کے بعد اب بجلی کی فی یونٹ قیمت 5 روپے 36 پیسے کے اضافے سے 25 روپے ہو جائے گی اور عوام کا کچومر نکل جائے گا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ظلم کی بات یہ ہے کہ یہ صدارتی آرڈیننس نیپرا کو اختیار دے گا کہ وہ کابینہ کو بائے پاس کر کے جب چاہے آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجلی کی قیمت میں من چاہا اضافہ کردے۔
ماضی میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دینے کا اعلان کرنے والے عمران خان کی حکومت اس وقت آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط لینے کے لئے اس کے پاؤں پر چکی ہے اور اس کا ہر طرح کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے تمام تر بوجھ بجلی صارفین پر ڈال رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ تازہ ترین معاہدے کے تحت بجلی صارفین پر 884 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے جو وہ بجلی کے بلوں میں ادا کریں گے۔ اسکے علاوہ صارفین کے لئے لائف لائن یونٹوں کی سہولت 300 یونٹوں سے کم کر کے 100یونٹ کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب بجلی صارفین کا کہنا ہے کہ اب بجلی چوری میں اور بھی ذیادہ اضافہ ہو گا، بلوں کی ریکوری میں کمی ہو گی، اور غریب کے بعد امیر صارفین کو بجلی کے بل ادا کرنے مشکل ہو جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا یے کہ اس عوام دشمن حکومتی اقدام کا مقصد آئی ایم ایف سے 50 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط حاصل کرنا ہے۔ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت نے بجلی صارفین سے ٹیکس چھوٹ واپس لینے اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے خودکار بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ تقریباً 5.36 روپے اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لئے پاور ڈویژن کی طرف سے جلدبازی میں وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کی گئی سمری میں کہا گیا تھا کہ سرکلر ڈیٹ منیجمنٹ پلان کے نفاذ، اور ٹیرف طے کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے عزم کو ظاہر کرنے کے لیے جلد از جلد ترامیم ضروری ہے لہذا تجویز ہے کہ ایک آرڈیننس کے ذریعے ترامیم متعارف کروائی جائیں جس کو آرڈیننس برائے مزید ترامیم ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ 1997′ کہا جائے گا۔ اس سمری میں کہا گیا ہے کہ یہ صدارتی آرڈیننس ملک میں بجلی کے شعبے کو شفاف اور انصاف پسندانہ ضابطہ اخلاق کے لیے ایک مناسب نظام دے گا جو تجارتی اصولوں اور حکومت کی سماجی و اقتصادی پالیسیوں پر مبنی ہوگا۔
تاہم آئی ایم ایف نے اس قسط کی منظوری کو پارلیمنٹ سے قانون سازی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے اور حکومت کو ہر صورت ایسا کرنا ہوگا۔ تاہم صارفین کا کہنا یے کہ حکومت عوام کی بجائے آئی ایم ایف کا مفاد بچا رہی یے اور اسی کو خوش کرنا چاہتی ہے جس سے عوام کا کچومر نکل جائے گا۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے صدارتی آرڈیننس کا مقصد آئی پی پیز کو گردشی قرضوں کی ادائیگی کرنا ہے، 65 آئی پی پیز کے ساتھ گردشی قرضوں پر نظر ثانی معاہدہ کے تحت آئندہ دوسال میں 430 ارب روپے ادا کرنے ہیں، جن میں 150 ارب روپے کی قسط فوری ادا کرنی ہو گی، اس مقصد کے لئے پہلے سکوک بانڈ جاری کرنے اعر اسلام آباد میں پارک اور کنونشن سنٹر کو گروی رکھنے پر غور جاری تھا۔ لیکن صدارتی آرڈنینس کے ذریعے گردشی قرضوں کے لئے عالمی اداروں سے قرض نہیں لینا پڑے گا بلکہ بجلی کی قیمتوں کا بوجھ براہ راست عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے، یاد ریے کہ آئی پی پیز کے مجموعی گردشی قرضوں کا تخمینہ 430 ارب روپے اور قرضوں اور ان ہر سود کا حجم 2000 ارب روپے ہے، صدارتی آرڈیننس کے بعد گردشی قرضوں کا بوجھ اب صارفین اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کریں گے جبکہ بینکوں کے قرضوں کا بوجھ وزارت خزانہ کے سپرد ہو گا۔
بتایا گیا ہے کہ بجلی کی قیمت میں پانچ روپے 36 پیسے فی یونٹ اضافے کے ساتھ بجلی کے فی یونٹ کی قیمت 25 روپے ہو جائے گی، اسکے علاوہ بجلی کے غریب صارفین کے لئے لائف لائن یونٹوں کی سہولت بھی کم کر دی جائے گی، یاد ریے کہ بجلی صارفین کو 300 لائف لائن یونٹ کی سہولت میسر ہے جس کو کم کر کے 50 اور 100یونٹوں کی دو سلیب میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عوام نے بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کی سونامی میں ڈوبے عوام الناس کی زندگی مذید مہنگائی کے ذریعے مزید اجیرن کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان واقعی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہوتے تو وہ آئی ایم ایف کا آلہ کار بننے کی بجائے عوام کے آلہ کار بنتے اور ان کی زندگی مزید مشکل بنانے کی بجائے انہیں آسانیاں فراہم کرتے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہی ملک چلانا تھا تو تبدیلی کے ذریعے نیا پاکستان بنانے کےدعوے کیوں کیے گئے تھے؟
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چور دروازے سے بجلی کی قیمت میں کم ازکم 6 روپے فی یونٹ اضافہ قوم کو زندہ درگور کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے صارفین پرمزید 884 ارب روپے کا بوجھ ڈالا جائے گا جو کہ ناقابل قبول ہے۔
