کپتان کا چھکا، ایک روز میں 35 لاکھ پودے کاشت کرنے کا دعویٰ

ماضی میں کرکٹ کے میدان میں لمبے چھکے مارنے کی وجہ سے معروف وزیراعظم عمران خان نے ایک لمبا چھکا مارتے ہوئے یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کرونا ٹائیگر فورس نے اتوار 9 اگست 2020 کے روز چوبیس گھنٹوں کے دوران پاکستان بھر میں 35 لاکھ نئے پودے کاشت کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا یے۔
عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان کی کرونا ٹائیگر فورس کی جانب سے لگائے گے. یہ 35 لاکھ پودے شروعات ہیں، ابھی ایک لمبی جنگ چلے گی۔ ہم نے اپنے ملک کو بہتر کرنے کا راستہ شروع کر دیا ہے۔
عام پاکستانی عوام کے لئے یہ تقریب کرونا ٹائیگر فورس کی رونمائی کی تقریب تھی کیونکہ چار مہینے پہلے اپنے قیام کے بعد سے یہ پہلا موقع تھا کہ ٹائیگر فورس کے کچھ لوگ نظر آئے اور پتہ چلا کہ وہ دراصل کرونا کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے تھے بلکہ پودے لگانے میں مصروف ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید بتایا کہ ہم نے شہروں کے اندر بھی ایسی کوئی جگہ نہیں چھوڑنی کہ جہاں ہم درخت نہ لگائیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک توقف کے بعد کہا کہ ایک درخت اگانا بھی صدقہ جاریہ ہوتا ہے اور ہم نے اپنے ملک کو ہرا بھرا کرنا ہے۔ عمران خان نے خبردار کیا کہ اگر شجر کاری نہ کی گئی اور یہی صورتحال رہی تو ملک ریگستان بن جائے گا۔
واضح رہے کہ ورلڈ بینک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں ایسے چھ اضلاع کی نشاندہی بھی کی ہے جہاں اگر شجرکاری نہ کی گئی تو وہ 2050 تک ریگستان بن جائیں گے۔ ان چھ علاقوں سے متعلق جاننے سے قبل عمران خان کی طرف سے شروع کی گئی شجر کاری مہم کی تفصیلات جاننا بھی ضروری ہیں۔

وزیر اعظم نے پاکستان میں دس بلین درخت لگانے کا ہدف بتایا ہے۔ اس مہم کی تفصیلات بارے عمران خان کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ دس بلین درختوں کا ہدف پانچ برس کے لیے ہے۔ پلان کے مطابق پہلے تین سال میں 3.2 بلین درخت لگائے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں کل 30 کروڑ پودے نرسریوں میں موجود ہیں۔ ملک امین اسلم کے مطابق جتنا سٹاک ہو گا اس حساب سے یہ شجر کاری مہم آگے بڑھے گی۔ ان کے مطابق ہدف کے مطابق اگلے سال جون تک ایک بلین درخت لگا دیے جائیں گے۔ اس ایک بلین کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دسمبر تک 20 کروڑ درخت لگائے جائیں گے اور پھر مزید 30 کروڑ درخت جون تک لگا دیے جائیں گے۔ملک امین اسلم کے مطابق اس وقت تک پاکستان 50 کروڑ درخت لگا چکا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا پہلا سال اس منصوبے کی فزیبیلٹی اور فنانسنگ کی نظر ہو گیا جبکہ شجر کاری کا آغاز دوسرے سال سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔
ملک امین اسلم کے مطابق حکومت نے ملک میں ان تمام جگہوں کی نشاندہی کر رکھی ہے جہاں یہ شجر کاری ہونی ہے۔ ان کے مطابق اس مہم میں سندھ حکومت بھی وفاقی حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے۔ یہ شجر کاری مہم صرف سرکاری زمینوں پر ہی نہیں بلکہ نجی زمینوں پر بھی کی جائے گی۔ جو درخت لگائے جائیں گے ان میں کم از کم دس فیصد پھلدار ہوں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے شجر کاری مہم کے سلسلے میں ٹائیگر فورس کی خصوصی تعریف کی ہے اور کہا کہ ان کی وجہ سے 35 لاکھ درخت ایک ہی دن یعنی اتوار کے دن لگائے گئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔خیال رہے کہ کورونا ریلیف آپریشن میں کام کرنا ہو یا پھر لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچانا ہو، یہی نہیں بلکہ وزیر اعظم عمران نے ٹڈی دل کے خلاف آپریشن میں بھی ٹائیگر فورس سے کام لینے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس مارچ میں ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کیا اور اپریل میں اس کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ جس کے بعد حکومت کی جانب سے یہی کہا جاتا رہا کہ ٹائیگر فورس بخوبی اپنا کام سر انجام دے رہی ہے۔ تاہم حقیقت یہ تھی کہ ٹائیگر فورس کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی۔
ملک امین اسلم کے مطابق شجری کاری مہم میں ٹائیگر فورس کا کردار محض رضاکارانہ ہے جبکہ اس مہم میں 99 فیصد کام حکومت کے اپنے ادارے ہی کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس مہم میں عوام کا تعاون از حد ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں وزیرِ اعظم عمران خان نے ’کلین گرین چیمپیئنز مہم‘ کا بھی آغاز کیا تھا جس کے تحت رضاکاروں کو اپنے اپنے علاقے میں صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنے اور اس حوالے سے آگاہی پھیلانے پر پوائنٹس دیے جانے کا اعلان کیا تھا۔وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس حوالے سے کام کریں کیونکہ کوئی حکومت یہ کام اکیلے نہیں کر سکتی۔‘
