کپتان کا "طالبان خان” سے "عمران بن لادن” تک کا سفر

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینے کے بعد جہاں وہ سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی زد میں ہیں وہیں ٹوئٹر پر ان کے حوالے سے عمران بن لادن کا ٹرینڈ چلنا شروع ہو گیا ہے۔
زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے عمران خان کی جانب سے اسامہ کو کو شہید قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ 75 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی شہادت کی وجہ بننے والا شخص شہید کیسے ہو سکتا ہے خصوصا جب اسلام بتاتا ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے؟ سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ اسامہ کے القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے ساتھیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستان آرمی کے جوان بھی شہید ہوں اور اسامہ بھی شہید کہلائے۔ سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی کہا کہ اگر اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ بیان کسی اپوزیشن رہنما نے دیا ہوتا تو اب تک آئی ایس پی آر ترجمان نے اس کے خلاف پریس کانفرنس کر دی ہونی تھی اور
اسکے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی تیاری کی جا رہی ہونی تھی۔ تاہم ایک دل جلے سوشل میڈیا صارف نے یہ لکھا کہ اگر دو مرتبہ پاکستانی آئین ہامال کرنے والے پرویز مشرف کو غدار وطن قرار نہیں دیا جا سکتا تو پھر اسامہ کو بھی شہید قرارد ینے میں کوئی حرج نہیں۔
تاہم سچ تو یہ ہے کہ عمران خان پارلیمینٹ میں کبھی کبھار ہی آتے ہیں لیکن جب بھی آتے ہیں کوئی نہ کوئی بڑا تنازعہ کھڑا کر کے چلے جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی انھوں نے 25 جون کو کیا جب اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ ماضی میں بطور اپوزیشن لیڈر عمران خان طالبان کے حمایتی تھے جس کی وجہ سے ان کو طالبان خان کہا جاتا تھا لیکن اب ان کے تازہ ترین بیان کے بعد عمران خان کو سوشل میڈیا پر عمران بن لادن کا خطاب دے دیا گیا ہے اور یہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیا؟ حکومت چلانے میں ناتجربہ کاری؟ فیصلے صرف اپنی سوچ کے مطابق کرنا؟ کسی کی رائے کی پرواہ نہ کرنا یا ناتجربہ کار کابینہ؟ شاید ان میں سے کچھ بھی نہیں۔ اصل مسئلہ ان کا لکھی ہوئی تقریر نہ کرنے پر مسلسل اصرار ہے جس وجہ سے وہ بار بار غیر ذمہ دار گفتگو کر جاتے ہیں جس سے ان کی جہالت بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ کپتان کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے پاس ایک عالمی لیڈر کا وژن نہیں اور وہ بہت سارے قومی اور بین الاقوامی معاملات پر کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔
یہی کچھ 25 جون کو ان کی پارلیمان میں غیرمعمولی موجودگی اور ایک گھنٹہ 13 منٹ کی تقریر کے دوران ہوا۔ انہوں نے پورے ایوان کو کرونا وائرس، معیشت، خارجہ پالیسی اور کئی دیگر انتہائی اہم ترین مسائل پر اعتماد میں لینے کی کوشش کی لیکن جو جملہ بعد میں میڈیا میں چھا گیا وہ ان کا القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ’شہید‘ قرار دینا تھا۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ٹوئٹر پر ’عمران بن لادن‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ان پر ’طالبان خان‘ ہونے کا الزام تو طویل عرصے سے لگ رہا تھا، اب انہیں بن لادن سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے مطالبے کے باوجود وزیر اعظم ہاؤس نے 18 گھنٹوں بعد تک کوئی وضاحت یا تردید جاری نہیں کی، تاہم وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ اسامہ بن لادن کے لیے وزیر اعظم نے دو مرتبہ قتل کا لفظ استعمال کیا۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان نے پہلے اسامہ کے لیے ہلاک ہونے کا لفظ استعمال کیا لیکن پھر فورا ان کو خیال آیا کہ نہیں، اسامہ تو شہید تھا اور پھر انہوں نے اس کے لیے شہید کا لفظ استعمال کر دیا۔
