کپتان کا دوست 15 لاکھ پر ریور راوی منصوبے کا CEO مقرر

پنجاب کی بزدار سرکار نے غریب ملک میں وزیر اعظم عمران خان کے ایک قریبی دوست عمران امین کو 15 لاکھ روپے ماہانہ پر ریور راوی منصوبے کے لیے بھرتی کر کے اپنوں کو نوازنے کی ایک اور مثال قائم کردی ہے۔ دلچسپ بات یہ یے کہ لاہور میں نیا شہر بسانے کے لئے قائم کی گئی راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ماہانہ تنخواہ پنجاب کے چیف سیکرٹریز سے بھی کئی گنا زیادہ رکھی گئی ہے لیکن اس پروجیکٹ کے لیے علاقے کے رہائشیوں سے زبردستی 1250 روپے فی مرلہ کے حساب سے زمین ہتھیانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں کہ ایک کلو چھوٹا گوشت بھی مشکل سے ملتا ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستان کی بیوروکریسی حکمرانوں کے ساتھ مل کر قومی خزانے پر کیسے ہاتھ صاف کرتی ہے اس کا عملی مظاہرہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ماہانہ تنخواہ کے بارے میں نوٹیفیکیشن سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران امین کو 18 فروری سے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کیا گیا اور اسکا نوٹیفیکیشن 2 اپریل کو جاری کیا گیا۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران امین وہی شخص ہے جس نے شہباز شریف دور میں بھی ریوڑ راوی منصوبے کی فزیبیلیٹی رپورٹ بنائی تھی لیکن تب کے ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے یہ فزیبیلٹی رپورٹ ناقص اور کاغذی قرار دے کر نہ صرف مسترد کردی تھی بلکہ چوری کی فزیبیلیٹی رپورٹ جمع کروانے پر عمران امین کی جرمن کمپنی مائن ہارٹ کو آٹھ کروڑ روپے جرمانہ بھی ڈال دیا تھا۔ احد چیمہ نے بطور ڈی جی آئی ڈی ریور راوی منصوبے کو ناقابل عمل قرار دے دیا تھا لیکن عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد عمران امین نے بطور کنسلٹنٹ دوبارہ یہ منصوبہ کپتان کو پیش کر دیا جنہوں نے نہ صرف اس کی منظوری دے دی بلکہ اب تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عمران امین کو منصوبے کا کنسلٹنٹ ہونے کے باوجود بھاری تنخواہ پر اس کا چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی مقرر کر دیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی محکمہ جات کے باوجود متبادل طور پر اتھارٹیز اور کمپنیاں کیوں بنائی جاتی ہیں، عمران امین کی ماہانہ تنخواہ کا گوشوارہ پڑھنے سے اس کی وجہ بخوبی معلوم ہوجاتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ماضی میں نون لیگ کی حکومت نے بیوروکریسی کے منہ کو یہی لاکھوں کی تنخواہ کا خون لگایا تھا اور اب تحریک انصاف بھی اسی ڈگر پر چل پڑی ہے۔
عمران امین کے حکومتی نوٹیفیکیشن کے مطابق ان کی بنیادی تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ ہوگی جبکہ ڈویلپمنٹ الاؤنس کی مد میں 250 فیصد زیادہ رقم یعنی 8 لاکھ روپے ماہانہ الگ سے ملے گی۔ رہائشی الاؤنس 2 لاکھ 40 ہزار روپے ماہانہ، یوٹیلیٹی الاؤنس کی مد میں ایک لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ ملیں گے۔ ٹرانسپورٹ سہولیات کے لئے 1300 سی سی گاڑی اور مفت ڈرائیور بھی ملے گا۔ اسکے علاوہ 300 لیٹرصرف لاہور میں سفر کرنے کیلئے جبکہ بیرون لاہور کیلئے الگ سے پٹرول ملے گا۔ اور تو اور ٹی اے ڈی اے بھی اتنا ملے گا جو 22 ویں سکیل کے آفیسرز کیلئے مختص ہے۔ یہی نہیں بلکہ ٹیلی فون کالز کے لئے 10 ہزار روپے ماہانہ اور میڈیکل سہولیات بھی 22 ویں گریڈ کی ملیں گی۔ یوں موصوف کی کل ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ روپے ہوگی۔
حکومت کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سنیئر صحافی طلعت حسین نے اپنے ٹویٹ میں لکھا اپنا ہمسایہ۔ اپنا دوست۔ اپنا تعمیراتی مشیر۔ مگر ان صاحب کی تعیناتی کے لئے کونسا قاعدہ اور ضابطہ ہے جو پورا کرنے کی زحمت کی گئ ہو؟ چلاو گے ایسے آخر کب تک؟ اس ٹویٹ کے جواب میں ٹوئٹر صارف طارق رفیق نے لکھا کہ دونوں ہاتھوں سے لوٹنا اسی کو کہتے ہیں۔ زیڈ اے بخاری نامی صارف نے لکھا کہقرضوں کے بوجھ تلے ڈوبے مہنگائی کے مارے عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے کالے ناگوں میں ایک اور ناگ کا اضافہ۔ طلباء کے وظائف اور اساتذہ کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں مگر ان حرام خوروں کے لئے خزانے بھرے ھوئے ہیں۔ میاں منیر ہنجرا نے اپنے پیغام میں لکھا یہاں لوٹ سیل لگی ہوئی ہے جس میں صرف عمران کے یاروں اور عمران کی اے ٹی ایم کو شاپنگ کی اجازت ھے۔ ایک صارف نے کپتان حکومت کے اس فیصلے کا نون لیگ حکومت میں ہونے والی ایک تعیناتی سے موازنہ کرتے ہوئے عدلیہ کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے یاد دلایا کہ پنجاب حکومت نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چئیرمین عمران امین کی تنخواہ 15 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کی ہے۔ میڈیکل الاؤنس’ ٹی اے ڈی اے’ گاڑی اور ڈرائیور تنخواہ کے علاوہ ملے گا۔ یاد رہے کہ ثاقب نثار نے PKLI ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سعید اختر کی 15 لاکھ تنخواہ پر سوموٹو نوٹس لے لیا تھا اور بالآخر ڈاکٹر سعید پاکستان چھوڑ گئے تھے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران امین وزیراعظم عمران خان کے پرانے اور ذاتی دوست ہیں اور ان کی تنخواہ کا پیکج وزیراعظم کی منظوری سے سے فائنل ہوا۔
