کپتان کا فارن فنڈنگ کیس کی کاروائی لائیو دکھانے پر یوٹرن

یو ٹرن لینے کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دینے والے وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پی ٹی آئی کے خلاف زیر سماعت فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی لائیو ٹی وی چینلز پر دکھانے کی اپنی حالیہ پیشکش پر بھی یوٹرن لے لیا ہے۔
معلوم ہوا یے کہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کے پاس جمع کروائے گئے تحریری جواب میں تحریک انصاف کے وکیل نے ٹرائل اور پارٹی کی غیرملکی فنڈز کی اسکروٹنی کے عمل کے دوران رازداری ختم کرنے اور کیس کی سماعت براہ راست دکھانے کی وزیراعظم کی عوامی پیش کش سے لاتعلقی ظاہر کردی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 20 جنوری کو وانا کے دورے کے دوران پی ٹی آئی کے خلاف چلنے والے فارن فنڈنگ کیس کی اسکروٹنی کی مکمل کارروائی براہ راست دکھانے کی پیش کش کی تھی۔ پیپلزپارٹی اور نوازلیگ دونوں نے اس پیشکش کو قبول کیا تھا اور فوری طور پر اس پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی لیگل ٹیم نے ان کو اس آفر کی سنگینی کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے جس کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر تحریک انصاف کے وکیل نے اس پیشکش سے راہ فرار حاصل کر لی ہے۔ فارن فنڈنگ کیس کے روح رواں اکبر ایس بابر نے بھی وزیراعظم کی اس پیشکش کو خوش دلی سے قبول کیا تھا۔ عمران خان کی اس فراخدلانہ پیش کش نے درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کو 26 جنوری کو کمیٹی کے سامنے ایک درخواست دائر کرنے کا حوصلہ دیا جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی مالی دستاویزات کی نقول طلب کی جس میں 23 بینک اسٹیمنٹس بھی شامل تھیں۔ درخواست گزار نے الیکشن کمیشن کے 30 مئی 2018 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 4 دسمبر 2019 کے حکم کے علاوہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی شق 5 (4) اور الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 203 (5) کے تحت شکایت کنندہ کو حاصل قانون حق کے مطابق دستاویزات تک رسائی کا۔مطالبہ کیا۔
لیکن اپنے تحریری بیان میں پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے درخواست گزار کی پی ٹی آئی کے دستاویزات تک رسائی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے بیان کو غلط سمجھا گیا ہے۔ انہوں نے کہیں بھی اور کبھی بھی پارٹی کے مالی معاملات کی دستاویزات اور اسکروٹنی کمیٹی کا جمع کردہ مواد شکایت کنندہ کو فراہم کرنے کا عندیہ نہیں دیا اور نہ ہی سکروٹنی کے عمل کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی پیش کش کی ہے‘۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ اکبر ایس بابر کو کسی قسم کی کوئی دستاویزات فراہم نہ کی جائیں۔
ادھر درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل سید احمد حسین شاہ نے مسلسل اس بات کو دوہرایا کہ فارن فنڈنگ کیس کی دستاویزات تک رسائی ان کا قانونی حق ہے جس کی توثیق الیکشن کمیشن کے اپنے احکامات کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بھی تب کی گئی جب پی ٹی آئی نے درخواستیں دائر کیں اور درخواست گزاروں سے رازداری کا مطالبہ کیا۔ احمد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ’درخواست گزار کس طرح اسکروٹنی کمیٹی کی رہنمائی کرسکتا ہے جب ثبوت کی اہم چیزیں خفیہ ہوں‘۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا فارن فنڈنگ کیس کی رازداری کو ختم کرنے اور کارروائی براہ راست نشر کرنے کا بیان صرف عوام کی توجہ حاصل کرنے اور خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے تھا تاکہ انہیں گمراہ کیا جاسکے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’کیس میں جب شفافیت کی بات آتی ہے تو پی ٹی آئی کا برا ریکارڈ ہے‘۔ اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس کہتے ہیں کہ انکوائری دونوں فریقین کی موجودگی میں ہونی چاہیے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے اسکروٹنی کے عمل کو روکنے کا کہا جارہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار اور لوگوں کو حقائق جاننے کا حق ہے جنہیں غیرقانون طور پر دستاویزات خفیہ رکھ کر ایک پارٹی کی جانب سے چھپایا جارہا ہے۔
اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹس اشارہ دیتی ہیں کہ تباہ ہونے والے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہم فنانسر تھے جبکہ آج تک پارٹی کی جانب سے اس الزام کی تردید نہیں کی گئی اور نا ہی کوئی متعدد درخواستوں کے باوجود معاملے کی تحقیقتات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور دیگر جگہ سے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے جبکہ اس سلسلے میں درخواست گزار کی جانب سے جمع کرائے گئے ثبوت کی توثیق کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے وزیراعظم عمران خان پر بطور تحریک انصاف کے سربراہ بھارت اور امریکی یہودی لابی سے غیر قانونی طور پر فنڈنگ لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے لیکن ہمارے ادارے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کر رہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانی تاریخ کے اس دھماکہ خیز سکینڈل میں وسیع پیمانے پر مالی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے علاوہ سب سے حساس معاملہ پی ٹی آئی کو پاکستان کے ازلی دشمن ممالک سے غیر قانونی طریقے سے فنڈز ملنے کا ہے خصوصا جبکہ سب جانتے ہیں کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ فنڈنگ کے ذریعے سے سیاسی جماعتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔
اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ اگر فارن فنڈنگ کیس ثابت ہو گیا تو پارٹی کے مالی معاملات مینج کرنے والے تمام پارٹی عہدیدار خصوصا عمران خان کٹہرے میں آئیں گے اور ان پر سیاسی جماعت کا عہدہ رکھنے پر تاحیات پابندی عائد ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے برس ہا برس کیس چلنے کے بعد اب اچانک غیر قانونی فنڈنگ لینے کا الزام قبول کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری اپنے دو ایجنٹوں پر ڈال دی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ دو ایجنٹ دو اشخاص نہیں بلکہ دو امریکی کمپنیاں ہیں جو کہ عمران خان کے احکامات پر رجسٹرڈ ہوئیں۔ اکبر ایس بابر نے بتایا کہ ان دونوں کمپنیوں کے بورڈ آف گورنرز بھی عمران خان کے احکامات سے مقرر ہوئے اور ان دونوں کمپنیوں کے مرکزی آفس کا ایڈریس پر بھی پی ٹی آئی کا سینٹرل آفس درج ہے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے سامنے تحریری طور پر تسلیم کیا ہے کہ ان دو کمپنیوں کو امریکی اور دیگر غیر ملکیوں اشخاص اور اداروں سے تحریک انصاف کے لیے فنڈنگ ہوئی۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ عمران خان کے دوست اور یوٹیلٹی اسٹورز کے چیئرمین ذوالقرنین علی خان نے مشرق وسطیٰ سے کروڑوں روپے کی فنڈنگ تسلیم کی ہے جو ہنڈی کے ذریعہ پرائیویٹ بینک اکاؤنٹس میں پاکستان منتقل ہوئی۔ پارٹی قیادت پر فنڈز میں خورد برد کا الزام عائد کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ ڈنمارک، آسٹریلیا اور کینیڈا سے کی گئی فنڈنگ کی کہیں نشاندہی نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ ہنڈی کے ذریعہ پی ٹی آئی کو ایسے ممالک سے فنڈنگ ہوئی جس کی تفصیلات سامنے لے آؤں تو بھارت میں بھی سیاسی واویلا مچ جائے، انہوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو بھارت سے بھی بڑے پیمانے پر فنڈنگ ہوئی، اور امریکا سے آنے والی فنڈنگ میں کانگریس کے یہودی لابسٹ کا نام نمایاں ہے۔
اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ نے فارن فنڈنگ کیس کا ریکارڈ پبلک قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود سکروٹنی کمیٹی ہمیں اسکا ریکارڈ فراہم نہیں کررہی، انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے دباؤ کی وجہ سے انہیں ریکارڈ نہیں دے رہی۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ اگر اسکروٹنی کمیٹی ہی ملزم کے دباؤ میں کام کر رہی ہے تو اس کیس کی آزادانہ تحقیقات کیسے ہوں گی، انکا۔کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں آج تک پی ٹی آئی کا کوئی اکاؤنٹ نہیں دکھایا۔
اکبرایس بابر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ فنڈنگ کے ذریعہ سیاسی جماعتوں پر اثرانداز ہوتی ہے، لہذا پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ قومی سلامتی کا معاملہ ہے لیکن اس ایشو پر آئینی اداروں کو ابھی تک اپنی قومی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوا۔