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے عمران خان کے دفاع میں کہنے کی کوشش کی کہ یہ ’سلپ آف ٹنگ‘ یا زبان کا پھسل جانا تھا لیکن مخالفین ان کی بات ماننے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری خود ایک حالیہ انٹرویو میں عمران خان کی ناراضی کے مستحق ٹھہرے جس میں انہوں نے حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر اسد عمر اور جہانگیر ترین کی مبینہ قیادت میں دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی بات کی تھی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے، جو اس وقت ایوان میں عمران خان کی بغل میں بیٹھے تھے، بھی بعد میں صحافیوں سے گفتگو میں اس کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ عمران خان کافی جذباتی انسان ہیں اور لگتا ہے کہ اس مرتبہ بھی جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ اب اسے واپس نہیں لایا جاسکتا لیکن خدشہ یہی ہے کہ ماضی کے طالبان خان کی طرح ان کا بن لادن بھی اب جان نہیں چھوڑے گا۔ ماضی میں جب تحریک انصاف حکومت میں نہیں تھی تو عمران خان خطے میں امریکی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ انہوں نے ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں بھرپور مہم چلائی اور قبائلی علاقے وزیرستان تک احتجاجی مارچ بھی کیا اور دستخط مہم چلائی۔ ان کا اصرار رہتا تھا کہ ڈرون حملے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہیں اور قانون کسی مشتبہ شخص کو اس کے اہل خانہ سمیت مارنے کی اجازت نہیں دیتا چاہیے وہ دنیا کا نمبر ون دہشت گرد ہی کیوں نہ ہو۔ اس وجہ سے عمران خان پاکستانی شدت پسندوں کی ‘گڈ بکس’ میں رہے اور انہوں نے کبھی انہیں تنگ نہیں کیا۔
تاہم پاکستان کی سول سوسائٹی اور لبرل پارٹیاں اس سے متفق نہیں رہیں۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر عمران خان کے بارے میں کہتی تھیں کہ وہ طالبان کے جاسوس ہیں۔ ان کی اپنی جماعت کے سابق رہنما جاوید ہاشمی کا ان پر الزام تھا کہ ڈرون مخالف مہم عمران خان کے کہنے پر نہیں بلکہ فوج کے کہنے پر چلا رہے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا: ’کراچی میں گاڑی چلاتے ہوئے بتایا کہ پاشا صاحب سے بات ہو گئی ہے۔‘ شجاع پاشا سابق سربراہ آئی ایس آئی تھے۔ عمران خان ہمیشہ افغانستان میں بھی طاقت کی بجائے سیاسی حل کی بات کرتے ہیں۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کا بھی وہ کریڈٹ لیتے ہیں لیکن ماضی میں مسئلہ یہ رہا کہ نہ امریکہ اور نہ ہی طالبان بات چیت کے لیے تیار رہے۔ تاہم پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ اسامہ کو ہزاروں پاکستانیوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ٹوئٹر کے ایک صارف ایس ایم طارق نے تنقید کچھ یوں کی۔ کئی لوگوں کو لاہور کے لبرل ایچی سن کالج، کیتھڈرل سکول، برطانیہ میں رائل گرامر سکول کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے عمران خان کے بائیں بازو کے سیاست دان ہونے اور اسامہ کے فین ہونے پر حیرت ہوتی ہے۔
کرسٹوفر سینڈفورڈ نے اپنی کتاب ’عمران خان: دی کرکٹر، دی سلیبرٹی، دی پالیٹیشن‘ میں عمران خان کی جوانی کے قصے تفصیل سے لکھے ہیں، لیکن کہا جاتا ہے کہ عمران خان 41 سال کے تھے جب انہوں نے اپنا ‘پلے بوائے’ والا تاثر بتدریج کم کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہیں میاں بشیر کی صورت میں ایک روحانی استاد ملے تھے۔ پھر سیاست کے میدان میں انہوں نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور ہارڈ لائنر جنرل حمید گل اور محمد علی درانی سے ہاتھ ملا لیے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ تحریک انصاف ’طالبان کے سرپرست‘ مولانا سمیع الحق کے بھی قریب آئے اور ان کے مدرسے کے لیے، جسے دنیا ’یونیورسٹی آف جہاد‘ کے نام سے جانتی ہے، خطیر سرکاری امداد مختص کی۔ انہیں جنرل پرویز مشرف کی شفقت بھی میسر رہی۔ پی ٹی آئی اپنے حامیوں کی وجہ سے پڑھی لکھی لبرل جماعت سمجھی جاتی رہی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس کی قیادت قدامت پسند رہی ہے۔ تحریک انصاف جس کے کارکنان دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی طرح نظریاتی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی تربیت کے عمل سے گزرے ہیں۔ لہذا اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ماضی کا طالبان خان آج عمران بن لادن بن چکا ہے۔
